نئے صوبوں کی تشکیل ۔۔۔یکساں اصول وضع کریں

نئے صوبوں کی تشکیل ۔۔۔یکساں اصول وضع کریں

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ نئے صوبے اتفاق رائے سے بنانے ہیں، تمام سیاسی جماعتیں مل بیٹھ کر گفت و شنید کے ذریعے فیصلہ کر لیں، الیکشن سے چند ماہ پہلے پریس کانفرنس سے مسئلے حل نہیں ہوتے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا، ہم نے سیاست کا وقار مجروح نہیں ہونے دیا، سیاست کے فیصلے صرف پاکستان کے عوام کو کرنے ہیں، وہ بہاول پور میں نیشنل ہائی وے کے جلال پور پیروالا اور اُچ شریف سیکشن کے افتتاح کے موقع پر خطاب کر رہے تھے۔ 

چونکہ انتخابی مہم جاری ہے، سیاسی جماعتیں، ان کے سربراہ اور رہنما متحرک ہیں، انتخابی جلسوں میں زیادہ زور تو ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی اور جوابی الزام تراشی پر لگایا جا رہا ہے لیکن درمیان درمیان میں بعض سیاسی مسائل پر بھی بات ہو جاتی ہے۔ پنجاب کو تقسیم کرکے جنوبی پنجاب کے نام سے نیا صوبہ بنانے کی بات اگرچہ کافی عرصے سے چل رہی ہے لیکن چند روز پہلے اس نام سے چونکہ ایک نئی تنظیم سامنے آ گئی ہے، اس لئے نئے صوبے کی بات شدّومد سے ہونے لگی ہے، پیپلزپارٹی کا دعویٰ ہے کہ جنوبی پنجاب کا صوبہ وہ بنائے گی، تحریک انصاف بھی اس کی حمایت کر چکی ہے، مسلم لیگ (ن) کا کہنا ہے کہ جنوبی پنجاب اور بہاول پور صوبہ کے حق میں قراردادیں سب سے پہلے اس نے منظور کرائی تھیں۔ اب ’’جنوبی پنجاب صوبہ محاذ‘‘ بھی دوسری جماعتوں کے ساتھ رابطے کر رہا ہے یا دوسری جماعتوں کے سربراہ یا ان کے نمائندے اُن کے پاس چل کر جا رہے ہیں اور ان ملاقاتوں میں جنوبی پنجاب صوبے کی حمایت ہوتی ہے، مل کر الیکشن لڑنے کے ایجنڈے پر بھی بات کی جاتی ہے۔ یہ تو الیکشن کے نتیجے سے معلوم ہوگا کہ جنوبی پنجاب کے مسئلے پر کس کو کتنی کامیابی ملتی ہے کیونکہ اس معاملے پر جنوبی پنجاب کے لوگوں کی رائے بھی تقسیم ہے، محاذ والے بھی یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ انہیں پورے خطے کے عوام کی حمایت حاصل ہے یا وہ مکمل حمایت حاصل کر سکتے ہیں۔ 

اِن حالات میں وزیراعظم کی یہ تجویز اچھی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں مل کر بیٹھیں اور اس مسئلے کا حل نکالیں، اس وقت تو یوں لگتا ہے جیسے پورے پاکستان کے باقی تمام مسائل حل ہو گئے ہیں، دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگی ہیں، اگر کوئی مسئلہ باقی رہ گیا ہے تو وہ جنوبی پنجاب ہے اور اگر جنوبی پنجاب والوں کے مسئلے حل نہیں ہو رہے تو اس کی وجہ یہی ہے کہ یہ صوبہ نہیں بن پایا، جونہی صوبہ بنے گا سارا کچھ پلک جھپکنے میں ٹھیک ہو جائے گا اور پورے صوبے بلکہ پورے ملک میں راوی چین ہی چین لکھے گا، جبکہ عملاً ایسا نہیں ہے۔ 

جنوبی پنجاب صوبہ کے حق میں سب سے بڑی دلیل یہ لائی جا رہی ہے کہ صوبہ اس لئے بننا چاہئے کہ اس وقت پنجاب کا دارالحکومت لاہور جنوبی پنجاب کے علاقوں سے کئی گھنٹوں کی مسافت پر واقع ہے، اگر جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ بنا دیا جائے تو یہ فاصلہ سمٹ جائے گا، صوبے کی تخلیق و تشکیل کے حق میں دوسری دلیلیں بھی ہوں گی لیکن فی الحال اس پر بات کر لیتے ہیں۔ پنجاب کا دارالحکومت اگر راجن پور سے آٹھ نو گھنٹے کے فاصلے پر ہے تو کیا یہ حقیقت نہیں کہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ پہنچنے کے لئے اس صوبے کے بعض علاقوں کے لوگوں کو چوبیس گھنٹے سے بھی زیادہ لگ جاتے ہیں۔ اس لئے جو فارمولا پنجاب پر منطبق کیا جا رہا ہے، کیا بلوچستان پر اس کا اطلاق نہیں ہونا چاہئے، صرف بلوچستان کیا سندھ کا دارالحکومت کراچی اندرون سندھ کے بعض علاقوں سے کتنے فاصلے پر ہے، کیا کبھی کسی نے اس کا حساب کیا ہے، اس لئے سندھ پر یہ فارمولا کیوں نہ لگایا جائے اور اگر فاصلوں کو سمیٹنا ہی نئے صوبوں کی تشکیل کے لئے وزنی دلیل ہے تو پھر ہر صوبے پر اس کا یکساں اطلاق ہونا چاہئے۔ 

