پاناما لیکس انکوائری کمیشن کے ابتدائی خدوخال تیار ،حکومت کےسیاستدانوں اور وکلاء سے رابطے جاری

پاناما لیکس انکوائری کمیشن کے ابتدائی خدوخال تیار ،حکومت کےسیاستدانوں اور ...

لاہور(سعید چودھری )اٹارنی جنرل پاکستان اشتر اوصاف علی نے کہا ہے کہ پاناما لیکس کے حوالے سے انکوائری کمیشن کے خدو خال تیار کرلئے گئے ہیں ،انکوائری کمیشن تین رکنی ہوگا جس کے سربراہ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج ہوں گے جبکہ دیگر ارکان میں فرانزک اکاؤنٹس کے ماہرین اور ٹیکنوکریٹس شامل ہوں گے ۔روزنامہ پاکستان سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کل 17اپریل تک اس معاملے کاکوئی نہ کوئی حل نکل آئے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ انکوائری کمیشن کے سربراہ سابق جج کا تعلق سندھ یا خیبر پختونخوا سے ہوسکتا ہے تاہم انہوں نے اس حوالے سے ججوں کے نام بتانے سے معذرت کی ۔دوسری طرف روزنامہ پاکستان کے ذرائع نے بتایا ہے کہ حکومت کا انکوائری کمیشن کے قیام کے لئے جسٹس ریٹائرڈ شاکر اللہ جان سے بھی رابطہ ہوا ہے جن کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے جبکہ سندھ سے تعلق رکھنے والے جسٹس ریٹائرڈ سرمد جلال عثمانی بھی حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں تاہم جسٹس ریٹائرڈ سرمد جلال عثمانی کے حوالے سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ان کی اہلیہ مسلم لیگ (ن) کی رکن اسمبلی ہیں وہ 2008ء میں مسلم لیگ میں شامل ہوئی تھیں ،جس کی بنا پربعض حکومتی حلقے جسٹس ریٹائرڈ سرمد جلال عثمانی کو انکوائری کمیشن کا سربراہ مقرر کرنے پر تحفظات کا شکار ہیں کہ ان کی اہلیہ کی مسلم لیگ سے وابستگی کی بنا پر کوئی نیا ایشو نہ کھڑا ہوجائے ۔حکومتی ذرائع نے اٹارنی جنرل کے برعکس روزنامہ پاکستان کو بتایا کہ پاناما لیکس پر انکوائری کمیشن کے قیام کا معاملہ ایک دو روز میں حل ہوتا نظر نہیں آرہا ،اس سلسلے میں سیاسی جماعتوں اور دیگر متعلقہ حلقوں کو اعتماد میں لینے کے بعد ہی کوئی واضح لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔

