فاروق گنج ،چھت گرنے سے ہلاکتیں ،ایک ہی خاندان کے 5افراد سپرد خاک ،فضا سوگوار ،ہر آنکھ اشکبار

فاروق گنج ،چھت گرنے سے ہلاکتیں ،ایک ہی خاندان کے 5افراد سپرد خاک ،فضا سوگوار ...

لا ہور (سٹی ر پو رٹر ) مصر ی شاہ کے علاقہ محلہ فاروق گنج میں مکان کی چھت گرنے سے ایک ہی خاندان کے جا ںؓ بحق ہو نے والے 5 افراد کی نعشیں پو لیس نے ضروری کا رروا ئی کے بعد ور ثا کے حوالے کردیں ، نعشیں گھر پہنچنے پر کہرا م بر پا ہو گیا ،ہر آنکھ اشکبار ، فضا سوگوارہوگئی، بعدازا ں مرنے والوں کو میانی صاحب قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا ۔وزیر اعلی ٰ پنجا ب میا ں شہباز شریف نے واقعہ کا نو ٹس لیتے ہو ئے ضلعی انتظا میہ سے ر پورٹ طلب کر لی جبکہ جا ں بحق ہو نے والو ں کے ورثاکے لئے مالی امداد کا اعلا ن بھی کیا ۔ تفصیلا ت کے مطابق زبیر اپنی بیوی اور چار بچوں کے ساتھ فاروق گنج کے مکان میں رہائش پذیر تھا۔جمعرات کی رات مکان کی چھت اچانک زمین بوس ہو گئی۔ چھت گرنے سے گھر میں موجود زبیر کی بیوی اور چار بچے ملبے تلے دب گئے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور ریسکیو سرگرمیوں کا آغاز کردیا ،امدادی ٹیموں نے 5 افراد کو ملبے سے نکال کر ہسپتا ل پہنچایا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔ ریسکیو حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں ماں اور 4 بچے شامل ہیں جن کی شناخت والدہ ارم، شایان، نمرہ ، عمیر،9 سالہ عبدالرحمان کے ناموں سے ہوئی ۔ بوسیدہ گھر کی گرنے والی چھت نے خاندان کے سربراہ زبیر کی دنیا ہی اجاڑ دی۔ اس کی بیوی اور چار بچے ملبے تلے دم توڑ گئے۔ خود پر گزرنے والی قیامت زبیر کی آنکھوں سے آنسو اور سسکیاں تھمنے نہیں دے رہی۔ عزیز و اقارب اور اہل محلہ بھی اس المناک واقعہ پر غم میں ڈوبے ہوئے ہیں۔پو لیس نے نعشیں ضروری کا رروائی کے بعد ور ثا کے حوالے کردیں ۔نعشیں گھر پہنچنے پر کہرا م مچ گیا ، علاقے کی فضا سوگوار اورہر آنکھ اشک بار تھی ۔بعدازا ں متو فین کو سینکڑو ں سوگوارو ں کی موجودگی میں نماز جنازہ ادا کر کے میانی صاحب قبرستان میں سپر خاک کر دیا گیا۔مر نے والے بچو ں کے والد زبیر کا کہنا تھا کہ اتوار کو لاہور میں آنے والے زلزلے کے بعد اس کا گھر کمزور پڑ گیا تھاجس کی وجہ سے سانحہ پیش آ یا ۔ اہل علاقہ کا کہنا تھا کہ زبیر کے بچے چھت گرنے کے واقعے سے 15 منٹ قبل ہی ٹیوشن پڑھ کر گھر پہنچے تھے اورحادثہ کاشکارہوگئے ،انہوں نے کہا کہ اگر ریسکیو اہلکا ر جلد ی آ جا تے تو شاید کچھ جا نیں بچ جا تیں، ریسکیوٹیم اطلا ع کے 25منٹ بعد مو قع پر پہنچی اور کا رروا ئی شروع کی جبکہ اس سے قبل ہم اپنی مد د آ پ کے تحت ملبے کوہٹا ر ہے تھے ۔ اس حوالے سے ریسکیو انتظامیہ کا کہنا تھا کہ اطلا ع ملنے کے 10منٹ بعد موقع پر پہنچ کر کا رروا ئی شروع کردی تھی، مکان انتہائی خستہ حال تھا اور حالیہ زلزلے کے باعث اس میں دراڑیں پڑچکی تھیں جس کے باعث عمارت گرگئی ۔

مزید : علاقائی