اب ملک کو 35 انتظامی یونٹس میں تقسیم کرناکیوں ضروری ہے؟

اب ملک کو 35 انتظامی یونٹس میں تقسیم کرناکیوں ضروری ہے؟

  جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے مطالبات بظاہر  بالکل درست ہیں ۔ لیکن  اسکی ٹائمنگ قابل غور ہے ۔ماضی میں صوبہ  جنوبی پنجاب کا سب سے پہلا وعدہ پیپلزپارٹی نے کیا ۔ پھر جب مسلم لیگ ن نے مہاجر صوبے کے مطالبے کی حمایت کی تو پیپلزپارٹی مہاجر صوبے کی مخالفت میں جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کا وعدہ بھول گئی ۔ پھر ق لیگ اپنے دور اقتدار میں جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کا وعدہ پورا نہیں کرسکی ۔ 2010 میں مسلم لیگ ن بھی پنجاب اسمبلی سے جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کی قرار داد منظور کرکے منحرف ہو گئی تھی ۔ اس کے باوجود جنوبی پنجاب صوبہ محاذ بنانے والوں نے ن لیگ کے ٹکٹ پر 2013 کا انتخاب لڑا اور تقریباً 5سال حکمران جماعت کا حصہ رہے ۔  اب اچانک 2018 کے عام انتخابات کے قریب جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کا مطالبہ کافی تعجب خیز ہے ۔ یہ سرائیکی وسیب کے عوام کے ساتھ ایک سنگین مذاق نہیں تو اور کیاہے؟ ہمارے ہاں عام انتخابات سے قبل سیاسی جوڑ توڑ ایک پرانی سیاسی روایت بن چکی ہے ۔ یہ پراناسیاسی  راگ  ہے جسے بے وقت گایا جانے لگا ہے۔جنوبی پنجاب  صوبہ محاذ کے مطالبات ممکنہ طورپرایک سیاسی نعرہ ہوسکتا ہے ۔ کیونکہ سیاستدان ووٹ لینے کے موسم میں وعدے کرتے ہیں , سبزباغ  دکھا کر ووٹ بٹورنے کے بعد اپنے ہی ووٹرز کی دسترس سے باہر ہوجاتے ہیں ۔ یہ سلسلہ اب بند ہونا چاہئے ۔

اگر نئے صوبے کے قیام کے مطالبے کے آئینی وقانونی پہلو کا جائزہ لیا جائے تو جب تک متعلقہ صوبائی اسمبلی منظوری نہ دے , صوبہ تقسیم نہیں ہوسکتا , تو میرے خیال میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن جیسی  جماعتوں کی موجودگی میں نئے صوبوں کا قیام ممکن نہیں , کیونکہ  ان دونوں جماعتوں کے سیاسی مفادات نئے صوبوں کے قیام کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں ۔

اگر ملک کی انتظامی ضروریات کا جائزہ لیا جائے تو انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بننے چاہئیں ۔  تاہم نئے صوبے لسانی بنیادوں پر قائم کرنا مناسب نہیں ہوگا ۔ سرائیکستان اور مہاجر صوبے کے مطالبات لسانی بنیادوں پر نہیں ہونے چاہئیں ۔ اس کے برعکس پورے ملک کے انتظامی یونٹس کی ازسرِنو تشکیل قومی مفاد میں ہے ۔ بھارت , ترکی اور دیگر کئی ممالک کی مثال ہمارے سامنے ہے ,جہاں  چھوٹے انتظامی یونٹس قائم کرکے  گورننس کو بہتر  بنایا گیا ہے ۔ ہمارے ملک میں  بھی  اگر چھوٹے انتظامی یونٹس قائم کر دیے  جائیں تو لسانی بنیادوں پر یا احساس محرومی کی وجہ سے نئے یونٹس کے قیام کا مفروضہ اپنی موت آپ مر جائے گا ۔ اور چھوٹے انتظامی یونٹس اپنے مقامی مسائل زیادہ بہتر طور پر حل کر سکیں گے ۔

ماضی میں ڈاکٹر طاہرالقادری ملک کو چھوٹے چھوٹے انتظامی یونٹس میں تقسیم کرنے کا مطالبہ واضع طور پیش کرچکے ہیں ۔ توقع ہے کہ عمران خان بھی چھوٹے انتظامی یونٹس کے قیام کی ضرورت کو سمجھتے ہوئے اس کی حمایت کریں گے ۔اگر  ہم پاکستان کے پسماندہ علاقوں کا احساس محرومی دور کرنا چاہتے ہیں , تو ہمیں پاکستان کو کم از کم 35 نئے انتظامی یونٹس میں تقسیم کرنے کا بڑا اور جرات مندانہ فیصلہ لینا ہوگا ۔

پاکستان کے پسماندہ علاقوں کے عوام سے بھی درخواست ہے کہ روایتی سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں کو اپنے ووٹ کے ذریعے آئندہ عام انتخابات میں مسترد کردیں جو ووٹ لینے کے لیے ہر بار جھوٹے وعدے کرتے ہیں جو وفا ہونے کی کوئی توقع نہیں ۔ نئے اور ترقی پسند نمائندگان کا انتخاب کریں جو آپ کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ ہوں ۔ اور اس کے ساتھ ہی لسانیت کے نعروں سے بھی خبردار رہیں , ایسے نعروں سے صرف تعصب پھیلتا ہے مگر مسائل حل نہیں ہوتے ۔

جنوبی  پنجاب صوبہ محاذ کے مطالبات جائز تو ہیں مگر یہ سوال اپنی جگہ برقرار ہے کہ کیا محاذ کے وعدے وفا ہوں گے یا نہیں ؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ ترقی پسند سیاسی جماعتیں انتظامی بنیادوں پر چھوٹے یونٹس کے قیام کی ضرورت کواب سنجیدگی سے لیں ۔  

۔۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...