پنجاب کارڈیالوجی میں اموات کی شرح میں خوفناک اضافہ, بد انتظامی عروج پر, محکمہ صحت نے آنکھیں بند کر لیں

پنجاب کارڈیالوجی میں اموات کی شرح میں خوفناک اضافہ, بد انتظامی عروج پر, ...
پنجاب کارڈیالوجی میں اموات کی شرح میں خوفناک اضافہ, بد انتظامی عروج پر, محکمہ صحت نے آنکھیں بند کر لیں

  

لاہور(جاوید اقبال) ملک میں امراض قلب کے سب سے بڑے مرکز صحت پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں بد انتظامی عروج پر پہنچ گئی ہے جس کے باعث دل والے ہسپتال میں کارڈیک سرجری میں اموات کی شرح میں خوفناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے ۔

دنیا میں دل کی سرجری کی شرح اموات2سے 3فیصد ہے مگر اس کے مقابلے میں پی آئی سی جیسے جدید کارڈیک سنٹر میں گزشتہ تین ماہ کے دوران یہ شرح بعض کیسز میں 50سے55فیصد تک پہنچ گئی ہے۔جو کہ ہم سب کےلئے الارمنگ ہے ۔پی آئی سی ایک ایسا اونٹ ہے جس کی کوئی بھی کل سیدھی نہیں ہے ،یہاں سویپر سے سربراہ تک ہر شخص سیاست کی دلدل میں پھنسا ہو اہے۔جنہیں وزیر اعلیٰ کے احکامات کی پرواہ ہے نہ سیکرٹری صحت کی ہدایات کا خیال۔محض پسند نا پسند کی بنیاد پر فیصلوں نے جلتی پر تیل کا کام کر رکھا ہے۔اس حوالے سے روز نامہ پاکستان کی طرف سے حاصل کیے جانیوالے مصدقہ اعداد وشما ر کے مطابق رواں سال کے پہلے تین ماہ میں چار کارڈیک سرجنز نے مختلف مریضوں کے بائی پاس اوردیگر دل کے آپریشنز کیے جس میں کارڈیک سرجری کی شرح اموات میں خوفناک حد تک اضافہ نظر آتا ہے جنوری 2016کے دوارن کارڈیک سرجن ذوالفقار نے 10مریضوں کے دل کے آپریشن کیے جن میں سے پانچ کی موات واقعہ ہو ئیں ۔ان میں سے دو آپریشن ٹیبل پر دوارن آپریشن اللہ کو پیارے ہوگئے جب کہ تین کی 72آپریشن کے 72گھنٹے کے اندر موت واقعہ ہوئی اس طرح اس سرجن کا ڈیتھ ریٹ 50فیصد ریکارڈ ہوا ۔اس سرجن نے اپنی اس اوسط میں ماہ فروری کے دوارن کمی کی بجائے مزید اضافہ کر دیا ۔فروری میں ڈاکٹر ذوالفقار نے 9مریضوں کے آپریشن کیے جن میں سے پانچ کی موت واقعہ ہو گئی اور اس کی کارڈیک سرجری کا ڈیتھ ریٹ 50فیصد دے بڑھ کر 55فیصد تک پہنچ گیا اور آپریشن کی کامیابی کی شرح تناسب 45فیصد رہی۔اسی طرح ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر آفتاب یونس نے جنوری میں 52مریضوں کے دل کے آپریشن کیے جن میں سے 9کی موت واقع ہو گئی جن میں سے 2دوران آپریشن ہی اللہ کو پیارے ہوگئے اور باقی پہلے 78گھنٹوں میں دم توڑ گئے۔ اسی طرح فروری 2016کے دوارن ڈاکٹر آفتاب یونس نے 31دل کے مریضوں کے بائی پاس آپریشن کیے جن میں سے 4مریض آپریشن کے بعد پہلے تین دن کے اندر دم توڑ گئے اور دنیا میں کارڈیک سرجری کی شرح اموات سے 13فیصد زائد اس ڈاکٹر کی شرح اموات سامنے آئی ۔اسی طرح تیسرے کارڈیک سرجن ڈاکٹر وسیم نے جنوری میں 36مریضوں کے بائی پاس کیے جن میں سے 5مریضوں کے آپریشن فیل ہوئے اور وہ دم توڑ گئے اس سرجن کی سرجری کی شرح اموات 26فیصد رہی ۔فروری کے دوران اس کے حصے میں 42مریض آئے جن میں سے 3کے آپریشن ناکام ہوئے شرح اموات 9فیصد ریکارڈ ہوئی۔اسی طرح ڈاکٹر احمد شہباز کے حصے میں 46مریضوں کے بائی پاس آپریشن آئے جن میں سے ایک مریض دوران آپریشن ہی اللہ کو پیارا ہو گیا جبکہ تین مریض آپریشن کے بعد 74گھنٹوں میں دم توڑ گئے۔پروفیسر ظفر طفیل نے جنوری میں 76مریضوں کے بائی پاس آپریشن کیے جن میں سے 6مریض آپریشن کے 72گھنٹوں میں آپریشن ناکام ہونے سے زندگی کی بازی ہار گئے اور اس معروف سرجن کا کارڈیک سرجری کا ڈیتھ ریٹ 9فیصد رہا۔فروری میں 86میں سے 3مریض دم توڑ گئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ زیادہ مریضوں کی اموات غلط سرجری اور انفیکشن کے باعث ہوئی۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر کہ نئے ایم ایس ڈاکٹر سہیل ثقلین اور چیف ایگزیکٹو پروفیسر ندیم حیات کے آنے سے انتظامی امور بڑی حد تک بہتر ہوئے ہیں تاہم کارڈیک سرجری کا شعبہ لاوارث دیکھائی دیتا ہے اور چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کی وجہ سے کارڈیک سرجری میں شرح اموات میں اضافہ ہو گیا ہے۔اس حوالے سے ہسپتال کے سربراہ کا کہنا ہے کہ کوشش کر رہے ہیں کہ شرح اموات میں کمی واقعہ ہو تاہم وقت لگے گا،حالات بہتری کی طرف جا رہے ہیں اور سب کچھ محکمہ صحت کے علم میں ہے۔

مزید :

لاہور -