حلب کے بعد ادلب

حلب کے بعد ادلب
حلب کے بعد ادلب

  



امتِ مسلمہ ہر طرف کڑے امتحان میں سے گزر رہی ہے ۔ کرۂ ارض پر جا بجا وہ ’’ا پنوں‘‘ اور اغیار دونوں کے نرغے میں ہے ۔ اس کا پالا حرف آلام و محن سے ہی نہیں پڑرہا ، اس کے لئے زندگی ہی وبال جان بنا دی گئی ہے ۔ مصائب کے پہاڑ ہی اس پر نہیں ٹوٹ رہے ، اس کے وجود کو بھی حرفِ غلط کی طرح مٹاڈالنے کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جارہا ۔ دنیا کے بے شمارخطوں ، مناطق اور ممالک میں لا الہ الا اللہ کا اقرار کرنے والوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا جارہا ہے ۔ شیر خوار نونہال ہوں یا ہنستے کھیلتے بچے ، جواں ہوں یا بوڑھے ، مرد ہوں یا عورتیں ، سبھی کا خون بے دریغ بہایا جارہا ہے اور سنگ دلی و بے رحمی کی تمام حدود کو پھلانگا جارہا ہے ۔ کشمیر ہو برما ، افغانستان ہو یا عراق ، فسلطین ہو یا شام و یمن ، ہر جگہ مسلمانوں کا خون پانی کی طرح بہایا جارہا ہے ، بلکہ شائد پانی کی بھی کوئی قدروقیمت ہو، مسلم خون تو اس سے زیادہ بے حیثیت اور بے وقعت ہوچکا ہے۔

9/11 کے بعد افغانستان اور عراق کے محاذ ابھی سردنہیں پڑے تھے کہ شام کو ہدف بنالیا گیا ۔ ڈیزی کٹر بموں سے پورے افغانستان کو تورا بورا بنا دینے کے لئے بعد مسلم خون کی پیاسی طاقتوں کو قرار نہ آیا ۔ پہلے روس نے اس ملک پر یلغار کی جس کے نتیجے میں لاکھوں لوگ لقمۂ اجل بن گئے ۔ روسی استعمار سے چھٹکارا پانے کے بعد افغانی عوام نے ابھی سکون کا سانس بھی نہیں لیا تھا کہ امریکہ نے 9/11 کے خود ساختہ ڈرامے کا ’’ انتقام‘‘ لینے کی غرض سے اپنے ہر قسم کے ہتھیاروں کی آزمائش کے لئے افغانستان کی سنگلاخ زمین کا انتخاب کرلیا ۔ انسانیت کشی کا بھیانک ترین ریکارڈ رکھنے والے امریکہ نے افغانستان پر اسلحہ کی بارش کچھ اس قدر برسائی کہ تاریخ انسانیت کے سبھی ریکارڈ ٹوٹ گئے ۔ اس نے اسلحہ کے اپنے گوداموں میں پڑے بوسیدہ بموں کو ہی وہاں نہیں آزمایا، اپنی جدید ترین عسکری ٹیکنالوجی اور خوف ناک ترین اسلحہ کا بھی بے دریغ استعمال کیا ۔ اس سب کچھ کا نتیجہ سوائے ذلت ورسوائی اور ہزیمت و پسپائی کے امریکہ کے ہاتھ نہ آیا ۔ ویت نام کی طرح بدترین شکست اس کا مقدر بنی اور وہ خود کے لگائے زخموں کو چاٹنے پر مجبور ہوگیا ۔

