حقوقنسواں بل میں مغرب نوازی کی انتہا کردی گئی، ساجد میر

حقوقنسواں بل میں مغرب نوازی کی انتہا کردی گئی، ساجد میر

  

لاہور (خبر نگار خصوصی) امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے امیر سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ انہیں وزیر اعلی شہباز شریف نے یقین دلایا ہے کہ نسواں بل سے قرآن وسنت سے متصادم شقیں نکال دی جائیں گی۔نسواں بل میں عورت کے آزادانہ اور حسب منشا کردار کی بات وضاحت طلب ہے۔اسلام نے عورت کی آزادی اورخواشات کا احترام ایک دائرے میں رہ کر کیا ہے۔جامعہ ابراہیمیہ میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اسلام نے عورت کے مذہبی، سماجی، معاشرتی، قانونی، آئینی، سیاسی اور انتظامی کرادر کا نہ صرف اعتراف کیا بلکہ اس کے جملہ حقوق کی ضمانت بھی فراہم کی۔ مگربدقسمتی سے ہمارے ہاں عورت کو بازار کی زینت اور اشتہار بنا کر رکھ دیا ہے۔ پنجاب اسمبلی کا منظوکردہ نسواں بل میں مغرب نوازی کی انتہا کردی گئی ہے اسکی بیشتر شقیں قرآن وسنت سے متصاد م ثابت ہو چکی ہیں۔ ہم نے نسواں بل پر پنی سفارشات حکومت کے حوالے کردی ہیں۔ پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ مسلم لیگ کی اصل پہچان دین اور وطن سے محبت ہے۔اسے اپنے تشخص کا خیال رکھنا ہو گا اور ایسے قانون اور پالیسیوں سے اجتناب کرنا چاہیے جو اسکی پہچان اور تشخص کو مجروح کرسکیں۔

ساجدمیر

مزید :

صفحہ آخر -