اگر آپ بھی اینڈرائیڈ سمارٹ فون استعمال کرتے ہیں تو اس پر فحش ویب سائٹس کھولنا بے حد مہنگا پڑسکتا ہے کیونکہ۔۔۔

اگر آپ بھی اینڈرائیڈ سمارٹ فون استعمال کرتے ہیں تو اس پر فحش ویب سائٹس کھولنا ...
اگر آپ بھی اینڈرائیڈ سمارٹ فون استعمال کرتے ہیں تو اس پر فحش ویب سائٹس کھولنا بے حد مہنگا پڑسکتا ہے کیونکہ۔۔۔

  

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک)آج انٹرنیٹ کی دنیا کمپیوٹرسے سمارٹ فونز پر منتقل ہو چکی ہے اور زیادہ تر لوگ کمپیوٹر کے سامنے ساکت بیٹھنے کی بجائے موبائل فونز پر ہی انٹرنیٹ استعمال کرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔بہت سے بدطینت افراد ہوں گے جو فحش فلمیں دیکھنے کے عادی ہوتے ہیں لہٰذا اب یہ لوگ بھی کمپیوٹر کی بجائے اپنا سمارٹ فون ہی اس مقصد کے لیے استعمال کرتے ہوں گے۔ان لوگوں کے لیے بری خبر ہے کہ اینڈرائڈ موبائل فونز پر فحش فلمیں دیکھنا ان کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق عموماً فحش فلموں کی ایپلی کیشنز بظاہر گوگل پلے سٹور و دیگر آن لائن سٹورز پر مفت میسر ہوتی ہیں مگر حقیقت میں صارف کو یہ بہت مہنگی پڑتی ہیں۔ جیسے ہی صارفین یہ ایپلی کیشنز کھولتے ہیں خودکار طریقے سے ان کا فون کئی اور سروسز کو سبسکرائب کر دیتا ہے۔ ان سروسز میں صارفین کو ادائیگی کرنی پڑتی ہے۔ یہ سروسز ادائیگی کی رقم اس قدر کم رکھتی ہیں کہ صارفین کواحساس نہیں ہوتا کہ ان کے فون سے رقم کٹ رہی ہے۔ عموماً یہ رقم 5روپے روزانہ یا 35روپے ماہانہ تک ہوتی ہے۔اگر آپ کے فون سے بیلنس کٹ رہا ہے اور آپ کو اس کی وجہ نہیں معلوم تو یقینا آپ کسی ایسے ہی مسئلے کا سامنا کر رہے ہیں۔ آپ کو انجانے میں سبسکرائب ہو جانے والی سروسز کو بند کرنے کی ضرورت ہے۔

دنیا کی واحد ائیرلائن جس کی ائیرہوسٹسز کو کپڑے پہننے کی اجازت نہیں

اگر آپ اپنے موبائل فون پر فحش فلمیں دیکھتے ہیں تو اس سے آپ کے فون میں ”پورن ٹیکر“ زیادہ نمودار ہوں گے۔ یہ پورن ٹیکرجعلی اینڈرائیڈ ایپلی کیشنز کی شکل میں آتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ فون پر فحش فلمیں دیکھتے ہیں اور پھر آپ گوگل پلے سٹور پر جا کر کوئی گیم ڈاﺅن لوڈ کرنا چاہیں تو یہ ٹیکر ٹیمپل رن یا دیگر گیمز کی ایپلی کیشنز کی صورت میں آپ کے سامنے آئیں گے اور آپ کو پتا بھی نہیں چلے گا اور یہ آپ کے فون میں انسٹال ہو جائیں گے۔ اس صورتحال سے بچنے کے لیے اپنے فون کے کیشے(Cache)باقاعدگی کے ساتھ ڈیلیٹ کرتے رہیں۔اس کے علاوہ موبائل فونز پر فحش فلمیں دیکھنا بہت بڑا سکیورٹی رسک بھی ہوتا ہے۔ہر شخص کے فون میں اس کا جی میل آئی ڈی ہوتا ہے اور اکثر لوگوں نے اپنے بینک کی ایپلی کیشن بھی انسٹال کر رکھی ہوتی ہے۔ صارف کا ایسا حساس ڈیٹا فحش فلمیں دیکھنے پر ہیکرز کے رحم وکرم پر ہوتا ہے۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ فحش فلمیں و دیگر مواد مفت ہوتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ انٹرنیٹ پر کچھ بھی مفت نہیں ملتا۔ یہاں آپ کو رقم یا ڈیٹا کی صورت میں بہرحال ادائیگی کرنی پڑتی ہے۔ فحش فلموں کی ایپلی کیشنز کے ساتھ کئی ایسے وائرس بھی آتے ہیں جو صارف کے موبائل فون کی تمام معلومات جمع کرکے ہیکرز تک پہنچا دیتے ہیں اور پھر یہ معلومات صارفین کوبلیک میل کرنے میں استعمال کی جاتی ہیں۔بعض اوقات یہ وائرس فون بلاک کر دیتے ہیں اور پھر ہیکرز فون ان لاک کرنے کے عوض رقوم کا مطالبہ کرتے ہیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -