سیاسی رومان

سیاسی رومان
سیاسی رومان

  

سیاسی طور پر نواز شریف بہت رومانی ہوتے جارہے ہیں، جوں جوں مشکلات بڑھ رہی ہیں وہ سیاسی طور پر جوان ہوتے جا رہے ہیں، مزے مزے کے جملے اچھالتے ہیں اور ہر مشکل کو اچھی طرح سنبھالتے ہیں، سیاسی طور پر حقیقی لطف اٹھانے کے دن اپوزیشن میں ہوتے ہیں، اقتدار میں تو پتھر کھانے پڑتے ہیں، محترم عدالت نے نواز شریف کو نا اہل قرار دیا تو انہوں نے ایک معصوم سا جملہ اچھالا کہ مجھے کیوں نکالا؟

یہ جملہ بہت مقبول ہوا، ان کے کارکنوں نے اس جملے کو نعرہ بنا دیا مگر نواز شریف مخالف سیاستدانوں نے بھی اس جملے پر بہت گفتگو کی اور اپنی تقریروں میں نواز شریف کو سمجھانے لگے، کہ تمہیں کیوں نکالا، ان سیاستدانوں کا خیال تھا کہ شاید نواز شریف کو ابھی تک سمجھ نہیں آ رہی کہ انہیں کیوں نکالا، مگر آگے چل کے نواز شریف نے خود بتایا کہ مجھے کیوں نکالا، یعنی انہوں نے اس جملے کی تشریح کرتے ہوئے بتایا کہ وہ پانامہ کے ملزم تھے مگر اقامہ کے جرم میں نکال دیئے گئے۔ایک فاضل جج نے بھی بعد میں یہ سوال اُٹھا دیا کہ مقدمہ پانامہ کا تھا، فیصلہ اقامہ پر آیا۔ 

ابھی نواز شریف کا سیاسی رومان آگے بڑھ رہا ہے وہ اب نظریات کی بات کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ شاید پہلے نہ تھے لیکن اب نظریاتی ہیں۔

یہ نظریاتی واپسی انہوں نے جنرل مشرف کے دور میں کی، جب انہوں نے مشرف کے ساتھ ہاتھ ملانے سے انکار کردیا اور جلا وطنی قبول کرلی، جنرل کا خیال تھا کہ ان کی ملک میں موجودگی ان کے لئے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے، اور وہ اپنے اقتداری مقاصد میں کامیاب نہیں ہوں گے، بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ نواز شریف کو ڈیل نہیں کرنی چاہئے تھی، سوال یہ ہے کہ ایک قیدی کے پاس ڈیل کے اختیارات کب ہوتے ہیں، یہ ڈیل در اصل جنرل مشرف نے تحفظ کے لئے کی تھی، کیونکہ ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ اگر تھا تو صرف یہ کہ وہ نواز شریف کو ’’پھانسی‘‘ چڑھا دیں مگر وہ جانتے تھے کہ نتیجہ بھٹو کی پھانسی سے مختلف نہیں نکلے گا، وہ چاہتے تھے کہ انہیں ملک بدر کرکے کام چلایا جائے سو انہوں نے اپنی اس سوچ پر عمل کیا، نواز شریف اب سیاسی طور پر صاحب کشف بھی ہوتے جارہے ہیں وہ وقت سے پہلے بتا دیتے ہیں کہ اب آگے ان کے ساتھ کیا ہوگا، گزشتہ روز انہوں نے کہا، سنا ہے اڈیالہ جیل کی صفائیاں ہو رہی ہیں، یہ کس کے لئے ہورہی ہیں؟ یہ ایک دلچسپ سوال اٹھایا ہے انہوں نے مگر بہت گہرا سوال ہے، در اصل انہوں نے پیغام دیا ہے کہ وہ جیل جانے کے لئے تیار ہیں۔

سیاست کے ساتھ جو لوگ رومان کرتے ہیں جیل ان کے لئے ’’وصال یار‘‘ سے کم نہیں ہوتی، ممکن ہے نواز شریف جیل جانے کے لئے اپنی روز مرہ کی اشیاء کا بیگ بھی تیار کیے بیٹھے ہوں؟

مزید ممکن یہ ہے کہ مریم نواز بھی بضد ہوں کہ وہ بھی اپنے پاپا کے ساتھ جیل جائے گی،دونوں باپ بیٹی کی جیل کے ساتھ ’’رومانیت‘‘ ملکی سیاسی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ بنا سکتی ہے، نواز شریف فیملی کے پاس یہ ریکارڈ تو پہلے سے موجود ہے کہ ایک طویل عرصے تک پورا خاندان جیل بند رہا،اس ریکارڈ کے بعد نواز شریف اور مریم نواز یعنی باپ بیٹی دونوں جیل جا کے نیا ریکارڈ بنا سکتے ہیں اس سے پہلے یہ ریکارڈ بھٹو اور بے نظیر کے پاس ہے، اس حد تک کہ بھٹو جیل میں تھے مگر بے نظیر گھر پر نظر بند تھیں۔

میں بے نظیر بھٹو، مریم نواز، نواز شریف اور بھٹو کا موازنہ نہیں کررہا، نہ کبھی موازنے کا سوچا ہے، دونوں مختلف زمانے میں اپنا اپنا کردار نبھاتے رہے، مگر کچھ کچھ قدریں دونوں میں مشترک ہیں، مثال کے طور پر بھٹو صاحب نے ایوب خان کے پاؤں پہ پاؤں رکھ کے سیاست کا آغاز کیا۔

