نان فائلرز پر فارن کرنسی اکاؤنٹ رکھنے پر پابندی کا خیر مقدم کرتے ہیں، وفاقی چیمبر

نان فائلرز پر فارن کرنسی اکاؤنٹ رکھنے پر پابندی کا خیر مقدم کرتے ہیں، وفاقی ...

اسلام آباد (اے پی پی)ایف پی سی سی آئی نے کہا ہے کہ پروٹیکشن آف اکنامک ریفارمز ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے نان فائلرز پر فارن کرنسی اکاؤنٹ رکھنے پر پابندی کا بھرپور خیر مقدم کرتے ہیں۔نان فائلرز اب کسی بھی ذریعے سے بین الاقوامی ٹرانزیکشنز نہیں کر سکیں گے جس سے فارن کرنسی اکاؤنٹس کا غیر قانونی استعمال بند ہو جائے گا۔ اس سے ملک سے ڈالر کے فرار اور کالے دھن کو سفید کرنے کے سلسلہ کی حوصلہ شکنی ہو گی جبکہ روپیہ مستحکم ہوجائے گا۔ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر کریم عزیز ملک اور چئیرمین کو آردینیشن ملک سہیل حسین نے کہا کہ وزیر اعظم کے مشیر برائے ریونیو ہارون اختر خان اور چئیرمین ایف بی آرطارق محمود پاشا کاروباری برادری کو ہر ممکن ریلیف فراہم کر رہے ہیں جبکہ کاروباری برادری کے تحفظات دور کئے جا رہے ہیں اور اہم فیصلوں سے قبل ان کی رائے لی جا رہی ہے۔انھوں نے کہا کہ عرصہ دراز سے فارن کرنسی سے متعلق قوانین مبہم اور زمینی حقائق سے متصادم تھے جس سے کرپشن اور غیر قانونی سرگرمیوں کو ہوا ملی تھی مگر اب حکومت کی جانب سے قانون میں ترمیم سے سٹہ بازوں کی حوصلہ شکنی ہو گی، زرمبادلہ کے ذخائر پر بڑھتا ہوا دباؤ کم ہو جائے گا، جاری حسابات کے خسارے کا پھیلاؤ بھی کم ہو جائے گا جبکہ ترسیلات زر جن کا حجم بیس ارب ڈالر سالانہ ہے پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔ملک سہیل حسین جو اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے سابق سینئرنائب صدر بھی ہیں نے کہا کہ قوانین میں سختی سے پاکستان پر دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے کے الزامات کا سد باب ہو جائے گا جبکہ آف شوراثاثے رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت کمرشل بینکوں کے پاس سوا چھ ارب ڈالر موجود ہیں اور اب جو لوگ اپنے اکاؤنٹ رکھنا چاہتے ہیں انھیں ہر صورت میں فائلر بننا پڑے گا جبکہ جو کھاتہ دار فائلر بننا نہیں چاہتے وہ اپنا سرمایہ نکلوا سکیں گے مگر ان اکاؤنٹس کا ناجائز استعمال نہیں ہو سکے گا۔انھوں نے کہا کہ ٹوٹل آڈٹ کے طریقہ کار میں تبدیلی احسن اقدام ہے کیونکہ اب آڈٹ کا سامنا کرنے والے تاجروں کو اگلے دو سال تک آڈٹ لسٹ میں شامل نہیں کیا جا سکے گا جو ایک بڑا ریلیف ہے۔

جس کے لئے حکومت کے شکرگزار ہیں۔

مزید : کامرس