سویلین بالادستی؟

سویلین بالادستی؟
سویلین بالادستی؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز الاحسن کے لاہور میں واقع گھر پرنا معلوم افراد کی طرف سے کی گئی فائرنگ کے دو واقعات پیش آئے،پہلا سنیچر کی لیٹ نائٹ اور دوسرا اتوار کی صبح صبح۔

معزز جج صاحب ویک اینڈعام طور پر لاہور میں اپنے گھر میں گذارتے اور پیر سے جمعہ تک سپریم کورٹ میں اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔

ان دنوں ہماری اعلی عدالتوں میں بہت سے اہم سیاسی اور غیر سیاسی مقدمات سنے جا رہے ہیں جن میں سے کچھ میں وہ بھی بنچ کا حصہ ہیں، وہ احتساب عدالت میں میاں نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف لندن میں جائداد کے حوالہ سے چلنے والے مقدمہ میں سپریم کورٹ کی طرف سے نگران جج بھی ہیں۔

اگر چیف جسٹس کی تقرری کے موجودہ قوانین برقرار رہے تو آج سے سوا چھ سال بعد اگست 2024 میں وہ ایک سال کے لئے چیف جسٹس پاکستان بھی ہوں گے۔

،مستقبل کے چیف جسٹس کے گھر پر ہونے والی فائرنگ ایک انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے اور اس کی تحقیقات اپنے منطقی انجام تک ضرور پہنچنی چاہئیں کہ وہ کون ہیں جو اتنی جرات کر سکتے ہیں ۔

چونکہ چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار فوری طور پر جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پہنچ کر تمام امور کی خود نگرانی کر رہے تھے اس لئے امید کی جا سکتی ہے کہ وہ اس سنگین واقعہ کے ذمہ داران تک نہ صرف پہنچیں گے بلکہ انہیں قانون کی گرفت میں بھی لائیں گے۔ 

پاکستان کے کچھ چینلوں کی نشریات تقریباً تمام شہروں میں بند کر دی جاتی ہیں۔ یہ چینل عمومی طور پر حکومت کے حامی سمجھے جاتے ہیں اس لئے ان کی نشریات کو بند کروانا حکومت کے لئے بھی پریشان کن ہے۔

حکومتی وزرا سے لے کر پیمرا کے اعلی افسران تک کوئی نہیں جانتا کہ وہ کون ہیں جو آزادیِ رائے میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں۔ آخر کوئی تو ہے جو اپنے آپ کو اتنا غیر محفوظ سمجھتا ہے کہ کیبل آپریٹرز پر دباؤ ڈال کر کچھ مخصوص چینل بند کروا دئیے جاتے ہیں۔

میں آج صبح بھی وہ فہرست دیکھ رہا تھا جس میں پاکستان کے پچیس تیس بڑے شہروں کے اعداد وشمار درج تھے کہ کون سے شہر میں کون سا چینل کتنے فیصد بند ہے اور یہ بات بہت حیران کن تھی کہ بعض چینل بڑے شہروں میں سو فیصد بند کرا دئیے جاتے ہیں۔

پاکستان میں ان دنوں سویلین حکومت ہے اس لئے مارشل لا ادوار کی طرح سخت سنسر شپ تو عائد کی نہیں جا سکتی اس لئے مطلوبہ مقاصد کے حصول کے لئے متبادل طریقے استعمال کئے جاتے ہیں مارشل ادوار کے اخبارات ابھی تک لوگوں کے حافظوں میں محفوظ ہوں گے جب صفحات کا ایک بڑا حصہ خالی ہوتا تھا کیونکہ بہت سی خبریں مارشل لا حکام کے کہنے پر اتار لی جاتی تھیں۔

سقوطِ ڈھاکہ سے قبل ٹیلیویژن چینل تو نہیں ہوا کرتے تھے لیکن معلوماتِ عامہ کو لوگوں تک پہنچنے سے روکنے کے دوسرے ہتھکنڈے ضرور استعمال ہوتے تھے جن کی وجہ سے لوگوں کو اصل خبروں اور تصدیق شدہ معلومات کی بجائے افواہ ساز فیکٹریوں میں گھڑا جانے والا پراپیگنڈا پہنچتا تھا۔

