’خود کشی نہ کروں تو اور کیا کروں‘،حکومت کی کسان کے ساتھ ایسی ’گھٹیا ‘حرکت کہ جان کر آپ کو بھی رونا آ جائے گا

’خود کشی نہ کروں تو اور کیا کروں‘،حکومت کی کسان کے ساتھ ایسی ’گھٹیا ‘حرکت ...
’خود کشی نہ کروں تو اور کیا کروں‘،حکومت کی کسان کے ساتھ ایسی ’گھٹیا ‘حرکت کہ جان کر آپ کو بھی رونا آ جائے گا

  

دہلی( مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کی مقامی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ مقامی کسان کی فصل خراب ہو جانے پر نقصان کی تلافی کی مد میں انتظامیہ کی طرف سے اسے  81روپے کا امدادی چیک تھما دیا گیا۔حکومت کے اس نارواں سلوک نے غریب کسان کو اس قدر  مایوس کر دیا کہ اس نے دلبرداشتہ ہو کر اپنی زندگی ختم کرنے کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا۔

انڈیا ٹائمز کے مطابق چھتیس گڑھ کے نواحی گاؤں میں جے رام نامی کسان کا  اپنا دکھڑا سناتے ہوئے  کہنا ہے  کہ میری 4ایکڑ کے رقبے پر کاشت کی گئی  فصل خراب ہو گئی ، جس کی قیمت تقریباً 1لاکھ روپے بنتی ہے ، نقصان کی تلافی کی مد میں سرگوجا ڈسٹرکٹ کی انتظامیہ کی جانب سے مجھے 81روپے کا امدادی چیک دیا گیا ہے۔انتظامیہ کی بے حسی سے مایوس متاثرہ کسان کا کہنا ہے کہ وہ اس رقم سے نہ تو فصل کی تیاری میں خرچ آنے والے اخراجات کا ازالہ کر سکتا ہے اور نہ ہی قرض چکا سکتا ہے جو کہ اس نے فصل کی تیاری کیلئے اٹھایا تھا۔ انتظامیہ کے رویے سے دلبرداشتہ کسان کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں وہ اس قدر مایوس ہو چکا ہے کہ اس کے پاس خود کشی کے سوا کوئی اور چارہ نہیں بچتا ہے ۔

واضح رہے کہ ہر سال بھارت کے کسانوں میں خود کشی کےلا تعداد واقعات رپورٹ ہوتے ہیں ۔ گزشہ ایک دہائی میں بھارت میں لاکھوں کی تعداد میں کسان اپنی زندگیوں کا خاتمہ کر چکے ہیں ۔ اور ان خودکشیوں کی وجوہات میں حکومتی عدم تعاون ، فصل خراب ہونا، بے جا قرضہ جات،قحط سالی سمیت متعددمحرکات کارفرما ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس