جائیے میاں صاحب

جائیے میاں صاحب
 جائیے میاں صاحب

  

تحریر: صبا پرویز کیانی

گزشتہ کئی دنوں سے ملکی سیاست میں پانامہ لیکس کو لے کر ہلچل مچی ہوئی ہے۔پانامہ لیکس کے معاملے میں اپنی صفائی پیش کرنے کے لئے عزت مآب وزیراعظم نواز شریف نے قوم سے خصوصی خطاب فرمایا اور بتایا کہ ان کی کسی قسم کی ناجائز جائیداد نہیں ہے اور نا ہی وہ ٹیکس چور ہیں ۔پاناما لیکس میں ان کو شامل کرنا محض ایک الزام اور سیاسی لڑائی کے سوا کچھ بھی نہیں۔ایک طرف میاں صاحب قوم کو اپنی معاشی ومالی پاک دامنی کی یقین دہانی کرا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف ان کے اپنے بال بچے اس پاک دامنی کی گواہی دیتے ہوئے کئی رازافشا کر رہے ہیں۔میاں صاحب کی نظر میں اگر یہ محض سیاسی لڑائی اور شر انگیزی ہے تو ان کے مخاطب بھی وہی سیاسی پارٹیاں ہی ہوں گی جو اس خطاب کے بعد مزید متحرک ہو گئیں ہیں۔عوام کو اس خطاب سے کوئی سروکار نہیں کیونکہ عوام کوتو بے شمار عوامی مسائل میں الجھا دیا گیا ہے، اس کے پاس اتنا ’بیکار ‘وقت ہی نہیں کہ وہ ملکی سیاست میں بھی دلچسپی لے اور سکون سے بیٹھ کر پاناما لیکس کا مطالعہ کرے تاکہ اسکے محرکات کے بارے میں جانکاری حاصل ہوسکے۔شایدعوام کو اہل اقتدارنے اسی خوف کے سبب تعلیم کے زیور اورہنر سے آراستہ نہیں کیاکہ کہیں وہ حکمرانوں کے ’کالے پیلے ‘کرتوتوں سے شناسائی حاصل کر کے اپنا اور ملک کا دفاع نا کر لے۔ جس عوام کوآپ اپنی صفائی کی جھنڈی دکھا رہے ہیں اس عوام کے کانوں اور آنکھوں پرتوبرسوں سے آپ نے جہالت اور لاعلمی کے پردے ڈال رکھے ہیں۔برسوں سے عوام کے سر پر ،مہنگائی،دہشت گردی ،بدعنوانی اور کرپشن جیسے بھاری اور نایاب نگوں سے سجا تاج(جو شاید ہی کسی دوسرے جمہوری اور مہذب ملک کو نصیب ہو)کسا ہوا ہے۔اتنے بھاری بھرکم تاج سے جکڑی عوام کاہے سمجھ پائے گی کہ پاناما لیکس کیا ہے اور اس کے حقائق کیا ہیں۔دال روٹی کے مسئلے میں الجھی عوام پہ رحم کرتے آپ نے اربوں،کھربوں کی لاگت سے شاہی سواری(میٹرو بس۔اورنج ٹرین) بھی اسکے قدموں میں لا کھڑی کی۔یہ ٹھہری بے بس عوام جواپنے میلے کچیلے کپڑوں،بھدے چہروں اورگھن لگے دل و دماغ کے ساتھ جب اس ٹھنڈی شاہی سواری میں سفر کرتی ہے تو اپنے سارے دکھ درد بھول آپ کی مشکور ٹھہرتی ہے۔

اعدادو شمار کے مطابق ملک میں غربت کی شرح چالیس سے پچاس فیصد کے درمیان ہے اور تعلیم کے معیار کاتناسب اس سے کہیں برا ہے۔ایسے میں کون سی عوام سے مخاطب ہیں آپ میاں صاحب؟قرض اورغربت تلے دبی ہوئی عوام کو ہسپتال کی سیڑھیوں پرہی سسکتاہوا چھوڑیئے اور جائیے میاں صاحب کسی بیرون ملک کی مہنگی علاج گاہ سے اپنے مرض کی تشخیص کرائیے کیونکہ آپکے خاندان اور بچوں کو آپکی بڑی ضرورت ہوگی۔یہ عوام توبرسوں سے تنہا ہے اس کا کوئی بچہ ہے اور نا ہی خاندان جس لئے اس کا جینا ضروری ہو۔

مزید :

بلاگ -