ایچ ای سی کا 2800طلباء کے مستقبل سے کھیلنا تعلیم دشمنی ہے، اکرم رضوی

ایچ ای سی کا 2800طلباء کے مستقبل سے کھیلنا تعلیم دشمنی ہے، اکرم رضوی

لاہور(خبرنگار خصوصی) ایچ ای سی کا 2800طلباء کے مستقبل سے کھیلنا تعلیم دشمنی ہے ۔ایچ ای سی کے آئن لائن سسٹم میں خرابی اور ایم فل اور پی ایچ ڈی کے 3500طلباء کو سکالر شپ سے محروم رکھنا ایچ ای سی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی ویب سائٹ پر صدر پاکستان اور وزیر اعظم پاکستان کے نام سے منسوب ڈمی پیغام سے دنیا بھر میں پاکستان کی بدنامی اور جگ ہنسائی ہوئی ہے ۔ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر فی الفور عملدرآمد کروائے جائے ۔ڈگریوں کے معاملے میں اب تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی ۔طلباء کا تعلیمی وقت ضائع کرنے والے چےئرمین ایچ ای سی کو نشان عبرت بنایا جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی ہزاروں طلباء کے روشن مستقبل کو تاریک کرنے کی سازش نہ کرے ۔ان خیالات کا اظہار انجمن طلباء اسلام لاہور ڈوثیرن کے ناظم محمد اکرم رضوی،ناظم ضلع لاہور عامر اسماعیل نے مقامی ہوٹل میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

انہوں نے کہا لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔لاہورہائی کورٹ نے ہائر ایجو کیشن کمیشن کی کار گردگی کا پول کھل دیا ہے ۔ ہائر ایجو کیشن کمیشن کی کارکر دگی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہائر ایجو کیش سیکٹر مختلف تنازعات کا شکار ہے ، بین الاقوامی رینکنگ میں کوئی بھی پاکستانی جامعہ ٹاپ 400جامعات میں جگہ نہ بنا سکی ، موجودہ چیئر مین ایچ ای سی کی تقرری کا معاملہ بھی اسلام آباد ہائیکورٹ اور لاہور ہائیکورٹ میں چل رہا ہے جبکہ ایچ ای سی ملازمین نے اپنے حقوق کی داد رسی کے لئے پانچ کے لگ بھگ درخواستیں دائر کی ہوئی ہیں ،لیپ ٹاپ سکیم میں بے قاعد گیوں ، غیر منصفانہ تقسیم جاری ہے مگرمتعلقہ حکام سب اچھا ہے کی رٹ لگائے ہوئے ہیں ۔ وڈیروں ،جاگیرداروں،حکمرانوں اور بیو رو کریٹس نے غریب سے حصول تعلیم کا حق چھین رکھا ہے ،ایچ ای سی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے احکامات پر عملدرآمد نہیں کر رہی ۔سال بھر ہزاروں طلباء کے مستقبل سے کھیلنے والے چےئرمین ہائیر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر مختار احمد اور دیگرمکروہ کرداروں کو بھی بے نقاب کرکے انکے خلاف سخت کاروائی کی جائے ۔اور کسی دیانتدار اور فرض شناس افسر کو ہائیر ایجوکیشن کمیشن کا جےئرمین تعینات کیا جائے تاکہ طلباء برادری میں پایا جانے والااضطراب مزید فروغ نہ پا سکے ۔

مزید : میٹروپولیٹن 4