ایک جانب تو پنجاب کو کاٹ کر اس کے حصے بخرے کرنے کی بات ہو رہی ہے اور اس تحریک میں خود پنجاب کے لوگ شامل ہیں جبکہ دوسرے صوبوں کے سیاست دانوں کی نظرِ عنایت بھی پنجاب پر ہے۔ اگرچہ اس کی وجوہ مختلف ہیں، پنجاب بڑا صوبہ ہے، اس لئے اسے چھوٹا کرو تو سوال یہ ہے کہ جو لوگ فاٹا کو صوبہ خیبرپختونخوا کا حصہ بنانے کے لئے مرے جا رہے ہیں وہ کس دلیل کے تحت ایک صوبے کی حدود وسیع کرنا چاہتے ہیں۔ اگر صوبے چھوٹے ہونے چاہئیں تو اس اصول کو ہر صوبے میں پیش نظر رکھنا ہوگا، جو سنہری اصول پنجاب کے لئے اپنایا جا رہا ہے، دوسرے صوبوں تک پہنچتے پہنچتے، اس کا رنگ کالا کیوں ہو جاتا ہے۔ فی الحال ہم فاٹا کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے حق یا مخالفت میں دلائل نہیں دے رہے۔ عرض صرف یہ کر رہے ہیں کہ ایک صوبے کی حدود کم کرنے اور دوسرے صوبے کی حدود وسیع کرنے کا سنہری اصول آخر کون سے آسمان سے نازل ہوا ہے۔ اگر پنجاب کی حدود سکڑنی چاہئیں تو دوسرے صوبوں کی کیوں نہیں اور اگر ایک صوبے کی حدود وسیع کرنا مطلوب ہے تو اس اصول کا اطلاق دوسرے صوبوں پر کیوں نہیں؟ خیبر پختونخوا میں ہزارہ صوبہ بنانے سے کیا علاقہ ترقی نہیں کرے گا، اس کی مخالفت کیوں ہو رہی ہے؟ بلوچستان کی آبادی اگرچہ کم ہے لیکن فاصلے زیادہ ہیں، ذرائع رسل و رسائل بھی اتنے ترقی یافتہ نہیں، کہیں کہیں تو سڑکیں بھی نہیں، صوبے کا دارالحکومت کوئٹہ ہی ایک بڑا شہر ہے، باقی شہر بھی برائے نام ہیں، ویسے بھی صوبے کی پشتون آبادی کی نمائندگی کے دعویدار نصف صدی سے زیادہ عرصے سے پشتون صوبے کی بات کر رہے ہیں، ان کی بات پر کان کیوں نہیں دھرے جا رہے۔ 

اسی طرح اندرون سندھ کا اگر الگ صوبہ بنا دیا جائے اور کسی مرکزی مقام کو اس نئے صوبے کا دارالحکومت بنا دیا جائے تو اس میں کیا خرابی ہے؟ لیکن ہو یہ رہا ہے کہ بعض سیاسی جماعتیں ایک صوبے کی تقسیم چاہتی ہیں تو دوسرے صوبے کی تقسیم سے الرجک ہیں۔ اس کی وجوہ بھی تلاش کرنے کی ضرورت ہے کہ ہر کسی کے دل میں پنجاب کو تقسیم کرنے کی محبت کیوں جاگی ہوئی ہے اور دوسرے صوبوں کی تقسیم کی مخالفت پر بعض لوگ مرنے مارنے پر کیوں تل جاتے ہیں؟ تقسیم کا اصول اگر کوئی ہے تو یکساں ہونا چاہئے، اس لئے وزیراعظم کی یہ تجویز صائب ہے کہ نئے صوبوں کے لئے تمام سیاسی جماعتیں مل بیٹھ کر کوئی متفقہ فارمولا اور پورے ملک میں نئے صوبے بنانے کے لئے یکساں اصول طے کر لیں، یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک صوبے کے لئے ایک اصول اور دوسرے کے لئے کوئی دوسرا اصول، سیاسی جماعتیں میٹھا میٹھا ہپ کا نظریہ نہ اپنائیں، انہیں تلخ حقیقتوں کو بھی تسلیم کرنا چاہئے اور زندگی کے حقائق کی درست تفہیم ہونی چاہئے، اگر ایسا نہیں ہوگا تو کسی ایک صوبے یا کسی ایک علاقے کے لوگوں کو شکایات پیدا ہوں گی، بطور پاکستانی ہر خطے کے شہری ریاست میں یکساں حقوق کے مستحق ہیں اور اُنہیں یکساں انصاف کی نظر سے دیکھنا ضروری ہے، خطے کی زبان بدلنے کے ساتھ ہی رویئے نہیں بدل جانے چاہئیں۔ 

مزید : رائے /اداریہ