لاہور(نامہ نگار خصوصی )پاناما لیکس کے معاملے پر حکومت اور حزب اختلاف دونوں نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن سے مدد مانگ لی ۔حکومت کی طرف سے وفاقی وزیرقانون زاہد حامد اور اٹارنی جنرل پاکستان اشتر اوصاف علی جبکہ حزب اختلاف کی طرف سے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی اورمسلم لیگ (ق)کے راہنما چودھری پرویز الہی نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بیرسٹر سید علی ظفر سے رابطہ کیا ۔سینیٹ کی فنانس کمیٹی کے سربراہ سلیم مانڈی والا نے بھی سید علی ظفر سے رابطہ کرکے ان سے پاناما لیکس کے معاملے کو حل کرنے کے لئے تجاویز فراہم کرنے کی درخواست کی ۔حکومتی اورحزب اختلاف کے وفود آج 16اپریل کو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداروں سے ملاقات کریں گے جبکہ سلیم مانڈی والا اور سپریم کورٹ بار کے صدر سید علی ظفر کی ملاقات 28اپریل کو طے پائی ہے ۔سپریم کورٹ بار کے عہدیداروں سے ملاقات کرنے والے حکومتی وفد میں وزیرقانون اور اٹارنی جنرل شامل ہوں گے جبکہ تحریک انصاف کے وفد کی سربراہی شاہ محمود قریشی کریں گے ۔سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیدار وں سے دونوں وفود کی ملاقات لاہور میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے دفتر میں ہوگی ۔حکومتی وفد صبح 11:00بجے جبکہ تحریک انصاف کا وفد دوپہر1:00بجے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداروں سے ملاقات کرے گا۔چودھری پرویز الہی نے سپریم کورٹ بار کے صدر سید علی ظفر سے رابطہ کرکے ان پر اعتماد کا اظہار کیا اور پاناما لیکس کے معاملے پر سپریم کورٹ بار کے کردار کو سراہا ۔گزشتہ روز وزیر اعظم میاں نواز شریف کی ہدایت پراٹارنی جنرل اشتر اوصاف علی اور وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے صدر سپریم کورٹ بار کو ٹیلی فون کر کے تعاون کی اپیل کی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت پاناما لیکس کے معاملے کا حل چاہتی ہے اور اس سلسلے میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن سے بھی راہنمائی کی خواہش مند ہے ۔حکومتی عہدیداروں نے جوڈیشل کمشن کے قیام کے حوالے سے بھی سپریم کورٹ بار سے تعاون طلب کیا ،آج ہونے والی ملاقات میں جوڈیشل کمشن کے لئے ریٹائرڈ ججوں کے مختلف ناموں پر بھی غور متوقع ہے ۔سینیٹ کی فنانس کمیٹی کے سربراہ سلیم مانڈی والا نے صدر سپریم کورٹ بار سے فون پر رابطہ قائم کیا ہے اور علی ظفر کو پاناما لیکس کے معاملے کے حل کے لئے تجاویز دینے کے لئے کہا جس پر دونوں کے درمیان 28اپریل کو ملاقات طے پاگئی جس میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی طرف سے اس بابت مختلف تجاویز پیش کی جائیں گی جن میں کرپشن کے خلاف اقوام متحدہ کے کنونشن کی مدد سے پانامالیکس کے حوالے سے معلومات حاصل کرنے کی تجویز بھی شامل ہوگی ۔دوسری طرف عمران خان کی ہدایت پر تحریک انصاف کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر شاہ محمود قریشی نے سپریم کورٹ بار کے صدر علی ظفر کو ٹیلی فون کر کے پاناما لیکس کے معاملے پر جوڈیشل کمیشن کی تشکیل یا درمیانہ راستہ نکالنے کے حوالے سے تعاون کی اپیل کی ہے۔دریں اثنا وفاقی وزیر عبد القادر بلوچ کی فارق ستار سے ملاقات کی۔ عبدالقادر بلوچ نے فاروق ستار سے درخواست کی کہ مشورہ دیا جائے پاناما لیکس کے معاملے سے کس طرح نمٹا جائے۔ فاروق ستار نے وفاقی وزیر کو کہا کہ جن لوگوں کے بھی نام پاناما لیکس میں ٓئے ہیں سب کے خلاف غیر جانبدار تحقیقات کرائی جائیں۔فاروق ستار کا کہنا تھا کہ تحقیقات کے طریقہ کار کے حوالہ سے اپوزیشن کو اعتماد میں لے کر پارلیمانی کمیٹی قائم کی جائے جو تحقیقات کی نگرانی کرے۔ غیر ملکی بینکوں میں پڑے 200 ارب ڈالر کی بھی تحقیقات ہونی چاہیے جبکہوفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید اور سینیٹر مشاہد اللہ خان نے گزشتہ روزچیئرمین پختونخوا ملی عوامی پارٹی محمود خان اچکزئی سے ملاقات کی اور انہیں پاناما لیکس کے معاملے پر حکومت اور پاکستان مسلم لیگ (ن)کے موقف سے آگاہ کیا۔اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ ہم غیر جانبدار انکوائری کے ذریعے اپنی سچائی ثابت کرنے کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض لوگ شفاف تحقیقات کے بجائے معاملے کو محض سیاسی رنگ دینے کے درپے ہیں۔

مزید : صفحہ اول