ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن میں ناکامی

ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن میں ناکامی

راجن پور کیکچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن بظاہر ناکام ہوگیا ہے۔ پولیس کی ناکامی کے بعد اب فوج کی مدد حاصل کی جا رہی ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن یا تو بغیر کسی منصوبہ بندی کے شروع کر دیا گیا تھا یا پھر پولیس کے جن اہلکاروں کو اس آپریشن میں ڈیپلائے کیا گیا وہ اس کام کے لئے تربیت یافتہ نہیں تھے۔ اسلحہ اور گولہ بارود تو رہا ایک طرف، اگر لڑنے والوں کو کھانا بھی بروقت نہ پہنچ سکے تو ایسے آپریشن کے واقعتاً ناکام ہو جانے میں کس کو شبہ ہوسکتا ہے۔ 100 ڈاکوؤں نے اگر چھ ہزار پولیس اہلکاروں کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے تو یہ پولیس کی صلاحیتوں اور اہلیت پر سوالیہ نشان ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پولیس اہلکار آپریشن کے لئے تیار نہیں تھے اور یہ معاملہ آئی جی کے نوٹس میں بھی لایا گیا تھا لیکن اس کے باوجود انہوں نے پولیس فورس اس آپریشن میں جھونک دی۔

ویسے اس طرح کے آپریشنوں میں کامیابی اور ناکامی کے امکانات تو ہوتے ہیں لیکن اگر منصوبہ بندی میں ہی کوئی خرابی ہو تو پھر اس کا جواب ان لوگوں سے طلب کرنا چاہیئے جنہیں اس کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ ڈاکو گینگ جدید ہتھیاروں سے مسلح ہے اور ان ہتھیاروں کا استعمال بھی اچھی طرح سے جانتا ہے، اس پر قابو پانے کے لئے زیادہ بہتر اسلحہ اور بہتر تربیت یافتہ افراد کی ضرورت ہے، اس ناکامی کے بعد اب فوج اور رینجرز کی معاونت سے آگے بڑھنا چاہیئے تاکہ پولیس پر ناکامی کا جو داغ لگ چکا ہے وہ دھویا جاسکے۔

مزید : اداریہ