ملکی معیشت میں پہلی سہ ماہی کے دوران مستحکم ترقی دیکھنے میں آئی :چین

ملکی معیشت میں پہلی سہ ماہی کے دوران مستحکم ترقی دیکھنے میں آئی :چین

بیجنگ(این این آئی)اس سال کی پہلی سہ ماہی میں چین کی معاشی ترقی میں اضافے کی رفتار گزشتہ سات برسوں میں سب سے زیادہ سست رہی لیکن پیشین گوئیاں ہیں کہ دنیا کی بڑی معیشتوں میں شمار ہونے والے چین میں اقتصادی بہتری کا وقت پھر آنے والا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق چین کے شماریات کے قومی محکمے این بی ایس کے جاری کیے گئے اعداد و شمار میں بتایاگیا کہ مارچ میں برآمدات کی شرح میں 11.5 فیصد سالانہ کے حساب سے اضافہ ہوا۔

،چین کے شماریات کے قومی محکمے این بی ایس نے جو اعداد و شمار جاری کیے ، وہ اس ملک کی معاشی حالت کی بحالی کی تازہ ترین علامت ہیں۔ ان اعدداد و شمار کے مطابق مارچ میں برآمدات کی شرح میں 11.5 فیصد سالانہ کیحساب سے اضافہ ہوا۔ یہ اضافہ بھی نہ صرف توقعات سے بڑھ کر رہا بلکہ اس سے گزشتہ آٹھ ماہ سے مسلسل نیچے جاتی شرحوں کا رجحان بھی بالآخر ٹوٹ گیا۔ کارخانوں کی سرگرمیوں سے متعلق ایک اہم سرکاری انڈیکس سے بھی گزشتہ نو مہینوں کے دوران پہلی مرتبہ برآمدات میں اضافے کا اندازہ ہوتا ہے۔چین کے شماریات کے قومی محکمے کے ترجمان شینگ لائیون کے مطابق ملکی معیشت میں پہلی سہ ماہی کے دوران ’مستحکم ترقی‘ دیکھنے میں آئی ہے اور یہ کہ اعداد و شمار اہم شعبوں میں مثبت تبدیلیوں کی جانب اشارہ کر رہے ہیں۔ساتھ ہی ترجمان نے خبردار کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں یہ بھی پتہ ہونا چاہیے کہ ہم تبدیلی کے عمل سے گزر رہے ہیں اور ایک ایسے نازک مرحلے پر ہیں، جہاں ہم اقتصادی ترقی کے پرانے محرکات کی جگہ نئے محرکات لا رہے ہیں۔ ترجمان نے محتاط طرزِ عمل اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ اقتصادی ترقی میں اضافے کی رفتار توقعات سے بڑھ کر ہے لیکن عالمی معیشت میں اْتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے، جو چین کی مثبت توقعات کو متاثر بھی کر سکتا ہے۔چین کی مجموعی قومی پیداوار میں 2016ء کے پہلے تین مہینوں کے دوران 6.7 فیصد کے حساب سے اضافہ ہوا، یہ وہی درمیانی شرح تھی، جس کا اْن ماہرینِ اقتصادیات نے ذکر کیا تھا،ساتھ ہی ساتھ یہ شرح اْن حکومتی اہداف کے بھی اندر اندر تھی، جن کے مطابق اس سال نمو کی شرح 6.5 اور 7.0 فیصد کے درمیان رہنی چاہیے۔ دنیا کی دوسری بڑی معیشت چین کے لیے ایک اور اچھی خبر یہ تھی کہ مارچ کے مہینے میں صنعتی پیداوار میں اضافے کی شرح بڑھ کر 6.8 فیصد تک پہنچ گئی۔ یہ شرح نہ صرف گزشتہ مہینے یعنی فروری کے مقابلے میں زیادہ رہی بلکہ توقعات سے بھی بڑھ کر تھی۔

مزید : کامرس