مسئلہ فلسطین امت مسلمہ کا کلیدی مسئلہ ہے:او آئی سی

مسئلہ فلسطین امت مسلمہ کا کلیدی مسئلہ ہے:او آئی سی
مسئلہ فلسطین امت مسلمہ کا کلیدی مسئلہ ہے:او آئی سی

  

جدہ (محمد اکرم اسد/بیورو چیف) اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی نے ایرانی مداخلت اور دہشت گردی پر حزب اللہ کی مذمت کی ہے۔ 13 ویں اسلامی سربراہی کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ میں تہران میں سعودی سفارتخانے اور مشہد میں قونصل خانے پر ایرانی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ ویانا کنونشن، اسلامی تعاون تنظیم اور اقوام متحدہ کے منشورینز بین الاقوامی قواعد و ضوابط کے سراسر منافی ہے۔

مسلم سربراہوں نے مملکت سعودی عرب میں دہشتگردی کے مجرموں کے خلاف جاری ہونے والے عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد سے متعلق ایران کے اشتعال انگیز بیانات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں مملکت کے داخلی امور میں کھلی مداخلت سے تعبیر کیا۔ اسلامی سربراہ کانفرنس نے بحرین، یمن، شام اور صومالیہ میں ایران کی مداخلت اور دہشت گردی کی مسلسل سرپرستی کی بھی مذمت کی۔ کانفرنس کے فرقہ وارانہ اور ملکی ایجنڈے کو او آئی سے کے رکن مماکل کے امن و استحکام اور عالمی امن و سلامتی کے لئے تباہ کن عمل قرار دیا۔ کانفرنس نے مسئلہ فلسطین اور القدس کے المیہ کو امت مسلمہ کا کلیدی مسئلہ قرار دیا اور جون 1967ء سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں خود مختار ریاست کے قیام اور القدس کو اسکا دارالحکومت بنانے کے حق کو ناقابل تفسیر قرار دیا۔ مسلم قائدین نے ایک بار پھر اس امر پر زور دیا کہ فلسطینیوں کو عالمی تحفظ فراہم کرنے کا طریقہ کار مقرر کرنے اور مشرقی القدس سمیت مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اسرائیل کا ناجائز قبضہ ختم کرانے کے لئے جلد از جلد عالمی کانفرنس منعقد کرنے کی تاکید کی۔ مسلم قائدین نے 7,6 مارچ 2016ء کو جکارتہ میں فلسطین سے متعلق ہونے والی پانچویں اسلامی ہنگامی کانفرنس کے نتائج پر اظہار مسرت کیا۔ آذربائیجان اور آرمینیا کی جارحیت کو مسترد کردیا گیا اور آذربائیجان کے مقبوضہ علاقے مشروط طریقے سے فوراً خالی کرانے کا مطالبہ کیا گیا۔ آذربائیجان کے ساتھ یکجہتی کا بھی اظہار کیا گیا، مسلم قائدین نے 2014ء کے دوران صدارتی انتخابات کے بعد قائم ہونے والی مشترکہ قومی افغان حکومت کی پرزور تائید کی اور رکن ممالک سے اپیل کی کہ وہ افغان عوام اور حکومت کا ساتھ دیں، منشیات کے کاروبار اور دہشت گردی کی خاطر پاکستان، امریکہ، چین اور افغانستان پر مشتمل 4 ملکی رابطہ گروپ کے قیام کا خیر مقدم کیا۔ کانفرنس نے ایک بار پھر کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کی تائید و حمایت کی اور واضح کیا کہ جموں و کشمیر کا مسئلہ پاک و ہند کے درمیان جھگڑے کی بنیاد ہے اور جنوبی ایشیا میں قیام امن کیلئے اس کا حل ناگزیر ہے۔ کانفرنس نے ہندوستان سے کہا کہ وہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قرار دادیں نافذ کرانے کی گارنٹی کے عہد کا پاس کرے اور 68 برس سے جاری جموں و کشمیر کے عوام سے کئے گئے اپنے وعدے پورے کرے۔ کانفرنس نے ہندوستان کے زیر قبضہ کشمیر کے حقیقی باشندوں کی وسیع البنیاد تحریک کی حمایت کرتے ہوئے توجہ دلائی کہ دہشت گردی اور آزادی کی خاطر جدوجہد کو ایک پلڑے میں نہیں رکھا جاسکتا۔ کانفرنس نے ہندوستان سے کہا کہ وہ او آئی سی کے ماتحت تحقیقاتی ٹیم کو کشمیر کے دورے کی اجازت دے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور گروپوں کو بھی یہ موقع دیا جائے۔ کانفرنس کے قبرص سے متعلق سابقہ قراردادوں کی تائید و حمایت کا اعادہ کیا۔ رکن ممالک سے برسینا و گرویزینا کے ساتھ مشترکہ تعاون کی اپیل کی۔

مزید :

عرب دنیا -