او آئی سی اجلاس میں مسلم ملکوں کے مسائل حل کرنے کا عزم خوش آئند ہے: حافظ سعید

او آئی سی اجلاس میں مسلم ملکوں کے مسائل حل کرنے کا عزم خوش آئند ہے: حافظ سعید

  

لاہور(خبر نگار خصوصی)امیر جماعۃالدعوۃ پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا کہ اوآئی سی اجلاس میں کشمیر ، فلسطین ، شام و دیگر مسلم ملکوں کے مسائل حل کرنے کا عزم خوش آئند ہے۔ یہ باتیں صرف مشترکہ اعلامیہ تک محدود نہیں بلکہ حقیقت بننی چاہئیں۔ مسلم ملکوں کے سربراہان قرآن پاک کی رہنمائی میں پالیسیاں ترتیب دیں اور کفار سے امیدیں وابستہ کرنا چھوڑ دیں۔ مسلم ممالک باہم متحد ہوں اور مشترکہ دفاعی نظام تشکیل دیں۔ڈالر اور پاؤنڈکی غلامی سے نکل کراپنی کرنسی تشکیل دی جائے اور مشترکہ منڈیاں بنا کر باہمی تجارت کو فروغ دیا جائے۔دفاع کے ساتھ ساتھ معاشی قوت کو مضبوط بنانابھی بہت ضروری ہے۔جامع مسجد القادسیہ میں خطبہ جمعہ کے دوران ہزاروں افراد کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستان اور سعودی عرب بیرونی قوتوں کا خاص طور پرہدف ہیں۔ مسلمان ملکوں میں انتشار پیدا اور دہشت گردی پروان چڑھانے کی سازشیں کی جارہی ہیں۔مسلمان اپنے عقیدے و اعمال درست اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں۔ کشمیر، فلسطین، شام سمیت تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ بیرونی قوتیں مسلمانوں کا ان کے ملکوں میں قتل کر رہی ہیں۔ ان کے وسائل پر قبضے کئے جارہے ہیں۔ انہیں دیوار سے لگایا جارہا ہے اوراقوام متحدہ میں مسلمانوں کے جو حقوق تسلیم کئے گئے ہیں انہیں بھی غصب کیا جارہا ہے۔ خوشی اس بات کی ہے کہ او آئی سی کے اجلاس میں کشمیریوں پر مظالم کو اجاگر کیا گیا اور انہیں حقوق دلانے کی بات کی گئی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس حوالہ سے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔یہ تو کہا جارہا ہے کہ مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ مظلومیت ہے لیکن پہلی غلطی یہ ہے کہ مسلم حکمران جن سے مسائل حل کرنے کی توقعات رکھتے ہیں وہی ان مسائل کے پید اکرنے والے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ دشمنا ن اسلام کی پالیسی یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو ان کے ملکوں میں الجھا کر رکھیں اور انتشار برپا کریں تاکہ وہ ترقی نہ کر سکیں اور اپنے قدموں پر کھڑے نہ ہو سکیں۔کشمیر، فلسطین، شام اور عراق سمیت ہر جگہ مسلمانوں پر ظلم ڈھایا جارہا ہے۔ شام کے ایک کروڑ کے قریب مسلمان ترکی کے بارڈر پر خیمہ بستیوں میں پناہ گزیں ہیں جن پر روس اور اس کے اتحادی ملک بمباری کر رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اب پانی سر سے گزر چکا ہے۔ کفار سے امیدیں وابستہ کرنا ختم کریں اور یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ ان کا مسلمانوں سے ملنا، مالی مدد اوردوستیاں کرنا سازشوں کے سوا کچھ نہیں ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -