بحرہند کا خوفناک مستقبل

بحرہند کا خوفناک مستقبل

بحرہند کی ملٹررائزیشن اور نیوکلرائزیشن پر دو روز پہلے ایک کالم میں بحث کر چکا ہوں۔ چونکہ اس وسیع ذخیرۂ آب کے ساحلوں پر واقع دونوں جوہری ممالک (پاکستان اور بھارت) نے حال ہی میں آبدوزوں سے فائر ہونے والے میزائلوں اور ان پر لگے جوہری بموں کے کامیاب تجربات کر لئے ہیں اس لئے امید غالب ہے کہ یہ سلسلہ یہیں نہیں رکے گا بلکہ اور تجربے بھی ہوں گے۔

میں کوئی عسکری مفکر نہیں ہوں لیکن میرا اندازہ ہے کہ اگر دنیا میں تیسری (اور آخری) عالمی جنگ ہوئی تو اس کا آغاز بحرِ ہند کی جوہری آبدوزوں سے ہوگا۔ پاکستان کے پاس ابھی کوئی جوہری آبدوز نہیں لیکن اس نے ڈیزل الیکٹرک آبدوز ہی سے کروز میزائلوں کے تجربے کر لئے ہیں۔

انڈیا کے پاس آری ہانٹ (Arihant)اور آری گھاٹ (Arighat) دو جوہری آبدوزیں موجود ہیں اور تیسری آبدوز چکرا بھی ہے۔ لیکن یہ تینوں فی الحال زیرِ مرمت ہیں۔

ان کو آپریٹ کرنے کے لئے خاصی محنت ،وقت اور پریکٹس درکار ہوتی ہے جو ابھی انڈین نیوی کے پاس نہیں اس لئے یہ تینوں جوہری آبدوزیں زیرِ مرمت ہیں۔

ان کو کتنا نقصان پہنچا ہے، اور یہ کتنے عرصے بعد دوبارہ سمندر میں جانے کی قابل ہو سکیں گی اس پر وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں، جبکہ جوہری بم تو بالائے آب جنگی جہازوں سے بھی فائر کئے جا سکتے ہیں۔

لیکن اس فائرنگ میں جس فریگیٹ یا کروزر سے یہ میزائل فائر کیا جائے گا اس کو دشمن کی طرف سے جوابی فائر کرکے فوراً برباد کیا جا سکتا ہے جبکہ آبدوز ایک خاموش قاتل ہے اور پانی کے نیچے سے ہی فائر کرکے اپنی لوکیشن تبدیل کر سکتی ہے اور اس طرح دشمن کے جوابی وار سے محفوظ رہتی ہے۔

بحرہند میں اب چونکہ چین آ گیا ہے اس لئے امریکہ بھی آئے گا۔(یعنی جب کسی بکری نے بکرے کو سینگ مارا ہے تو بکرا بھی بکری کو ضرور سینگ مارے گا)۔۔۔ یہ ’’باہمی سینگ زنی‘‘ زیادہ دیر اور دور کی بات نہیں۔ امریکہ کے پاس اس وقت دس طیارہ بردار جہاز ہیں جن میں سے 5بحرالکاہل اور چار بحراوقیانوس میں صف بند رہتے ہیں اور دسواں ڈیگوگارشیا میں امریکی نیول بیس (Naval Base) میں معمول کی دیکھ بھال (Maintenance) سے گزر رہا ہے۔

لیکن ان طیارہ برداروں کی حفاظت کے لئے جو آبدوزیں ان کے نزدیک صف بند رکھی جاتی ہیں وہ شاذ و نادر ہی بحرہند کا رخ کرتی ہیں۔ لیکن اب امریکہ کا دشمن روس نہیں، چین ہے اور چین جب گوادر سے نکل کر سری لنکا جائے گا یا چاہ بہار سے تیل لے کر براستہ جزائر نکوبار /انڈیمان آبنائے ملاکا کو عبور کرکے چین کا رخ کرے گا تو امریکی (اور بھارتی) بحریہ اس کی سروے لینس ضرور کرے گی اور چونکہ انڈین نیوی کے پاس بھی چار جوہری آبدوزیں اور چار طیارہ بردار آنے والے ہیں اور ان کے علاوہ زیر آب اور بالائے آب بہت سے بحری اثاثے (Assetts) بھی اس کے پاس ہیں اور اس کا بلیوواٹر نیوی ہونے کا خواب بھی پورا ہونے کو ہے اس لئے بحرہند میں چین، امریکہ، انڈیا اور پاکستان کی بحریائیں (Navies) آنے والے چند برسوں میں جوہری میزائلوں سے لیس اور نظروں سے اوجھل زیرِ آب دندناتی پھریں گی۔

