جیلوں میں موثر اصلاحات متعارف کروائی جائیں گی :وزیر اعلٰی سندھ

جیلوں میں موثر اصلاحات متعارف کروائی جائیں گی :وزیر اعلٰی سندھ

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا ہے وہ جیلوں میں موثر اصلاحات متعارف کرانے کا پختہ ارادہ رکھتے ہیں اور انکی حکومت نے جیلوں کے حوالے سے اب تک جو کچھ بھی کیا ہے اس میں مزید بہتری کی گنجائش ہے، تاکہ جیلوں کو اصلاح گھر میں تبدیل کیاجا سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو سپریم کورٹ کی ہدایات اور وفاقی محتسب کی سفارشات کی روشنی میں جیل کی اصلاحات کے حوالے سے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں وفاقی محتسب کے نمائندہ شکیل درانی،وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری علم الدین بلو، سیکریٹری داخلہ سید جمال شاہ،آئی جی جیلزنصرت منگن اور دیگر نے شرکت کی۔وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا کہ سندھ میں 12ہزار قیدیوں کی گنجائش کے حامل 25جیلیں ہیں جن میں 21ہزار قیدی رکھے گئے ہیں اور گنجائش سے زیادہ قیدی رکھنے کا معاملہ بھی بہت سارے مسائل کی جڑ ہے ،کیونکہ جیلوں کو اصلاح گھر بنانے کا مقصد ان موجودہ حالات میں حاصل نہیں ہو سکتا اور موثر اقدامات وقت کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے بتایا کہ انہوں نے کراچی سینٹرل جیل سمیت دیگر جیلوں میں اچانک دورے بھی کئے ہیں اور کراچی سینٹرل جیل کا کھانا بھی کھایا،وہاں کے نان بڑے مزیدار تھے اور کھانے کا معیار بھی نسبتاً بہتر تھا۔انہوں نے کہا کہ وہ ایک سیاسی ورکر کی حیثیت سے جیلوں کی حالت سے مطمئن نہیں۔اس موقعے پر وفاقی محتسب کے نمائندہ شکیل درانی نے کہا کہ جیلوں کے اندر جیل مینوئل ،زیرمقدمہ اور سزا یافتہ قیدیوں کو علیحدہ سیلز میں رکھنا،تعلیمی اور تفریحی سرگرمیوں سمیت پروفیشنل، ٹیکنیکل کورسزکاآغاز کرنا اور قیدیوں کی فلاح کیلئے انڈوومینٹ فنڈ کا بندوبست کرنا جیل ریفارمز کے اہم نکات ہیں،اس موقعے پر آئی جی جیلز نصرت منگن نے کہا کہ کراچی ،حیدرآباد اور لاڑکانہ میں عورتوں ، بچوں اور بالغان کیلئے علیحدہ جیل ہیں اور انہوں نے ہر جیل کی بہتر انسپیکشن کے انتظامات کئے ہوئے ہیں۔سیکریٹری داخلہ سید جمال شاہ نے اجلاس کو بتایا کہ وزیراعلیٰ سندھ کی طرف سے جیلوں کو اصلاح گھر بنانے کے ویژن کو نظر میں رکھتے ہوئے قیدیوں کی فلاح ،کردار سازی اور منفی ذھنیت کو تبدیل کرنے کیلئے ایک مکمل جامع پلان مرتب کرنے کی ضرورت ہے اور اس مقصد کیلئے صوبائی اختیاریوں، وفاقی محتسب ،مخیرحضرات اور سول سوسائٹی کے نمائندگان کو ایک جامع پلان بنانے کیلئے اپنا اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -