سب ملاقاتیں بیکار۔ سیاسی صف بندی پرانی ہی ہے

سب ملاقاتیں بیکار۔ سیاسی صف بندی پرانی ہی ہے
سب ملاقاتیں بیکار۔ سیاسی صف بندی پرانی ہی ہے

  

ملک کے سیاسی منظر نامہ میں نئی صف بندیوں کی کوشش نظر آرہی ہے۔لیکن حیرانگی کی بات یہ ہے کہ اس ساری کوشش کے باوجود سیاسی صف بندی وہیں موجود ہے جہاں گزشتہ دھرنے کے وقت موجود تھی۔ اس میں انیس بیس کا فرق تو ہے۔ لیکن سیاسی صف بندی وہی ہے جو گزشتہ دھرنے کے وقت تھی۔ ایک طرف تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی حکومت کے خلاف ایک نئے اتحاد کے لئے کوشاں ہیں۔ وہ گھر گھر جا رہے ہیں اور حکومت کے خلاف ایک بڑے اتحاد کے لئے کوشاں ہیں یہ الگ بات ہے کہ ان کی جماعت کے سربراہ عمران خان اپنی پسندیدہ ٹیم جہانگیر ترین اور علیم خان کے ساتھ برطانیہ روانہ ہو گئے ہیں۔ اور سفر میں ان کی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کے ساتھ بھی طویل ملاقات ہو گئی ہے۔گو کہ تصویر تو عمران خان جہانگیر ترین اور علیم خان کی ہی جاری ہوئی ہے لیکن اطلاعات یہی ہیں کہ عمران خان نے چودھری نثار علی خان کے ساتھ ہی زیادہ وقت گزارا ہے۔ جس میں ایف نائن میں جلسہ سمیت تمام اہم امور طے پا گئے ہیں۔ ایک نکتہ یہ بھی طے پا یا ہے کہ اگر حکومت چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں کمیشن بنا دے گئی تو عمران خان رائے ونڈ پر دھرنا نہیں دیں گے۔ یہ الگ بات کہ گزشتہ اڑتالیس گھنٹے سے چیف جسٹس پاکستان باآواز بلند اعلان کر رہے ہیں کہ چیف جسٹس یا سپریم کورٹ کا کوئی بھی جج اس کمیشن کی سربرای قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔

اگر عمران خان اور چودھری نثار علی خان کی طویل سفری ملاقات کے سامنے آنے والے مندرجات کو من و عن درست مان کر قبول کر لیا جائے تو ایک راستہ تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حکومت عمران خان کی شرط مان کر چیف جسٹس پاکستان کو کمیشن بنانے کے لئے خط لکھ دے اور وہ انکار کردیں ۔ جس کی پہلے بھی مثال موجود ہے۔ دوسری طرف حکومت نے بھی سیاسی جماعتوں سے رابطے تیز کر دئیے ہیں۔ تا کہ وہ بھی اپنی صف بندی قائم رکھ سکیں۔ لیکن اس معاملہ کو ایک طرف رکھ کر سیاسی صف بندی کا ازسر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ بلاول بھٹو نے ٹویٹ کر دیا ہے کہ ان کے والد سابق صدر آصف زرداری وزیر اعظم میاں نواز شریف کے ساتھ ملاقات نہیں کریں گے۔ قدرت کی ستم ظریفی دیکھیں کہ آصف زرداری کس سے ملاقات کریں گے اور کس سے ملاقات نہیں کریں گے۔ یہ فیصلہ بھی اب بلاول بھٹو ہی کریں گے۔ اس ٹویٹ سے مجھے ماضی کا ایک مشہور ٹویٹ یاد آگیا جب عمران خان نے ایک ٹویٹ سے اپنی اس وقت کی بیگم ریحام خان پر سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر پابندی لگا دی تھی۔ لیکن اس ٹویٹ کے بعد یہ شادی زیادہ دن چل نہیں سکی تھی۔ لیکن آصف زرداری اور بلاول بھٹو کا رشتہ ٹوٹنے والا نہیں ہے۔ ا س میں طلاق کی کوئی گنجائش نہیں۔ بہر حال اب صورتحال یہ ہے کہ آصف زرداری اور میاں نواز شریف کی لندن میں ملاقات نہیں ہو رہی۔ لیکن اس کے ساتھ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ عمران خان اور آصف زرداری کی بھی لندن میں حکومت کے خلاف کسی بڑے الائنس کے لئے کوئی ملاقات نہیں ہو رہی۔ دوسری طرف بلاول بھٹو کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں یہ فیصلہ ہو گیا ہے کہ پیپلزپارٹی تحریک انصاف کی دھرنا سیاست کا حصہ نہیں بنے گی۔ میاں نواز شریف کی خواہش کا احترام کر دیا ہے۔ اب اگر پیپلزپارٹی اپنی سیاسی ساکھ کی بحالی کے لیے ملاقات نہ کر کے کوئی سیاسی پوائنٹ سکورنگ کرنا بھی چاہتی ہے تو میاں نواز شریف ان کی ٹیم اور حکومت کو کوئی اعتراض نہیں ہو نا چاہئے۔ اس طرح سیاسی صف بندی میں پیپلز پارٹی اپوزیشن کی سب سے بڑی پارلیمانی جماعت ہونے کے ساتھ ساتھ گزشتہ دھرنے کی طرح حکومت کے ساتھ ہی کھڑی ہے۔ اس کی پوزیشن میں عملی طور پر کوئی فرق نہیں۔ دھاندلی والے دھرنے کے موقع پر بھی پیپلزپارٹی دھاندلی کی تحقیقات کی حمائت کرتی تھی لیکن دھرنے کے خلاف تھی۔ اب بھی پیپلزپارٹی پانامہ لیکس کی تحقیقات کی حمائت کرتی ہے لیکن اس ضمن میں کسی دھرنے کے خلاف ہے۔ ایم کیو ایم ماضی کی طرح بالکل حکومت کے ساتھ کھڑی ہے۔ وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ سے ملاقات میں فاروق ستار نے ببانگ دہل کہ دیا ہے کہ کمیشن حاضر سروس جج پر ہو یا سابق جج پر ایم کیو ایم کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ان کے مطابق یہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے۔ اللہ کے فضل سے دھرنے کے وقت بھی ایم کیوایم کا یہی موقف تھا انہیں دھاندلی کی کسی بھی تحقیقات میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ وہ حکومت کے ساتھ تھے۔ اور اب بھی ہیں ۔

