پٹوار سرکل ہربنس پورہ ، سرکاری اراضی پر سیاسی شخصیت کا قبضہ ، دفتر اور گھر تعمیر کر لیا

پٹوار سرکل ہربنس پورہ ، سرکاری اراضی پر سیاسی شخصیت کا قبضہ ، دفتر اور گھر ...

لاہور(اپنے نمائندے سے )تحصیل شالیمار کی حدود میں آنے والے پٹوار سرکل ہربنس پورہ کے حنیف پارک میں وفاقی حکومت کی انتہائی قیمتی سرکاری اراضی پر پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنے والے (ق) لیگ کے سابق ناظم نے قبضہ کرکے پراپرٹی کا دفتر اور گھر تعمیر کرلیے، اطلاعات ملنے کے باوجود تحصیل شالیمار کے اسسٹنٹ کمشنر وریونیو سٹاف نے آنکھیں بند کرلی۔ شہریوں کی کثیر تعداد نے ریونیو سٹاف کے دوہرے معیار پرشدید احتجاج کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر لاہور سے نوٹس لینے کی اپیل کی ہے ۔مزید معلوم ہوا ہے کہ ہربنس پورہ پٹوار سرکل کے علاقہ حنیف پارک میں (ق) لیگ دور کے سابق ناظم میاں افتخارجوکہ موجودہ حالات میں تحریک انصاف کی سیاسی جماعت سے وابستہ ہوچکے ہیں اور اپنی اس فنی سیاسی پارٹی کے اہم ترین نمائندوں کے ساتھ تصاویر کھنچوانے اور اسی سیاسی پلیٹ فارم کے اثرورسوخ کو استعمال کرتے ہوئے وفاقی حکومت کی ملکیتی بیش قیمتی سرکاری اراضی پر ناصرف قبضہ کرنے بلکہ پختہ تعمیرات کرتے ہوئے پراپرٹی کادفتر قائم کرنے اورعالیشان گھر تعمیر کرنے میں کامیاب ہوچکے ہیں مبینہ طورپر ملنے والی معلومات کے مطابق میاں افتخار نے ملکیتی خسرہ جات کی رجسٹریاں پاس کروارکھی ہیں اور سرکاری زمین کو اپنے قبضے میں لے کر ملکیتی خسرہ جات کو سرکاری خسرہ تلے آنے والے زمین پر ظاہر کرنے کے حوالے سے اپنی حکمت عملی تیارکرچکے ہیں۔ مقامی شہریو ں کی کثیر تعداد نے محکمہ ریونیو کے اس دوہرے معیار پر شدید احتجاج کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ محکمہ ریونیو کے اسسٹنٹ کمشنر علی اکبر بھنڈر اور دیگر سٹاف وہاں آپریشن کررہے ہیں جو لوگ کمزور اورغریب ہیں جو بااثر اور تگڑے افراد ہیں ان سے باقاعدہ حصہ لیکر ان کو تعمیرات کرنے کی کھلی چھوٹ دی جارہی ہے جوکہ لاقانونیت کی بڑی مثال ہے۔ ہم ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر طاہر فاروق اور ڈپٹی کمشنر لاہور سمیر احمد سے ان تعمیرات کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ دوسری جانب میاں افتخار نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ پراپرٹی کے آفس اور میرے گھر کی پاس شدہ رجسٹریاں موجو ہیں میرے مخالفن میرے خلاف پراپگنڈہ کررہے ہیں اگر محکمہ ریونیو کے کسی بھی بڑے انتظامی آفیسر نے میرے کاغذات چیک کرنے ہیں تو وہ کرسکتے ہیں میرے قبضے میں جو پراپرٹی ہے وہ سرکاری نہیں ہے بلکہ پرائیویٹ خرید کردہ ہے۔ تاہم ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لاہور طاہر فاروق نے اسی ضمن میں واقع موقف دیا ہے کہ روزنامہ پاکستان کی نشاندہی پر بھرپور تحقیقات کی جائیگی اگر سرکاری اراضی پر قبضے کی تصدیق ہوئی تو بلا تفریق قانونی کارروائی کی جائیگی کسی کو رعایت نہیں دی جائیگی اور سرکاری زمین کی ایک ایک انچ کی حفاظت کی جائیگی سرکاری ارضی واہ گزار کروانا بھی ہمیں آتی ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...