کسی بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں

کسی بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں
کسی بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں

پاکستان اپنے سے پانچ گنا بڑے مُلک سے کئی دفعہ پنجہ آزمائی کر چکا ہے، لیکن اس نے کبھی ہار نہیں مانی۔ بھوٹان، نیپال، برما، سری لنکا اور بنگلہ دیش کب کے بھارت کے سامنے سرنگوں ہو چکے ہیں۔

ایک پاکستان ہے جو ستر سال سے سینہ تانے کھڑا ہے۔ تو کیا اس کی وجہ ہماری فوجی قوت ہے؟ کیا ہماری معیشت اتنی توانا ہے کہ ہم لڑ بھڑ سکتے ہیں؟ یا اس کی وجہ ہماری قومی و ادارہ جاتی یکجہتی و یک سوئی ہے؟یا ممکن ہے ،ہماری سفارتی کوششیں اس کی وجہ ہوں؟

اگر ہماری فوج اتنی توانا ہے کہ بھارت سے لڑ سکے تو اکہتر میں ملک دو لخت نہ ہوتا۔نہ کارگل کا سانحہ منظرعام پر آتا۔ مزید مہم جوئی نہ کی جائے تو بہتر ہے۔

اب اگر معیشت کے میدان میں بھارت سے مقابلہ کرنا ہے تو اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ جن تاریخوں میں ہم اپنی بہترین بندرگاہ ایک غیرملک کو ٹھیکے پر ’’دے‘‘ رہے ہیں کہ ہم خود نہیں چلا سکتے ، عین انہی دنوں میں بھارت ہمارے ہی پڑوسی ملک کی جدید ترین بندرگاہ ٹھیکے پر ’’لے‘‘ رہا ہے۔

اگر زرِمبادلہ کے محفوظ ذخائر کے حوالے سے مقابلہ کرنا پیشِ نظر ہے تو آج کی تاریخ میں کہ جب ہمارے کل محفوظ ذخائر20ارب ڈالرکے آس پاس لڑھک رہے ہیں، ہمارے مدِ مقابل کے پاس394 ارب ڈالر موجود ہیں۔ اکنامک سروے آف انڈیا 2014-15 ء امید کرتا ہے کہ آنے والے چند برسوں میں یہ ہندسہ ہزار ارب،یعنی ایک ٹریلین کو چھو لے گا۔

چلئے سفارت کاری کو دیکھتے ہیں! یہ کہنا بے مقصد ہے کہ بحرانی کیفیت میں ہر ملک پڑوسی ہی پر سب سے پہلے انحصار کرتا ہے۔ 65ء کی جنگ میں ایران نے اپنے وسائل کی ہمیں یوں پیشکش کی تھی کہ جو چاہے لے لیں، فوجی اڈے یا تیل! اور اب اسی ایران کی انتہائی سٹرٹیجک بندرگاہ بھارت کے قبضے میں ہے۔ کلبھوشن براستہ ایران ہی بلوچستان میں نازل ہوا تھا۔ کراچی سے ذرا پرے سمندر پار متحدہ عرب امارات کا جنرل اپنے ملک سے پاکستانیوں کو نکالنے کا عندیہ دیتا ہے اور بت خانے تو وہاں پہلے ہی بن چکے ہیں۔

افغانستان نے 65ء کی جنگ میں ہمیں خاموش سفارتی ذریعے سے بے فکری کا پیغام بھیجا تھا۔ آج افغانستان کو متصور کریں، کون سا شعبہ ہے جہاں ہندوستان کا عمل دخل تمام حدود کو نہ پھلانگ چکا ہو۔

تو 65ء کی جنگ ہم نے کیسے جیتی تھی؟ تنگی ترشی کے شکار، فاقہ کش اور محبت کے مارے لوگ اپنا پیٹ کاٹ کر فوجی بھائی کو زبردستی کچھ نہ کچھ پیش کرتے تھے۔

اسلحہ سازی ملک میں نام کو نہ تھی۔ امریکی اسلحہ ہمیں اس شرط پر دیا گیا تھا کہ اسے کمیونسٹ خطرے کے خلاف استعمال کیا جائے گا۔ ادھر ہندوستان جدید ترین روسی اسلحہ سے لیس تھا۔

ان تمام بے سروسامانیوں کے باوجود مُلک میں بے مثال یکجہتی تھی اور اسی یک جہتی کے سہارے ہم ہندوستان کا مقابلہ کر کے سر اٹھانے کے قابل ہوئے تھے۔

ذرا آگے چل کر اکہتر میں آئیے!

