پانامہ میں دنیا بھر سے21 کھرب ڈالر ز کی رقم چھپائی گئی ، مشاہد حسین

پانامہ میں دنیا بھر سے21 کھرب ڈالر ز کی رقم چھپائی گئی ، مشاہد حسین

  

اسلام آباد(آن لائن ) ایوان بالا میں پانامہ لیکس پر بحث کا اغاز کرتے ہوئے سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہاکہ پانامہ لیکس کا معاملہ نہ صرف بین الاقوامی ہے بلکہ اس سے ملک میں بحرانی کیفیت بھی پیدا ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ حقائق یہ ہے کہ ایک لاء فرم جو پانامہ میں واقع ہے وہاں پر آف شور کمپنیوں کا کاروبار ہوتا ہے اس کمپنی نے دو لاکھ کمپنیاں رجسٹرڈ کرائی جس کے ایک کروڑ 15لاکھ دستاویزات باہر آئی ہیں جس کے بارے میں کہاگیا ہے کہ دنیا کے 21کھرب ڈالرزکی رقم یسے اکاؤنٹس میں چھپے ہوئے ہیں کہ اس پر ٹیکس دیا جائے تو یہ 300آرب ڈالر ہونگے انہوں نے کہاکہ اس سے قبل وکی لیکس کے انکشافات آئے تھے جبکہ امریکی افواج کے بارے میں بھی انکشاف سامنے آئے تھے انہوں نے کہاکہ ان دستاویزات میں پاکستان کے 220افراد کا زکر آیا ہے جس میں سیاستدان حاضر سروس اور ریٹائرڈ جج صاحبان اور بزنس سے وابستہ ہیں اس لسٹ میں وزیر اعظم پاکستان کے علاوہ دو پارلیمینٹرین کے نام بھی آئے ہیں ان دستاویزات کا اینوسٹی گیشن صحافیوں کی تنظیم نے پورے طریقے سے جائزہ لیا ہے انہوں نے کہاکہ دستاویزات میں وزیر اعظم کا نام آنے کے بعد حکومت نے اس معاملے کو صحیح طریقے سے ہینڈل نہیں کیا جس سے معاملات بگڑتے گئے انہوں نے کہاکہ پاکستان میں اس سے قبل جتنے بھی بڑے گھپلے سامنے آئے ہیں ان کا آج تک کوئی بھی فیصلہ نہیں ہوا ہے انہوں نے کہاکہ وزیر خزانہ نے کہاتھا کہ ہمارے پاس ثبوت ہیں کہ 200آرب ڈالر سوئس بنکوں میں پاکستانیوں کے پڑے ہوئے ہیں مگر اس کی اصلیت ظاہر کرنے کے لئے ابھی تک کوئی انتظامات نہیں کئے گئے ہیں اور نہ ہی کوئی درخواست کی ہے کہ ہم یہ پیسے واپس لائیں گے انہوں نے کہاکہ پانامہ لیکس کے فحوالے سے ہم کیا کر سکتے ہیں ہم پارلیمنٹ کی بات کرتے ہیں مگر جب پارلیمنٹ کا ذکر آتا ہے تو ہم جوڈیشیل کمیشن بنا نے کا مطالبہ کرتے ہیں پارلیمنٹ کی بالادستی اس سے ہوگی کہ اس معاملے پر مشترکہ پارلیمانی کمیشن بنایا جائے جو معاملے کی تحقیقات کرے ورنہ جوڈیشل کمیشن پر اعتراضات اٹھیں گے مشترکہ پارلیمانی کمیشن کے ساتھ نیب ،ایف آئی اے اور اسٹیٹ بنک معاونت کرے گی اس کمیشن کے پاس مکمل عدالتی اختیارات ہوں حکومت اس معاملے پر کھل کر سامنے آئے اگر حکومت اس معاملے پر مشترکہ کمیشن سے کتراتی ہے تو سینٹ اس معاملے پر خود فیصلہ کرے سینٹ اخلاقیات کمیٹی اس معاملے پر فیصلہ کرے کوئی جج جرنیل یا بیوروکریٹ اس کا فیصلہ نہیں کر سکتا ہے انہوں نے کہاکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان میں ایک دوہری شہریت کے حوالے سے فار م میں آف شور اکاؤنٹ کا زکر کیا جائے اور مفادات کے تضاد کے حوالے سے قانون بننا چاہیے انہوں نے کہاکہ اب وقت آگیا ہے کہ پارلیمنٹ اپنا احتساب خود کرے ۔

مشاہد حسین

مزید :

کراچی صفحہ اول -