پارلیمنٹ کی ایک بڑی قوت مولانا فضل الرحمٰن ہیں۔ وہ ماضی میں بھی حکومت کے ساتھ تھے۔ اور اب بھی حکومت کے ساتھ ہیں۔ ان کی سیاسی صف بندی میں بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ محمود خان اچکزئی سمیت دیگر قوم پرست جماعتیں بھی حکومت کے ساتھ کھڑی ہیں۔ پانامہ لیکس ان کا مسئلہ نہیں ہے۔اگر کوئی تبدیلی آئی ہے تو آفتاب شیر پاؤ کی جماعت میں آئی ہے۔ جب دھاندلی کے خلاف دھرنا ہوا تھا تب آفتاب شیر پاؤ کی جماعت کو عمران خان نے کرپشن کے الزمات کے تحت کے پی کے کی حکومت سے بر طرف کر دیا تھا۔ اس لئے وہ عمران خان سے رسوا ہو کر میاں نواز شریف کے کیمپ میں آگئے تھے۔ اور دھرنے کے دنوں میں پارلیمنٹ میں عمران خان کے خلاف بڑی بڑی تقریریں کر رہے تھے۔ لیکن اب عمران خان کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہوا ہے۔ او ر انہوں نے آفتاب شیر پاؤ کی جماعت کو ڈرائی کلین کر کے واپس کے پی کے کی حکومت میں شامل کر لیا ہوا ہے۔ اس لئے اب وہ عمران خان اور تحریک انصاف کے ساتھ ہیں۔ یہ سیاسی صف بندی میں قایک قابل ذکر واضح تبدیلی ہے جو نظر آرہی ہے۔

اسی طرح جماعت اسلامی گزشتہ دھرنے میں ریفری کا کردار ادا کر رہی تھی۔ جناب سراج الحق کی مصالحتی کوششوں اور جرگہ کو بہت پذیر ائی ملی تھی۔ لیکن اب سراج الحق بھی کسی مصالحتی موڈ میں نہیں۔ وہ عمران خان کے ہم قدم تو شائد ابھی نہیں ہوئے لیکن ہم آواز ضرور ہیں۔ ان کا اور عمران خان کا موقف ایک ہے۔ اس لئے شائد اب وہ بھی سیاسی صف بندی میں عمران خان کے ساتھ ہوں۔ اس طرح یہ بھی ایک تبدیلی ہے۔ باقی سارا منظر پرانا ہے۔ یہ ماننا ہو گا کہ جن قوتوں نے ماضی میں دھاندلی کے خلاف دھرنا دلوایا تھا۔ انہوں نے ا س دھرنے سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ وہ اپنی سیاسی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکے۔ آج بھی بڑی سیاس جماعتیں ماضی کی طرح ان کے ساتھ نہیں ہیں۔ اس لئے سکرپٹ بھی پرانا ہے۔ اور صف بندی بھی پرانی۔ اس لئے نتیجہ بھی پرانا ہی نکلے گا۔

مزید :

کالم -