آج کے دور میں بھی اگر بے جا رکاوٹیں کھڑی کی گئیں تو افواہ ساز فیکٹریوں کی پروڈکشن تیز ہو جائے گی اور عام پبلک کو صحیح اور غلط کے درمیان تمیز کرنا مشکل ہوتا چلا جائے گا، اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ ایسی چیزوں سے گریز کرنا چاہئے جو ملک میں انارکی کی بنیاد رکھنے کی اہل ہوں۔ 

جب سے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جناب جاوید اقبال نیب کے چئیرمین بنے ہیں، نیب کی طرف سے کی جانے والی ایکٹوزم میں بہت تیزی آ گئی ہے۔شائد ہی کوئی دن ایساگذرتا ہو جب چئیرمین اور ان کے نیچے ڈی جی صاحبان کسی نئے کیس پر کام شروع نہ کرتے ہوں ۔

لیکن اس میں ایک دلچسپ بات یہ ہے ان کی زیادہ تر تحقیقات مسلم لیگ نواز کی وفاقی یا صوبائی حکومت سے متعلق ہوتی ہیں۔ غالباً ان کی عینک سے وفاق اور پنجاب کی حکومتیں تو نظر آتی ہیں لیکن باقی صوبوں کی نہیں۔ آنکھ کی بیماریوں میں ایک Macular Degeneration ہوتی ہے جسے AMD بھی کہتے ہیں۔

اس بیماری میں پردہ بصارت پر چھوٹے چھوٹے دھبے (Drusens) بن جاتے ہیں جس کی وجہ سے متاثرہ مریض وہ چیزیں نہیں دیکھ پاتا جو ان دھبوں کے پیچھے ہوں۔ ان لوگوں کو کچھ چیزیں نظر آ رہی ہوتی ہیں اور کچھ چیزیں موجود ہونے کے باوجود بھی پردہ بصارت پر عکس نہیں بنا پاتیں۔

پچھلے کئی ماہ سے نیب کی جانب سے کئے جانے والے معاملات میں ایسی ہی بیماری کا گمان ہوتا ہے کہ سندھ اور خیبر پختون خوا میں ہونے والی کرپشن نیب کے پردہ بصارت پر اپنا عکس نہیں بنا پا رہی جبکہ پنجاب میں کئی گنا بڑے عکس بن رہے ہیں۔

پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے افسر احد چیمہ اور کچھ افسران پہلے ہی گرفتار ہیں ، ان کے علاوہ ان دنوں حکومت پنجاب کی 56 کمپنیاں بھی نشانہ پر ہیں جن کے افسران کی آئے دن طلبی اور کچھ کی گرفتاری بھی ہو جاتی ہے۔ اس میں تازہ ترین اضافہ پنجاب ڈویلپمنٹ کمپنی کے چیف فنانشل افسر کی گرفتاری ہے۔

لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال نہیں اٹھتا کہ پنجاب کی کمپنیاں اور افسران کیوں نشانے پر ہیں، سوال صرف یہ اٹھتا ہے کہ باقی صوبوں میں احتساب کا عمل کیوں کمزور ہے؟ ابھی تک لوگ نہیں بھولے کہ خیبر پختون خوا کے معدنیات سکینڈل میں وزیر اعلی کی کرپشن کو بچانے کے لئے محکمہ معدنیات کے وزیر اور انتہائی ایماندار اور قابل سیکرٹری کو انتقامی کاروائی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

احتساب اور نیب پر لوگوں کا اعتماد اس وقت قائم ہوگا جب یہ بلا امتیاز ہوگا اور اس کے پردہ بصارت پر Drusens یعنی دھبے نہیں ہوں گے جن کی وجہ سے انہیں کچھ نظر آتا ہے اور باقی نظر نہیں آتا۔وہ کون سے فرشتے ہیں جو نیب کے ادارے اور احتساب کے عمل کو یکطرفہ طریقہ سے چلا رہے ہیں۔ اس یکطرفہ ٹریفک سے عوام کا اعتماد اپنے اداروں پر کم ہوتا جا رہا ہے۔

