سعودی اتحاد کی بمباری القاعدہ اور داعش کے لئے نعمت بن گئی، نیا خطرہ پیدا ہوگیا

سعودی اتحاد کی بمباری القاعدہ اور داعش کے لئے نعمت بن گئی، نیا خطرہ پیدا ...
سعودی اتحاد کی بمباری القاعدہ اور داعش کے لئے نعمت بن گئی، نیا خطرہ پیدا ہوگیا

  

صنعاء(مانیٹرنگ ڈیسک) یمن میں سعودی اتحاد کی ایک سال سے زائد عرصے پر محیط بمباری سے حوثی باغیوں کا کچھ تو کچھ خاص نہ بگڑ سکا مگر یمن القاعدہ اور داعش کے لیے جنت بن گیا ہے۔ اتحادیوں کی اس قدر کارروائیوں کے باوجود حوثی باغی تاحال یمن کے دارالحکومت صنعاءپر قابض ہیں۔

برطانوی اخبار ”دی انڈیپنڈنٹ “ کی رپورٹ کے مطابق یمن میں سعودی اتحاد کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے باعث ملک میں خلفشار اور ابتری کی ایسی صورتحال پیدا ہوچکی ہے جو القاعدہ اور داعش جیسی تنظیموں کے پنپنے کے لیے موزوں ترین ہوتی ہے۔ سعودی اتحاد اور حوثی باغیوں کی اس جنگ میں جیت القاعدہ کی ہوئی ہے اور وہ یمن کے جنوبی ساحل کے ساتھ 550کلومیٹر رقبے پر مشتمل اپنی ایک چھوٹی سی ریاست بنانے میں کامیاب ہو چکی ہے۔ یہ ریاست انتظامی طور پر اس قدر منظم ہو چکی ہے کہ اپنے شہریوں پر ٹیکس عائد کرکے ریونیو بھی اکٹھا کر رہی ہے۔اس ریاست کا نام اے کیو اے پی(AQAP) یعنی ”القاعدہ عرب خطے میں“(Al-Qaeda in the Arabian Peninsula) ہے۔

رپورٹ کے مطابق القاعدہ دنیا کی نظروں سے چھپ کر تیزی کے ساتھ اپنی اس ریاست کو پھیلا رہی ہے، بالکل اسی طرح جیسے داعش نے عراق اور شام میں اپنی ریاست کو پھیلایا تھا۔ امریکہ، برطانیہ ، سعودی عرب و دیگر ممالک کے اتحاد نے یمن کے بحران کو بڑی آفت میں تبدیل کر دیا ہے۔ اب تک یمن میں جاری اس لڑائی میں 6ہزار427افراد ہلاک ہو چکے ہیں مگر یہ وہ تعداد ہے جو محکمہ صحت کے حکام کو معلوم ہے۔ اصل صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یمن کے 14لاکھ آبادی، جو اس کی کل آبادی کا 54فیصد ہے، کو محکمہ صحت تک رسائی حاصل نہیں۔ اس جنگ سے قبل بھی یمن عرب دنیا کا سب سے غریب ملک تھا۔ اب یہاں کے عوام اس جنگ کے باعث فاقوں سے مر رہے ہیں۔آکسفیم(OXFAM) کی رپورٹ کے مطابق اس وقت 82فیصد یمنی باشندوں کوخوراک و ادویات کی مد میں فوری امداد کی ضرورت ہے۔

مزید :

عرب دنیا -