پاکستان نے حال ہی میں بابر 3کروز میزائل کا جو تجربہ کیا ہے اور اس میں جوہری ہتھیاروں کو لے جانے کی اہلیت بھی شامل ہے تو یہ انڈیا کے اس تجربے کا جواب تھا جو اس نے اپنی جوہری آبدوز آری ہانت سے حال ہی میں کیا تھا۔انڈین نیوی کے مطابق 2025ء تک اس کے آبدوزوں کے بیڑے میں چار اور ’’جوہری کشتیاں‘‘ بھی شامل ہو جائیں گی۔ دوسری طرف پاک بحریہ کو بھی چین سے ایسی ہی آٹھ کشتیاں ملنے والی ہیں۔

آج ہم جوہری بم کو جوہری بم کا ڈیٹرنس سمجھتے ہیں۔ یعنی ہمارا خیال ہے کہ اگر ہمارے پاس ایٹم بم موجود ہے توکوئی دوسری ایٹمی قوت ہم پر حملہ کرنے سے پہلے بارہا سوچے گی۔

لیکن آپ تصور کیجئے کہ جب کسی حملہ آور کے پاس زمین، فضا اور سمندر سے بیک وقت جوہری وار کرنے کی صلاحیتیں موجود ہوں تو فریقِ مخالف کا ڈیٹرنس کس کام آئے گا؟ چنانچہ ماہرین کا کہنا ہے کہ جوہری جنگ کسی جوہری فریق کے فاتح ہونے کی ضمانت نہیں بن سکتی۔

لیکن یہ استدلال بڑی قوتوں کا ہے۔ انڈیا اور پاکستان بے شک جوہری قوتیں ہیں لیکن بڑی قوتیں نہیں ہیں۔ اس سے یہ مراد بھی لی جا سکتی ہے کہ ایک تو یہ بہت جلد نیست و نابود ہو جائیں گی یعنی باہمی خودکشی کر لیں گی اور دوسرے دونوں فریقوں کے سیاسی اور عسکری قائدین کا دل گردہ اتنا مضبوط نہیں کہ وہ کسی ممکنہ جنگی صورت حال کو تادیر ٹال سکے گا۔ دونوں کا پیمانہ ء صبر جلد لبریز ہو جانے والا ہے۔ ہم نے ماضی میں انڈیا سے چار جنگیں لڑی ہیں۔ ہم ایک دوسرے کے خلاف بغض و عناد سے بھرے ہوئے ہیں

۔ہم آئے روز دیکھتے ہیں کہ لائن آف کنٹرول پہ کیا ہو رہا ہے۔ انڈیا، افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف کیسی کیسی چالیں چل رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں حالات کیسے تبدیل ہو رہے ہیں اور وہاں کی مسلم دشمنی کا اثر کس طرح انڈیا کے مسلمانوں پر پڑ رہا ہے۔

ایک دوست سے ملاقات ہوئی جو انڈیا سے حال ہی دس پندرہ دن گزار کر واپس آیا تھا۔ اس کا اصرار تھا کہ انڈیا کے مسلمان، انڈیا کے ہندوؤں سے بھی زیادہ پاکستان کے دشمن ہیں۔

ان سے بات کی جائے تو وہ بھارتی سیاسی رہنماؤں کی قصیدہ خوانی کرتے نہیں تھکتے وغیرہ وغیرہ۔۔۔ میرا تبصرہ یہ تھا کہ بھارت کے مسلمان اب زیادہ سیانے اور چالاک ہو چکے ہیں۔ ان کو ازراہِ مجبوری یہ روپ دھارنا پڑا ہے۔

پاکستانی انٹیلی جنس اداروں کے وہ خوابیدہ سیل جو بھارت کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے بتائے جاتے ہیں تو یہ صورتِ حال ان کی ایک بڑی کنٹری بیوشن ہے۔

یہ خوابیدہ سیل چوری چوری مسلمانوں کی رہنمائی کا فریضہ بھی انجام دیتے ہیں۔ان کو رفتہ رفتہ مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو دیکھ دیکھ کر اپنی سٹرٹیجی تبدیل کرنی پڑ رہی ہے ۔

لیکن یہ صورتِ حال سارے بھارت کے مسلمانوں کی نہیں۔ اور نہ ہی میرا وہ دوست بھارت کے طول و عرض کے دورے پر گیا تھا۔ بھارتی مسلمان جب پاکستان کی طرف دیکھتے ہیں تو ہماری گورننس کا جو حال ہے وہ ان کے اپنے اندرونی حالات سے بھی بدتر ہے۔ مستقبل میں اگر پاکستان میں کوئی ایسی حکومت بنتی ہے جو ہمارے ماضی کی ملٹری اور سول حکومتوں سے مختلف ہو تو اس کے اثرات لازماً بھارت تک جائیں گے۔۔۔۔ ہمیں اچھے مستقبل کی امید رکھنی چاہیے۔۔۔۔ لیکن میں اس داخلی مستقبل کی بات نہیں کر رہا۔ میں تو یہ سوچ رہا ہوں کہ پاکستان اور بھارت کی افواج کے اربابِ اختیار جن راہوں پر چل رہے ہیں وہ کسی پُرامید خارجی مستقبل کی بجائے دونوں ملکوں کو ایک خوفناک اور ہولناک مستقبل کی طرف دھکیل رہے ہیں۔