امریکہ کی تب کی قیادت یا تو عقل وشعور سے بالکل عاری تھی ، یا وہ اسلام اور مسلم دشمنی میں اتنی اندھی ہوگئی تھی کہ اس نے افغانستان پر یلغار کے بعد عراق کی سرز مین پر نیا محاذ جنگ کھول لیا ۔ اس نے یہ الزام دھرا کہ صدام حسین نے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار جمع کررکھے ہیں جو عالمی امن کے لئے شدید خطرہ ہیں ۔ سلامتی کونسل کی مخالفت کے باوجود اس نے اپنے ’’لے پالک‘‘ برطانیہ کو اپنے ساتھ ملایا اور عراق پر چڑھ دوڑا۔ تاریخ نے ثابت کردیا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ دونوں ملکوں کی قیادتیں اس حوالے سے جھوٹی تھیں اور انہوں نے بے بنیاد خود ساختہ خبر کی بنیاد پر عراق کو تاخت و تاراج کرنے کی مکروہ سازش تیار کی تھی ۔ یہ درست کہ ان دونوں نے اپنی اندھی فوجی قوت کے بل بوتے پر صدام حسین کا تختہ الٹ دیا ، اسے پھانسی گھاٹ پر چڑھا دیا ، لیکن اس بہیمانہ جارحیت نے جارج بش جونیئر اور ٹونی بلیئر کے منہ پر جو کالک مل دی ، وہ کبھی بھی نہ دھل پائے گی ۔ ان کی فوجوں نے عراق کا چپہ چپہ چھان مارا لیکن کہیں سے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والا کوئی ایک ہتھیار بھی برآمد نہ کیا جاسکا۔ اس پر مستزاد یہ کہ انہوں نے عراق کو مسلسل بدامنی اور تباہی و بربادی کے جہنم میں دھکیل دیا ہے ۔ صدام حسین اور اس کے ساتھیوں سے ’’نجات‘‘ حاصل کئے ہوئے کئی سال بیت گئے لیکن عراق کے عوام آج بھی صدام حسین کے دور کے امن کو تلاش کرتے پھر رہے ہیں اور ایسی ہی صورت حال افغانستان کی بھی ہے جہاں چند دن قبل ہی امریکہ نے بظاہر داعش کے ٹھکانے پر اپنا سب سے بڑا بم برسا دیا ، لیکن اس سے افغانستان کی شہری ہلاکتوں کی خوف ناک اطلاعات گردش میں ہیں ۔

افغانستان اور عراق میں جاری بربادیوں کا سلسلہ ابھی تھمنے کو نہیں آرہا کہ فلسطین و یمن کے پہلو بہ پہلو شام میں ہلاکتوں کا ایک نیا باب رقم ہونے لگا ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ شام کا معاملہ افغانستان و عراق میں یکسر مختلف ہے اس لئے کہ ان دونوں ممالک کے برعکس شام میں ہلاکت وبربادی کے اسباب بڑی حد تک مختلف رہے ۔ افغانستان اور عراق ، دونوں ممالک میں اپنے حکم رانوں کے خلاف کسی قسم کی نہ تو کوئی اندرونی تحریک تھی اور نہ ہی کوئی احتجاجی لہر ، مسلح جدوجہد کو جنم دے پائی تھی،جبکہ شام کی ظالم وجابر قیادت کے دہائیوں پر پھیلے ہوئے بدترین مظالم نے وہاں کے عوام کو حکومت وقت کے ظلم و جبر کے مد مقابل لا کھڑا کیاتھا۔

شام پر مسلط موجودہ ٹولہ اقلیت میں ہونے کے باوجود ایک طویل عرصے سے اقتدار پر غاصبانہ قبضہ کئے بیٹھا ہے ۔ حافظ الاسد اور اس کا بیٹا بشار الاسد ایک اقلیتی گروہ سے تعلق کے باوجود شام کی بھاری سنی اکثریت پر حکم رانی کرتے رہے ہیں ، اور کررہے ہیں ۔ دونوں باپ بیٹا نے شام کی اکثریت پر بے پناہ مظالم ڈھائے ہیں اور بہیمیت و درندگی اور سفاکیت کی بدترین داستانیں رقم کی ہیں ۔ مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک میں دہائیوں سے مسلط حکم رانوں کے خلاف مخالفانہ تحریک کا آغاز ہوا تو یمن ، لیبیا اور مصر کی طرح شام کے حکم ران بشارالاسد کے خلاف بھی ایک مضبوط تحریک نے جنم لیا جو رفتہ رفتہ مسلح جدوجہد کے قالب میں ڈھل گئی ۔ اسی دوران امریکہ کی پروردہ داعش نے جنم لیا اور نہ جانے کس کے مقاصد کو پورا کرنے کے لئے مبینہ طور پر انتہائی خوف ناک قسم کی سرگرمیوں کا آغاز کردیا ۔ امریکہ بھی اس صورت حال میں آگے بڑھا ، روس اور ایران بھی علی الاعلان میدان میں کود پڑے اور دیکھتے ہی دیکھتے شام میں متحارب گروہوں کی نہ صرف تعداد بڑھی بلکہ ان کی مسلح جدوجہد کا دائرہ وسیع تر ہوتارہا ۔ ترکی بھی اپنے تحفظات کے پیش نظر ان سرگرمیوں سے لا تعلق نہ رہ سکا۔

اس ساری صورت حال میں شامی عوام بدترین احوال سے دوچار ہوتے چلے گئے ۔ پورے ملک میں مسلح جدوجہد اور لڑائی کے نتیجے لاکھوں لوگ نقلِ مکانی پر مجبور ہوگئے ۔ انہیں ایسے ایسے خوف ناک المیوں سے دوچار ہونا پڑا کہ انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں ۔ شیر خوار بچے خانہ جنگی کی ہول ناکیوں سے نہ بچ سکے ۔ کہیں ان کے لاشے ترکی کے ساحلوں پر تڑپے تو کہیں حلب اور اولب میں ان کی اندوہ ناک موت نے عرش تک کو ہلا کر رکھ دیا ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جنگ تمام تر احتیاطی تدابیر کے باوجود المیوں کو جنم دیتی ہے، لیکن شام میں تو جان بوجھ کر المیے تخلیق کئے گئے ۔ بشار الاسد کو جب کئی محاذوں پر ، کئی گروہوں اور مسلح جتھوں سے لڑنا پڑا تو اس نے ہر قسم کی جنگی اخلاقیات کو پس پشت ڈالتے ہوئے نہ صرف قتل وغارت گری کی انتہا کردی ، بلکہ وہ ہتھیار استعمال کر ڈالے ، جن کی اجازت دنیا کاکوئی قانون نہیں دیتا۔ا س کی افواج نے حلب کو ’’باغیوں‘‘ سے ’’آزاد‘‘ کروایا تو انہوں نے سفاکیت اور درندگی کے نئے ریکارڈ قائم کردیئے ۔ حلب کے باشندوں کا اجتماعی قتل عام کیا گیا ، ان کے خلاف فاسفورس بم اور کیمیائی ہتھیار استعمال کئے گئے ، اب یہی کچھ اولب میں بھی کیا جارہا ہے ۔ بشار الاسد کی افواج کی سفاکیت کے تصویری شواہد بھی موجود ہیں اور ویڈیو ز بھی ۔ ان سے درندگی کے اتنے خوف ناک مظاہر سامنے آتے ہیں کہ حساس آدمی کے لئے انہیں دیکھنا بھی ممکن نہیں ہوتا۔ کہا جاسکتا ہے کہ اس درندگی کا ارتکاب شام کی سرکاری افواج کی بجائے باغی گروہوں نے کیا ہے، لیکن سلامتی کونسل میں ان سنگین واقعات کی تحقیق کے لئے کمیشن قائم کرنے کی قرار داد کو روس کی جانب سے ویٹو کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ ان بدترین جنگی جرائم کاارتکاب بشار الاسد کی افواج اور اس کے اتحادیوں نے کیا ہے۔

دوسری جانب شام میں امریکہ بھی انتہائی گھناؤنا کردار ادا کررہا ہے ، اس خطے میں داعش کی تخلیق اسی کا کارنامہ ہے اور اب اسے ختم کرنے کے بہانے وہ شام کی سنی اکثریت کو نشانہ بنا رہا ہے۔

شام میں ہمارے مسلمان بھائی اس وقت ہر طرف سے وحشیانہ حملوں کا نشانہ بنے ہوئے ہیں ۔ ان کی مدد پوری امت مسلمہ پر فرض ہے ۔ عالم اسلام کی قیادتوں کو اگر اسلامی اخوت و بھائی چارے کا ذرہ برابر بھی پاس ہے تو انہیں ترکی اور کینیڈا کی طرح آگے بڑھ کر ایک طرف شامی مہاجرین کے آلام وآزار کو بانٹنے میں اپنا ٹھوس کردار ادا کرنا ہوگا اور دوسری جانب شامی عوام کو بشار الاسد کے بہیمانہ ظلم وستم سے بچانے اور اس سے نجات دلانے کے لئے ، اسلام دشمن طاقتوں سے بے نیاز ہو کر ، مؤثر لائحہ عمل تیار کرنا اور اس پر عمل درآمد کرنا ہوگا ۔ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو اپنوں اور اغیار کی مسلط کردہ شب دیجورسے چھٹکارا عطا فرمائیں اور روشنیاں ایک بار پھر اس کا مقدر بن پائیں ۔ آمین۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