پاکستان میں ایک کے بعد دوسری سویلین حکومت اپنے دورِ اقتدار کی مدت مکمل کرنے جا رہی ہے۔اگر حکومت باقی کے چھ ہفتے بھی خیریت سے گذار لیتی ہے تو یہ بات ملک کے جمہوری مستقبل کے لئے بہت خوش آئند ہو گی۔ پاکستان کو آگے بڑھنے کے لئے نہ صرف جمہوری عمل میں تسلسل برقرار رکھنا ہوگا بلکہ شفاف انتخابات کے بعد منتقلیِ اقتدار کا مرحلہ بھی خوش اسلوبی سے طے کرنا ہوگا۔

دودھ کا جلا چھاچھ پھونک پھونک کر پیتا ہے۔ بالغ رائے دہی کی بنیاد پر کرائے جانے والے پہلے الیکشن کے بعد فوجی جنتا منتقلیِ اقتدار میں ناکام رہی تھی جس کے بعد خانہ جنگی ہوئی اور ملک کے دو ٹکڑے ہو گئے تھے۔

اس کے بعد بھی ملک میں دو طویل مارشل لا لگے اور باقی کا وقت پیچھے بیٹھ کر کنٹرولڈ ڈیموکریسی کی کوششوں میں گذراجن میں بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کو بار بار دیوار سے لگایا گیا۔ ان چیزوں سے ملک کمزور ہوا ہے اور مزید اس وقت تک ہوتا رہے گا جب تک عوام کے منتخب کردہ حکمرانوں کا حقِ حکمرانی دل سے تسلیم نہیں کر لیا جاتا۔

میاں نواز شریف کو اقتدار سے زبردستی باہر رکھنے کے لئے چیزوں کو کنٹرول کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے عوام میں بددلی پھیلتی ہے جو آگے چل کر انارکی کی بنیاد بن سکتی ہے۔

وفاقِ پاکستان کی حفاظت صرف عوام کے ووٹ کی پرچی کر سکتی ہے۔ ٹینک، جنگی جہاز، عدالتیں اور ادارے تو سوویت یونین، یوگوسلاویہ اور دوسرے ملکوں میں ہم سے بھی زیادہ تھے لیکن وہ اپنے ملک کو بکھرنے سے نہیں بچا سکے کیونکہ وہاں ووٹ کی پرچی نہیں تھی۔

انہی ملکوں میں اب جمہوریت ہے اور عوام کے ووٹ کا تقدس بحال ہوا ہے تو وہ دوبارہ سے مضبوط ہورہے ہیں۔ پاکستان میں اب یکطرفہ احتساب بند اور شفاف انتخابات ہونے چاہئیں ۔

میاں نواز شریف کی نا اہلی کو سپریم کورٹ نے تا حیات قرار دے دیا ہے جو آئین میں دی گئی بنیادی حقوق کی شقوں کے منافی ہے۔ یہ پارلیمنٹ کی نا اہلی تھی کہ اٹھارویں ترمیم کے موقع پر اس نے آئین کی شقوں باسٹھ اور تریسٹھ کو نظر انداز کیا لیکن یہ بھی اہم ہے کہ نا اہلی کی مدت کا تعین پارلیمنٹ ہی کر سکتی ہے اور اسے یہ کام اب کر گذرنا چاہئے۔

ان چھ ہفتوں میں حکومت اور اپوزیشن کو مل کر پارلیمنٹ میں نااہلی، احتساب، عدلیہ اور دوسرے اداروں کے بارے میں ضروری قانون سازی کر لینی چاہئے تاکہ معاملات پارلیمان کے اپنے ہاتھ میں رہیں۔

الیکشن قریب ہوں تو بہت سے بے سرے اپنا اپنا راگ الاپنا شروع کر دیتے ہیں ، ایسا اب بھی ہو گا لیکن پارلیمان کو انتہائی یکسوئی کے ساتھ اگلے چند ہفتوں میں اپنا کام کرنا چاہئے تاکہ عدالتوں اور احتساب اداروں میں آئین اور قانون کی عملداری ہو۔

دنیا کے بیشتر ممالک کی تاریخ گواہ ہے کہ ان میں سویلین بالادستی انتھک جدوجہد کے نتیجہ میں حاصل ہوئی ، پاکستان کی بقا سویلین بالادستی میں ہے اوریہاں بھی بالآخر یہ قائم ہو کر رہے گی۔ 

مزید : رائے /کالم