حقانی نیٹ ورک سے متعلق خفیہ دستاویزات بے بنیاد ہیں،پاکستان

حقانی نیٹ ورک سے متعلق خفیہ دستاویزات بے بنیاد ہیں،پاکستان

واشنگٹن ،اسلام آباد (بیورورپورٹ،مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان نے حقانی نیٹ ورک سے متعلق خفیہ دستاویزات مسترد کر دیں۔ دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ حقانی نیٹ ورک سے متعلق میڈیا میں آنیوالے بیانات بے بنیاد ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ 2009 میں چیپ مین فیسیلٹی میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں امریکیوں کی ہلاکت پر افسوس ہے جس کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی۔ یہ بتا دینا چاہتے ہیں کہ پاکستان دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔ ہزاروں پاکستانیوں کی جانیں دہشتگردی کی نظر ہو چکی ہیں جن میں سیکیورٹی ایجنسیوں کے جوان بھی شامل ہیں۔قبل ازیں امریکہ میں منظر عام پر آنے والے خفیہ سفارتی مراسلوں میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسامہ بن لادن کو تحفظ فراہم کرنے اور القاعدہ و طالبان سے روابط رکھنے والی تنظیم کو پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے افغانستان میں سی آئی اے کے مرکز پر خودکش حملہ کرنے کے لئے دو لاکھ امریکی ڈالر ادا کیے تھے۔پاکستان کی طاقتور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے 2009ء میں جنوبی افغانستان کے علاقے میں قائم ’’چیپ مین‘‘ نامی کیمپ پر حملہ کرنے کے لئے رقم دی تھی۔ یہ 25 سالوں کے دوران سی آئی اے کے خلاف سب سے خطرناک حملہ تھا، جس میں سی آئی اے کے سات امریکی اہلکاروں سمیت دس افراد ہلاک ہوئے تھے۔آئی ایس آئی کے ملوث ہونے کے بارے میں ہمیشہ شک و شبہ کا اظہار کیا گیا ہے، تاہم منظر عام پر آنے والے امریکی محکمہ خارجہ کے لئے مراسلوں نے ایک بار پھر امریکہ اور پاکستان کے تعلقات کی نوعیت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔مراسلوں کے مطابق 2010ء میں 11 جنوری سے 6 فروری تک حقانی نیٹ ورک کے رہنماؤں اور آئی ایس آئی کے سہولت کار کے درمیان تفصیلی ملاقاتیں کی گئیں، جس میں نامعلوم کارروائیوں کے لئے حقانی نیٹ ورک کے رہنماؤں کو رقم مہیا کی گئیں۔6 فروری کے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ اسی طرح کی ایک ملاقات میں حقانی نیٹ ورک کے رہنماؤں کو کیمپ پر حملے کیلئے دو لاکھ امریکی ڈالر فراہم کیے گئے تھے۔اسامہ بن لادن کی تلاش پر بننے والی آسکر انعام یافتہ ہالی ووڈ فلم ’’زیرو ڈارک تھرٹی‘‘ میں دکھایا گیا ہے کہ نائن الیون حملے کے بعد القاعدہ کے رہنما کی تلاش کی مہم میں پیش آنے والا یہ سب سے تباہ کن واقعہ تھا۔سی آئی اے کے ’’چیپ مین کیمپ‘‘ پر حملہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کام کرنے والے ایک ڈبل ایجنٹ اور اردنی نژاد ڈاکٹر خلیل البلاوی نے کیا تھا۔اس حملے میں البلاوی سمیت سی آئی اے کے سات ایجنٹ، اردن کی خفیہ ایجنسی کے ایک افسر اور افغان سکیورٹی چیف ہلاک ہوئے تھے۔

مزید : صفحہ اول