مسلمان ممالک کو دہشتگردی کیخلاف اتحاد بنانے پر رضا مند کر لیا :رجب طیب اردوان

مسلمان ممالک کو دہشتگردی کیخلاف اتحاد بنانے پر رضا مند کر لیا :رجب طیب اردوان

انقرہ(مانیٹرنگ ڈیسک) ترک صدر رجب طیب اردوان نے اعلان کیا ہے کہ وہ او آئی سی کے اجلاس میں تمام مسلمان ممالک کو دہشت گردی کے خلاف ایک اتحاد بنانے پر رضامند کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق رجب طیب نے استنبول میں ہونے والے او آئی سی کے 13ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ ’’اس وقت امت مسلمہ کو جو سب سے بڑا مسئلہ درپیش ہے وہ دہشت گردی ہے، لہٰذا ہمیں اس مسئلے کے حل کے لیے متحد ہونا ہو گا۔‘‘رپورٹ کے مطابق دہشت گردی کے خاتمے کے لیے انہوں نے مسلم رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ آپس کے اختلافات ختم کریں اور اس ناسور کے خاتمے کے لیے متحد ہو جائیں۔ ہمیں اب دوسرے ممالک کی فوجوں کی طرف دیکھنا بند کرنا چاہیے۔ مسلم ممالک میں دہشت گردی کی جو وارداتیں ہوتی ہیں اب ہمیں خود ان کو روکنے کے لیے متحد ہو کر دہشت گردوں کے خلاف میدان میں اترنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے مسئلے کے حل کے لیے اب ہمیں اس کے خلاف اتحاد بنانا ہو گا۔بعد ازاں رجب طیب اردوان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یہ خوشخبری سنائی کہ دہشت گردی کے خلاف اسلامی اتحاد کی تجویز او آئی سی کے 57رکن ممالک نے قبول کر لی ہے۔اس اتحاد کا مرکزی دفتر ترکی کے شہر استنبول میں ہو گا۔ ترک وزیر اعظم احمد داؤد اوگلو نے کہا ہے ترکی کشمیر سمیت تمام معاملات پر پاکستان کے ساتھ ہے ،دونوں ممالک میں معیشت اور دفاع سمیت تمام شعبوں میں تعاون بڑھایا جائے گا۔نجی ٹی وی کے مطابق ترک وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ تذویراتی تعاون کونسل کا آئندہ اجلاس ترکی میں ہوگا جس میں ہم اپنے بھائی وزیر اعظم نواز شریف کی شرکت کے منتظر ہیں۔اجلاس میں دو طرفہ تعاون سمیت تمام معاملات پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔ترک وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں اور کشمیر سمیت تمام معاملات پر پاکستان کے ساتھ ہیں۔

مزید : صفحہ اول