خیبرپختونخوا پولیس پورے ملک میں رول ماڈل بن چکی ہے ، ناصر درانی

خیبرپختونخوا پولیس پورے ملک میں رول ماڈل بن چکی ہے ، ناصر درانی

  

 پشاور( کرائمز رپورٹر ) انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ناصر خان دُرانی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا پولیس پورے ملک میں رول ماڈل پولیس بن چکی ہے اور جوانوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے طریقہ اور سلیقہ سے فرائض سرانجام دے کر اچھی پولیسنگ کو فروغ دیں۔یہ بات انہوں نے آج ملک سعد شہید پولیس لائن پشاور میں پولیس دربار کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ دربار میں پولیس کے تمام شعبہ جات کے ہر رینک کے افسرو جوان نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ پولیس سربراہ نے واضح کیا کہ آجکل کے حالات میں پولیسنگ ایک بہت مشکل اور چیلنجنگ پیشہ بن چکا ہے ہرطرف سے چیک اینڈ بیلنس نے پولیس کے فرائض کو مزید سخت کر دیا ہے۔ اور عوام کے وابستہ توقعات بھی بڑھ گئے ہیں۔ ایسے میں جوانوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور ان پر زور دیا کہ وہ اپنے پیشے اور وردی سے محبت کریں اور اپنی ڈیوٹی عبادت سمجھ کر ادا کریں۔ اور لوگوں بالخصوص مظلوم لوگوں کی خدمت میں کوئی کسر نہ چھوڑیں۔ پولیس فورس میں اُٹھائے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے آئی جی پی نے کہا کہ ان کا بنیادی مقصد پولیس جوانوں کی استعدادی صلاحیتیں بڑھاکر تھانہ کلچر کو تبدیل کرکے عوام دوست اور پیشہ ورانہ پولیسنگ کو فروغ دینا ہے۔ پولیس کلچر پولیس افسر کے رویئے سے بنتا ہے اور جب عوام کے ساتھ رابطہ اور رویہ اچھا ہو تو بہتر نتائج سامنے آنا شروع ہونگے۔ اور جوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنے دل و دماغ کے بہترکمبینیشن سے یکسوئی کے ساتھ فرائض سرانجام دیکر لوگوں کے وابستہ توقعات پر پورا اُتریں۔ آئی جی پی نے کہا کہ خیبر پختونخوا دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن صوبہ ہے۔ پچھلے تیس سال کی پولیس اور آجکل کی پولیس میں بہت نمایاں تبدیلیاں رونما ہوچکی ہیں۔ فورس کے جوانوں کی شبانہ روز محنت اور قربانیوں سے سال 2015 میں ہر قسم کے جرائم پچھلے پانچ سالوں کے مقابلے میں سب سے کم ہیں۔ اغواء برائے تاوان کی وارداتیں زیرو لیول پر پہنچ گئی ہیں۔ مقامی بھتہ خوری کا یکسر صفایا کردیا گیا ہے۔ جبکہ سرحد پارسے باہر بیٹھے بھتہ خوروں کے خلاف گھیرا تنگ کیا جارہا ہے۔ اسی طرح اب تک پونے تین لاکھ گھروں کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کر دیا گیا ہے۔ پشاور میں ایک لاکھ ساٹھ ہزار گھر کرایہ پر ہیں۔ ان میں 38 ہزار گھر افغان مہاجرین کے پاس کرایہ پر ہیں۔ آئی جی پی نے دوبار کے شرکاء پر زور دیا کہ وہ انٹیلی جنس کی بنیاد پر پولیسنگ کو فروغ دیں ۔اور اس مقصد کے لیے قائم کی گئی پبلک لیزان کونسلوں کے اطلاعات کواپنے لیے مجرموں تک رسائی کے لیے موثر ذریعہ بنائیں۔ آئی جی پی نے خیبر پختونخوا پولیس کی دلیری اور ایمانداری کی تعریف کرتے ہوئے ان کی قیادت کو اپنے لیے قابل اعزاز قرار دیا۔ اس موقع پر آئی جی پی نے مختلف اوقات میں فرائض کی ادائیگی کے دوران دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف بہترین نمایاں کارکردگی دکھانے والے پولیس افسروں و جوانوں میں نقد انعامات اور توصیفی اسناد بھی تقسم کئے۔ قبل ازیں چیف کیپٹل سٹی پولیس پشاور مبارک زیب نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ پشاور پولیس دہشت گردوں کے خلاف ہر اول دستہ کا کردار ادا کررہی ہے۔ جس نے ہر مشکل گھڑی میں ہر چیلنج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔ اور جوانوں کی شبانہ روز سخت محنت کی وجہ سے پشاور میں جرائم کا گراف روزانہ کی بنیاد پرمسلسل نیچے گررہا ہے اور سال کے پہلے سہ ماہی میں ہر قسم کے جرائم میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔ اور یقین دلایا کہ پشاور پولیس اپنی بہترین کارکردگی کا گراف مزید بہتر کرے گی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -