ٹیکس ایمنسٹی اسکیم معاشی دہشت گردی ہے

ٹیکس ایمنسٹی اسکیم معاشی دہشت گردی ہے

 کراچی (اسٹاف رپورٹر) ماہر معاشیات ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا کے سات ممالک میں پاکستان کی شرح نمو (گروتھ ریٹ) سب سے کم ہے جو ارباب اختیار کے لیے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے۔ کرپشن اور ٹیکس چوری کے سبب ملک کو سالانہ 8 ہزار ارب روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ ملک پر قرضوں کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔ پچھلے سال پاکستان کی تاریخ میں بجٹ خسارہ سب سے زیادہ رہا۔ وہ جمعرات 14 ۔اپریل2016 کی شام ’’قومی بجٹ۔ 2016-17 کی تیاری‘‘ کے موضوع پر ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کی صدر محترمہ سعدیہ راشد کی زیر صدارت شوریٰ ہمدرد کراچی کے اجلاس سے ایک مقامی ہال میں خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دسمبر2015 تک قرضوں کا حجم 21048 بلین روپے تھا اگر ملک میں کرپشن اور ٹیکس چوری نہ ہوتی تو تین سال میں قرضے صفر ہو جاتے۔ انہوں نے بجٹ تجاویز دیتے ہوئے کہا کہ آنے والے بجٹ میں ہر قسم کی آمدنی پر، جو ایک مقررہ رقم سے زائد ہو ،پرموثر طور پر ٹیکس نافذ اور وصول کیا جائے۔ جنرل سیلز ٹیکس کی شرح 5 فیصد سے زائد نہ ہو۔ پیٹرولیم لیوی کو ختم کر دیا جائے۔ ود ہولڈنگ ٹیکس کے نظام کو بھی ختم کیا جائے اور معیشت کے ڈاکومینٹیشن کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی سے مدد لی جائے اور ٹیکس حکام سے خفیہ رکھی گئی آمدنی سے بنائے ہوئے اثاثوں پر بھی ٹیکس وصول کیا جائے۔ اس عمل سے حکومت کو دو ہزار بلین روپے اضافی حاصل ہو جائیں گے۔ پرائز بونڈ، خاص طور پربڑی رقم کے پرائز بونڈ، کی اسکیم مرحلہ وار ختم کر دی جائے۔ مجموعی ملکی پیداوار کے تناسب سے تعلیم کے لیے 7 فیصد اور صحت کی مد میں 4 فیصد رقم مختص کی جائے۔بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے بینکوں سے قرضے نہ لیے جائیں۔ بینکوں کو پابند کیا جائے کہ وہ نفع و نقصان میں شراکت کے کھاتے داروں کو اپنے منافع میں شریک کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت دہشت گردی کو روکنے کے لیے سخت فیصلے کر رہی ہے لیکن دوسری جانب ٹیکس ایمنسٹی اسکیم دے کر معاشی دہشت گردی کا ارتکاب کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بینکوں کو چاہیے کہ وہ حکومت کو قرضے دینے کے بجائے نجی شعبے کو قرضے دیں تاکہ ملک میں صنعتی و تجارتی ترقی ہو۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانیوں میں بچت کا رجحان کم ہے ہمارے ہاں بچت کی شرح 12فیصد ہے جبکہ بھارت میں یہ 32 فیصد ہے۔ ملک میں اسٹرکچرل چینجز کی جائیں جو بہت اہم ہیں۔ غیر ممالک میں مقیم پاکستانی بھی پاکستان میں اپنا ریٹرن فائل کریں جس طرح ہر امریکی، خواہ وہ کہیں بھی مقیم ہو، کرتا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ کہیں پانامہ لیکس پر بھی کوئی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم نہ آجائے، قوم کو اسے روکنا ہوگا۔ محترمہ سعدیہ راشد نے قومی بجٹ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ملکی ترقی کا دارومدار قومی بجٹ پر ہوتا ہے، اس لیے بجٹ کو آئین سے متصادم نہیں ہونا چاہیے، اسے متوازن اور بیروزگاری اور غربت کے خاتمے کے یے صنعت و زراعت کی ترقی کے لیے قابل عمل ترغیبات کا آئینہ دار ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ قوم اگر قائد اعظم محمد علی جناح اور شہید حکیم محمد سعید کے اقوال کی روشنی میں سادگی و کفایت شعاری اختیار کر لیں تو اس کے آدھے معاشی مسائل حل ہو جائیں گے۔ اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ایسوسی ایشن (SAMEA ) کے صدر ظفر اقبال نے بجٹ تجاویز دیتے ہوئے کہا کہ انکم ٹیکس کا دائرہ وسیع کر کے زرعی آمدنی پر بھی انکم ٹیکس وصول کیا جائے، زراعت کا جی ڈی پی میں 25 فیصد حصہ ہے۔ ہر فرد اور کسی بھی ادارے کی 6 لاکھ روپے سالانہ کی آمدنی کو انکم ٹیکس سے مستثنیٰ قراردیا جائے۔ امریکہ جیسے امیر ملک میں سیلز ٹیکس کی شرح 4 سے 8فیصد ہے۔ پاکستان جیسے غریب ملک میں اسے 3 یا4 فیصد ہونا چاہیے۔ بینکوں سے رقم نکلوانے پر ودہولڈنگ ٹیس کو ختم کیا جائے اور اداروں کے لیے اس کی حد ایک لاکھ روپے تک کی جائے۔ سرکاری افسران کے صوابدیدی اختیارات ختم کیے جائیں۔ بجلی، گیس،پیٹرول اور پانی کے نرخوں میں کمی کی جائے۔ گردشی قرضوں کو ختم کیا جائے۔ کمپنیوں کو گراس انکم پر صوبائی حکومت کا 14 فیصد جی ایس ٹی نافذ کرنا ظالمانہ اقدام ہے اسے فوراً ختم کیا جائے۔ فشریز کی صنعت اور اس کی برآمدات بڑھانے کے لیے نئے بجٹ میں ترغیبات اور سہولتیں مہیا کی جائیں۔ حکومت کے قوانین کو سادہ اور کم سے کم کیا جائے۔ گڈ گورننس پر توجہ دی جائے، اسمگلنگ اور کرپشن کے خاتمے کے لیے کوششیں کی جائیں۔ حکومت کو منافع میں چلنے والے اداروں کو نہیں بیچنا چاہیے۔ نقصان میں چلنے والے ادارے جیسے اسٹیل ملز کو بیچ دینا چاہیے تاکہ قوم کا پیسہ ضائع نہ ہو۔ مغربی ممالک کی ہدایت پر منی لانڈرنگ کے حوالے سے سخت پابندیاں لگ رہی ہیں، اس بات کا خیال رکھا جائے کہ اس سے پاکستان میں زرمبادلہ لانے اور ملک میں رکھنے میں کوئی مشکلات نہ ہوں، اس کو آسان اور محفوظ بنایا جائے تاکہ ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانہ درجے کے کاروباری اور صنعتی ادارے ہر ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں لہٰذا ملک میں ان کو زیادہ سے زیادہ آسانیاں فراہم کی جائیں تاکہ یہ ترقی کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ 100 میں سے 96 تجارتی اداروں کا تعلق چھوٹے اور درمیانہ درجوں کے تجارتی اور صنعتی اداروں سے ہوتا ہے ان میں 80 فیصد لیبر فورس کام کرتی ہے ان کا جی ڈی پی میں 40 فیصد حصہ ہوتا ہے اور یہ کسی بھی ملک کی معیشت کاا نجن ہوتے ہیں اور اس کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ لہٰذا آنے والے بجٹ میں چھوٹے اور درمیانہ درجے کے کاروباری اور صنعتی اداروں کو 30 لاکھ روپے قرض لینے کے لیے ’’کالیٹرل‘‘ کی سخت شرط کو ختم کیا جائے۔ پروفیسر محمد رفیع نے تجویز دی کہ کوئی ایسا بااختیار ادارہ مرکزی سطح پر تشکیل دیا جائے جو اس بات کو مانیٹر کرتا رہے کہ ملک کے ٹیکس دینے والوں کا پیسہ صحیح طریقے سے خرچ کیا جا رہا ہے یا نہیں۔ اگر غلط استعمال ہو تو وہ اسے روک سکے۔ اس سے لوگوں میں اعتماد پیدا ہوگا اور زیادہ سے زیادہ لوگ ٹیکس دینے کی طرف مائل ہوں گے کیونکہ سارا مسئلہ اعتماد کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ٹیکس دہندگان کی تعداد میں کمی کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ لوگوں کو اعتماد نہیں ہے کہ ان کی دیئے ہوئے ٹیکسوں کے پیسوں کا صحیح استعمال ہوگا اور وہ پیسہ کرپشن کی نذر نہیں ہوگا۔ لہٰذا ٹیکس وصولی کے حوالے سے ’’تخلیق اعتماد‘‘ بہت ضروری ہے۔ اجلاس سے خالد اکرام اللہ خان، انوارالحق صدیقی، انورعزیز جکارتہ والا، پروفیسر ڈاکٹر نعیم قریشی اور مس شمیم کاظمی نے بھی خطاب کیا۔ اجلاس میں اراکین کے علاوہ مبصرین نے بھی شرکت کی۔

مزید : کراچی صفحہ آخر