ذہنی امراض سے عالمی معیشت کو سالانہ 900 ارب ڈالر کا نقصان

ذہنی امراض سے عالمی معیشت کو سالانہ 900 ارب ڈالر کا نقصان

  

جنیوا(مانیٹرنگ ڈیسک) اقوامِ متحدہ کے ذیلی عالمی ادارہ برائے صحت کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افرادی قوت اور ملازمت پیشہ افراد میں ڈپریشن اور دیگر ذہنی امراض کی وجہ سے ان کی کارکردگی پر فرق پڑ رہا ہے اور اس طرح عالمی معیشت کو سالانہ 900 ارب ڈالر کا نقصان ہورہا ہے جو 90 ہزار ارب پاکستانی روپے کے برابر ہے۔عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ میں ایک خوفناک انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا کی 10 فیصد آبادی کسی نہ کسی ذہنی یا دماغی مسئلے میں گرفتار ہے اوراس کے نتیجے میں پیشہ ورانہ طبقہ درست انداز میں کام نہیں کرسکتا یا کام سے غیرحاضر رہتا ہے، اگر اسے کام کے دنوں میں بیان کیا جائے تو یہ 12 ارب دن یا 5 کروڑ سال بنتے ہیں اور اس کا مالیاتی نقصان 90 ہزار ارب روپے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -