بابر کروز میزائل کے تجربے سے دفاعی صلاحیت میں اضافہ 

بابر کروز میزائل کے تجربے سے دفاعی صلاحیت میں اضافہ 

پاکستان نے اپنے میزائل پروگرام میں بابر کروز میزائل کا انتہائی کامیاب تجربہ کیا ہے۔ بابر کروز میزائل 700 کلومیٹر تک خشکی اور سمندر میں اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ سٹیلیتھ ٹیکنالوجی کا حامل یہ میزائل مختلف وار ہیڈز لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جدید آلات سے لیس بابر کروز میزائل جی پی ایس کے بغیر بھی اپنے ہدف تک پہنچ سکتا ہے۔ کامیاب میزائل تجربے کے بعد پاکستان کی دفاعی صلاحیت مزید مضبوط ہوئی ہے۔ یہ خوشخبری اس وقت حاصل ہوئی، جب ہفتے کے روز دفاع سے متعلق مختلف ڈویژنوں کے سربراہوں، سائنس دانوں اور انجینئروں کی موجودگی میں بابر کروز میزائل فائر کیا گیا، جس نے بڑی کامیابی سے اپنے ہدف کو نشانہ بنایا۔ صدر مملکت، وزیراعظم اور مسلح افواج کے سربراہوں نے اس کامیاب تجربے پر سائنس دانوں اور انجینئروں کو مبارکباد دیتے ہوئے ان کی صلاحیتوں کو بے حد سراہا۔ پاکستان کو خطے میں ازلی دشمن بھارت سے براہِ راست واسطہ رہتا ہے۔ بھارتی حکمرانوں کی طرف سے اشتعال انگیزیوں میں کبھی کمی نہیں ہونے دی گئی۔ خاص طور پر مودی سرکار کی انتہائی غیر ذمے دار پالیسیوں کی وجہ سے خطے میں ہر وقت جنگ کا خطرہ منڈلاتا رہتا ہے۔ بھارت نے ایٹمی دھماکہ پہلے کیا، جس کے بعد پاکستان کو ایٹمی دھماکے کرنے پڑے۔ اسی طرح بھارت نے جنون کی حد تک اسلحے کی دوڑ شروع کر رکھی ہے۔ ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان نے میزائل پروگرام میں اعلیٰ صلاحیت کے حصول سے مختلف میزائلوں کے کامیاب تجربے کرکے بھارت پر سبقت حاصل کر لی تھی، جس کی وجہ سے بھارتی حکمران بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، مختلف میزائل تجربوں (بعض تجربات ناکام بھی ہوئے) کے ساتھ ساتھ اسلحے کی خریداری دھڑا دھڑ کر رہے ہیں۔ امریکہ، برطانیہ، فرانس اور دیگر ملکوں سے اربوں ڈالر کے معاہدے کرکے خطرناک اسلحہ خریدا گیا ہے، تاہم پاکستان نے اپنے میزائل پروگرام پر زیادہ توجہ دی ہے اور بابر کروز میزائل اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ پاکستان کی دفاعی تیاریوں سے متعلق پالیسی نہایت اطمینان بخش ہے۔ بھارت جیسے غیر ذمے دار اور غیر سنجیدہ ملک کو دندان شکن جواب دینے کے لئے ہمیں ہر وقت اپنے ’’گھوڑوں‘‘ کو تیار رکھنے کی ضرورت ہے۔ خصوصاً موجودہ حالات میں جب بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر درندگی اور مظالم کی انتہا کر رکھی ہے اور مقبوضہ کشمیر کی صورت حال سے توجہ ہٹانے کے لئے لائن آف کنٹرول پر مسلسل اشتعال انگیزیاں کی جا رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی بھارت سی پیک منصوبوں کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی سازشوں میں بھی مصروف رہتا ہے، چنانچہ پاکستان کو اپنی دفاعی پوزیشن کو مضبوط بناتے رہنا چاہئے، بابر کروز میزائل جیسے تجربات کرتے رہیں گے تو بھارت کو جنگی جنون سے باز رکھا جا سکے گا۔ 

مزید : رائے /اداریہ