میں قارئین کی توجہ ایک اور پہلو کی طرف بھی دلانی چاہتا ہوں۔۔۔ روئے زمین کا کوئی ایک ملک کسی دوسرے ملک کی سرزمین سے اپنا کوئی جنگی ہتھیار بلا اجازت نہیں گزار سکتا۔ اسی طرح کوئی بھی ملک دوسرے ملک کی فضائی حدود کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا۔

اگر کسی ملک کی فضائیہ نے پاکستانی فضا کے اوپر سے گزر کرکے کہیں جانا ہے تو اس کو پہلے پاکستان سے اس کی اجازت لینی پڑے گی۔ تاہم اس قسم کا بندوبست ملکوں کے زمینی اور فضائی راستوں اور گزرگاہوں کے سلسلے میں تو موجود ہے لیکن سمندری راستوں کے سلسلے میں تاحال دنیا نے کوئی ایسا بین الاقوامی ضابطہ نہیں بنایا جو کھلے سمندروں ( Open Sea) میں بھی روبہ عمل لایا جا سکے۔ البتہ ہر ملک کے ساحلوں سے 200میل دور کے پانیوں تک کے سمندری علاقے کو خصوصی اقتصادی زون (Exclusive Economic Zone) قرار دیا جاتا ہے۔

اس EEZمیں اگر تیل دریافت ہو جائے تو وہ اسی ملک کا تصور ہوگا جس میں وہ زون واقع ہوگا۔ ماہی گیری کے حقوق بھی اسی ملک کو حاصل ہوں گے۔ لیکن اس خصوصی اقتصادی زون سے باہر نکل کر جو ہزارہا میلوں تک پھیلے پانی ہیں وہ کھلے سمندر کہلاتے ہیں۔ ان پر کسی بھی ملک کی خصوصی فرمانروائی نہیں۔۔۔ نہ بالائے آب اور نہ زیرِ آب۔۔۔

چنانچہ اگر بحرہند کے کھلے سمندروں میں ایک دوسرے کے جانی دشمن اپنی بحریاؤں کے پانی کے اوپر اور پانی کے نیچے جنگی اثاثوں کو لانا چاہیں تو کوئی ان کو روک نہیں سکتا۔ اس صورت حال میں پاکستان، بھارت، امریکہ، چین، روس اور دنیا کے دوسرے چھوٹے بڑے ممالک اپنی اپنی جوہری آبدوزوں کو لانا چاہیں تو ان کو دو طرح کی مشکلات پیش آئیں گی۔۔۔ ایک یہ کہ ان جوہری آبدوزوں کی جب تعداد ایک حد سے بڑھ جائے گی تو ان کی آمد و رفت کی آبی گزر گاہوں (Sea Lanes)کی Spaceکم ہوتی چلی جائے گی۔ چین چونکہ دنیا کی ایک عظیم قوت بن کر ابھر رہا ہے اور اس کی درآمدات اور برآمدات کی گزرگاہیں چونکہ بحرہند کے پانیوں پر ہی استوار ہوں گی اس لئے چین کے دشمن ان کو روکنے ، اس کی آمد و رفت کو محدود کرنے اور اس کو ہراساں کرنے کی سٹرٹیجی اپنائیں گے اور اس سٹرٹیجی میں بحرہند میں جوہری آبدوزوں کا ٹریفک جو لازماً حساس حدود کو چھونے لگے گا،وہ Vulnerable ہو جائے گا یعنی نازک اور خطرناک صورتِ حال کا حامل بن جائے گا۔جو آبدوز زیر آب رہ کر کسی بالائے آب دشمن کروزر، فری گیٹ یا تباہ کن بحری جہاز کو نشانہ بنا سکتی ہے وہ دشمن کی زیرآب آبدوز کو بھی نشانہ بنانے سے نہیں چوکے گی۔۔۔ اسی لئے میرا اندازہ ہے کہ بحرہند میں، آنے والے برسوں میں، یہی بڑھتا ہوا بحری ٹریفک سارے بحرہند کو ایک وسیع و عریض بحری جنگی محاذ میں تبدیل کر دے گا جو حد درجہ ہولناک ہوگا اور جو بہت جلد وقوع پذیر بھی ہونے والا ہے!

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...