مگر ضیاء الحق کی گردن پر سوار ہوگئے، نواز شریف کی انگلی ضیاء الحق نے پکڑی اور وہ ایک پاپولر لیڈر کے طور پر چھاگئے، ایک زمانے میں پاکستان میں دو ہی طرح کی سیاست تھی، یعنی بھٹو بمقابلہ ضیاء الحق یہ زمانہ زیادہ دیر تک نہیں رہا، وقت بدلا اور مقابلہ نواز شریف اور بے نظیر کے درمیان شروع ہوگیا، اور پھر ایسا بھی ہوا کہ بے نظیر اور نواز شریف ایک ہوگئے، اور ضیاء الحق کی جگہ جنرل مشرف نے لے لی، ضیاء الحق اور جنرل مشرف کی سوچ ایک ہی تھی، جنرل ضیاء الحق کا خیال تھا کہ بھٹو اگر ہے تو وہ نہیں ہے، سو بھٹو چلے گئے، جنرل مشرف کی مشکل بھی یہی تھی، وہ سمجھتے تھے بلکہ کہتے تھے یا تو وہ ہوں گے یا پھر نواز شریف اور بے نظیر ہوں گی؟

اس وقت ایک طرف نواز شریف ہیں ان کے مد مقابل کون ہے؟ نظر نہیں آرہا، بظاہر عمران خان ہے، زرداری ہے اور بس، نواز شریف کو اس کا سیاسی رومانی سفر تا حیات ’’نا اہلی‘‘ تک لے گیا ہے، ان کے ساتھ بے چارے جہانگیر ترین بھی ’’رگڑے‘‘ گئے ہیں۔

عمران خان بھی جہانگیر ترین کے مقابلے میں سوچ سوچ کے اپنی راتوں کی نیند گنوا بیٹھے ہیں۔ وہ دن رات سوچتے رہتے ہیں کہ جو شخص اپنا قیمتی جہاز ان کے لئے وقف کرسکتا ہے وہ بد دیانت کیسے ہوسکتا ہے، عمران خان تو ان کے بے گناہ ہونے پر اتنے پر امید ہیں کہ انہوں نے ابھی تک پارٹی کے سیکرٹری جنرل کا عہدہ خالی رکھا ہوا ہے، ان کا خیال ہے کہ پارٹی سیکرٹری جنرل کے عہدے کے بغیر چل سکتی ہے مگر جہانگیر ترین کے بغیر نہیں چل سکتی۔

بہر حال نواز شریف اس وقت آئینی و قانونی طور پر ملک کی پارلیمانی سیاست سے نکل چکے ہیں، یا نکال دیئے گئے ہیں، مگر وہ پریشان نہیں ہیں، اور سیاسی رومانیت کے مزے لے رہے ہیں، عوامی رابطہ مہم بڑھا رہے ہیں، صبح نیب کی عدالت میں ہوتے ہیں تو شام کو کسی جلسے میں خطاب کرتے نظر آتے ہیں لوگ ان کے جلسوں میں بڑھ رہے ہیں، جوں جوں وہ نا اہل ہورہے ہیں عوامی سطح پر ان کی اہلیت بڑھ رہی ہے وہ لوگوں سے ووٹ کی عزت کی بات کرتے ہیں، جواباً لوگ اونچی آواز میں عزت کریں گے کا نعرہ لگاتے ہیں۔

ابھی تک ان کے بولنے پر کوئی پابندی نہیں ہے، سو آگے چل کے وہ مزید اونچا بولنے کی کوشش کریں گے، وہ اور عمران خان اس وقت ایک ہی طرح کی سوچ کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں، عمران خان بھی ایک نیا پاکستان بنانا چاہتے ہیں نواز شریف پاکستان کو بدلنا چاہتے ہیں، عمران خان نواز شریف کے بندے اپنے ساتھ ملا کے نیا پاکستان بنانا چاہتے ہیں، نواز شریف نئی سوچ کے لوگوں کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتے ہیں، گویا نواز شریف ایک نئی مسلم لیگ ن بنانے کی کوشش کررہے ہیں ایک ایسی مسلم لیگ جو جمہوریت کے ساتھ رومان بڑھائے مریم نواز ان کا بھرپور ساتھ دے رہی ہیں، بظاہر مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف ہیں اور شاید وہ پرانے چہرے ساتھ رکھنا چاہتے ہیں، مگر نواز شریف جانتے ہیں کہ پرانے لوگ اپنی اصلی جگہ پر چلے جائیں گے، سو وہ نئے لوگوں کے لئے راستہ کھول رہے ہیں، اس حوالے سے وہ پر امید ہیں کہ نئی سوچ کے ساتھ نئے لوگ ان کے بدلتے ہوئے نظریات کے ساتھ آگے بڑھیں گے، میرا بھی یہی خیال ہے کہ نواز شریف کو پاکستان نے بہت کچھ دیا ہے، وہ تین بار وزیراعظم بن چکے ہیں، یہ ایسا منصب ہے کہ بعض لوگ ساری عمر اس منصب کے خواب میں گذر جاتے ہیں مگر تعبیر نہیں پاسکتے، اب نواز شریف کو چاہئے کہ وہ جمہوریت، نظریات کے ساتھ اپنا رومان بڑھائیں، یہ رومان پسندی انہیں مرنے نہیں دے گی، زندگی دے گی۔

مزید : رائے /کالم