16 دسمبر 1971ء سے بہت پہلے ہم جنگ ہار چکے تھے۔ ہندوستان کی یہ تاریخی اور سفارتی حماقت تھی کہ پلٹن میدان میں ہمارے جرنیل سے اس کے جرنیل نے ریوالور لیا۔ ورنہ مکتی باہنی کے نہتے اور ہتھیار بند لوگ بہت پہلے ہماری فوج کو بے بس کر چکے تھے۔ اس بحث میں ہم نہیں پڑتے کہ مکتی باہنی ہندوستان ہی نے تیار کی تھی، وہ لوگ تھے تو پاکستانی! تو وہ ہندوستان کے کارندے کیوں بنے۔ کئی جواب ہو سکتے ہیں، لیکن مسائل کی تہہ میں ایک ہی مسئلہ نظر آتا ہے! 

ووٹ کی بے توقیری!

کوئی دن نہیں جاتا کہ اسمارٹ فون پر چند منٹ کی ویڈیو ملتی ہے یا کوئی تحریر آ جاتی ہے، جس میں سیاست دانوں کی نااہلی اور حساس اداروں کے کارہائے نمایاں کا تذکرہ بڑے سائنسی انداز میں ہوتا ہے۔

معلوم نہیں اس ساری مشق کے پس پشت کون ہے، لیکن ملکی یکجہتی کی بقا کسی ایک فرد کی ذمہ داری تو نہیں ہے۔ اس مشق بے ثمر کے نتائج کیا ملکی یکجہتی کی صورت میں نکلیں گے؟ بڑی مشکل سے مُلک شیعہ سنی کے گرداب سے نکلتا ہے تو صوبائیت کے بھنور میں آ جاتا ہے۔ اس لعنت سے چھٹکارا ملتا ہے تو مسلکی آسیب ہمیں گھیر لیتا ہے۔ اور آج کل پتہ نہیں کون جمہوریت اور سیاست دانوں کی کردار کشی کی وڈیو تیار کر کے ملکی یکجہتی کو پارہ پارہ کرنے کے در پے ہے۔

اہلِ خانہ میں سے کسی ایک شخص سے گاڑی چلاتے ہوئے اونگھ کے باعث حادثہ ہو جائے تو اگلی دفعہ خانساماں یا چوکیدار گاڑی نہیں چلائے گا۔ گاڑی چلانے والا آخر کار ڈرائیور ہی ہو گا۔ کوئی سیاست دان غبن یا بدعنوانی کے باعث نا اہل ہوتو اگلی دفعہ کوئی سیاست دان ہی اس کی جگہ سنبھالے گا۔

ایوب خان اور یحییٰ خان ملک توڑنے کے ذمہ دار ہیں توکیا اب چیف آف آرمی اسٹاف کا منصب وزیرداخلہ سنبھالے گا؟ ایڈمرل منصورالحق کو بدعنوانی اور غبن کے جرم میں سزا ہوئی تو کیا اب نیشنل شپنگ کارپوریشن کا چیئرمین چیف آف نیول اسٹاف لگایا جا سکتا ہے؟

اِس دُنیائے فانی میں کوئی ایک مُلک ایسا نہیں ہے، جہاں تمام لڑائی بھڑائی کے بعد بالآخر ملکی نظام سیاست دانوں نے نہ چلایا ہو تو کیا خود تجربے کر کے مُلک کمزور کرنا ضروری ہے، دیگر ممالک سے سبق نہیں سیکھا جا سکتا۔ ایران، عراق، لیبیا، تھائی لینڈ، چلی۔

اس ملک میں فوج کے چاہنے والے اور اس سے محبت کرنے والے ایک دو نہیں سو فیصد ہیں اور یہی سوفیصد لوگ مختلف سیاسی خانوں میں بٹے ہوئے ہیں۔لوگ فوج سے بطور ادارہ محبت کرتے ہیں تو سیاست دانوں سے مسحور ہو کر انہیں چاہتے ہیں۔

اس یکجہتی کو پارہ پارہ نہ کریں۔ یہ دونوں رویے متوازی خطوط میں چلتے ہیں۔ اس توازن میں ، اس ایکوسسٹم میں یہ وڈیو اور تحریری پروپیگنڈا ملکی یکجہتی کے لئے انتہائی خطرناک ہیں۔

ان کے بنانے والے نرگسیت کا شکار ہو کر یہ کام کر تو رہے ہیں، لیکن اس کا نقصان ملک کو پہنچے گا، سیاست دانوں کو نہیں۔ کیا یہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ا س طرح کروڑوں لوگ ان کے ہم نوا بن جائیں گے؟ ذرا کوئی شخص اپنی بیوی ہی کو اپنا ہم نوا بنا کر دیکھے۔

پھر بھی یقین نہ آئے تو گزشتہ بلدیاتی انتخابات کے نتائج کہیں اور نہیں، کنٹونمنٹ (چھاؤنی) کے علاقوں ہی میں ملاحظہ کر لیں۔ اکہتر کے بعد‘کیا پھر کسی کو پھر کسی کا امتحان مقصود ہے۔

ووٹ کا احترام ! ورنہ ہمیں کسی بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں ہے۔ ہماری اصل قوت ہماری قومی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی ہے کچھ اور نہیں۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...