سانحہ گلشن اقبال کی تفتیش میں تاحال کوئی پیش رفت نہ ہوسکی

سانحہ گلشن اقبال کی تفتیش میں تاحال کوئی پیش رفت نہ ہوسکی

  

لاہور(کرائم رپورٹر) سانحہ گلشن اقبال کی تفتیش میں پولیس اور دیگر تحقیقاتی اداروں نے تاحال کوئی پیش رفت نہیں کی ۔تفصیلات کے مطابق گلشن اقبال پارک کے گیٹ نمبر 1 کے قریب واقع کینٹین میں خودکش حملہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں 75سے زائد مرد و خواتین اور بچے شہید ہو گئے تھے جبکہ تین سو سے زائد زخمی ہو گئے تھے ،دہشتگردی کی اس افسوسناک کارروائی کے بعد شہر بھر میں خوف کے ساتھ ساتھ ایک سوگ کی کیفیت پیدا ہو گئی تھی ،پولیس اور دیگر تحقیقاتی اداروں کی جانب سے اس واقعہ میں ملوث دہشت گردوں کی فوری گرفتاری کے حوالے سے بڑے بڑے دعوے کیے گئے تھے جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی ہدایت پر سی ٹی ڈی انویسٹی گیشن ،سی آئی اے اور دیگر حساس اداروں کے افسران پر مشتمل ایک جوائنٹ تحقیقاتی ٹیم جے آئی ٹی تشکیل دی گئی تھی مگر یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ دو ہفتے سے زائدوقت گزر جانے کے باوجود یہ جوائنٹ تحقیقاتی ٹیم تاحال کسی بھی نتیجہ پر نہ پہنچ سکی ہے اور نہ ہی اس حوالے سے ہونیوالی تفتیش میں اب تک کوئی اہم پیش رفت سامنے آ سکی ہے ۔دوسری طرف گزشتہ روز ممکنہ دہشت گردی کے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے سی آئی اے انویسٹی گیشن اور سی ٹی ڈی کے افسران پر مشتمل خصوصی ٹیموں نے شہر کے مختلف علاقوں میں واقع گرجا گھروں ،پارکوں اور دیگر بارونق مقامات کے قریب واقع بستیوں ،ہوٹلوں ،سراؤں ،گیسٹ ہاوسز اور دیگر مقامات پر سرچ آپریشن کرتے ہوئے وہاں سے 1ہزار سے زائد مشکوک افراد کو اپنی حراست میں لینے کے بعد انہیں تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے ۔علاوہ ازیں گزشتہ روز اچانک لاہور کے 270سے زائد مقامات پر پولیس نے خصوصی ناکے لگائے جہاں پر انہوں نے دوران چیکنگ متعدد مشکوک افراد کو اپنی حراست میں لیا جبکہ کاغذات نہ ہونے کی وجہ سے درجنوں موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کو بھی تھانوں میں بند کروا دیا گیا۔

سانحہ گلشن اقبال

مزید :

صفحہ آخر -