صوبائی دارالحکومت ، داخلی خارجہ راستوں ، اہم شاہراہوں پر نصب’’مجرم شناخت کیمرے‘‘ ناکارہ ، وارداتوں میں سو فیصد اضافہ

صوبائی دارالحکومت ، داخلی خارجہ راستوں ، اہم شاہراہوں پر نصب’’مجرم شناخت ...

لاہور(لیاقت کھرل) صوبائی دارالحکومت میں داخلی و خارجی راستوں، شاہراوں سمیت اہم چوراہوں میں نصب کئے جانے والے ’’مجرم شناخت کیمرے‘‘ناکارہ، ڈکیتی اور جھینا چھپٹی کی وارداتوں میں 100فیصد اضافہ، جدید ترین ٹیکنالوجی کے ذریعے نصب کئے گئے کیمروں کی آنکھوں میں دھول ڈال کر 2711 ملزمان فرار ہوگئے۔ محکمہ پولیس کے اعداد و شمار میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ رواں سال کے تین ماہ کے دوران گزشتہ سال کے پہلے تین ماہ کی نسبت شہر میں ڈکیتی ، نقب زنی، چھینا جھپٹی، موٹر سائیکل و گاڑیاں چوری اور چھیننے کے واقعات میں 100فیصد اضافہ ہوا ہے اور اس میں ڈکیتی اور دیگر سنگین واقعات میں ملوث ملزمان کی شناخت اور گرفت تک رسائی حاصل کرنے کے لئے نصب کئے جانے والے ’’ مجرم شناخت کیمرے‘‘ بھی مددگار ثابت نہیں ہو سکے ہیں۔ جس کے باعث سنگین واقعات میں ملوث 2711 ملزمان لاہور کے خارجی راستوں سے دیگر صوبوں اور اضلاع میں فرار ہونے کامیاب ہو چکے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان ملزمان کے فرار ہونے سے کروڑوں روپے مالیت کی ڈکیتی ، راہزنی، موٹر سائیکلیں و گاڑیوں کی ریکوری ناممکن بن کر رہ گئی ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ لاہور کے داخلی اور خارجی راستوں سمیت اہم شاہراؤں اور چوراہوں میں نصب کئے جانے والے ’’مجرم شناخت کیمروں‘‘ کی ایک بڑی تعداد ابتدائی مراحل میں ہی ناکارہ ہو چکی ہے۔ جس کے باعث ملزمان کی شناخت اور ان تک رسائی میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ لاہور پولیس کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کے ذرائع کا کہنا ہے کہ شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مجرم شناخت کیمرے نصب کئے گئے ہیں جن میں بعض سڑکوں پر یہ پروجیکٹ زیر تکمیل ہے تاہم اہم شاہراؤں ، سڑکوں اور چوراہوں سمیت شہر کے تمام بڑے مقامات اور داخلی و خارجی راستوں پر اس جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کے لئے ’’ مجرم شناخت کیمرے‘‘ فنگشنلز ہیں اور ان کیمروں سے بیشتر خطرناک مجرمان کی سناخت اور ان کی گرفتاری تک رسائی ممکن ہوئی ہے اور اس میں ڈکیتی ، راہزنی اور حادثات جیسے اہم واقعات کے رونما ہونے کے فوری بعد ان واقعات میں ملوث ملزمان تک رسائی حاصل کرنے میں مدد ملی ہے لیکن گزشتہ تین ماہ کے دوران شاہراؤں اور چوراہوں سمیت داخلی و خارجی راستوں پر نصب کیمروں کی مکمل دیکھ بھال نہیں ہو پا رہی ہے جس کے باعث اکثریتی شاہراؤں اور سڑکوں سمیت چوراہوں پر نصب یہ کیمرے ناکارہ ہو چکے ہیں اور کام نہ کرپانے کی وجہ سے اہم مجرمان ان کیمروں کی نظراوجھل ہو جاتے ہیں جس میں گزشتہ تین ماہ کے دوران 2711 ملزمان شہر سے دیگر اضلاع اور صوبوں میں فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان ملزمان میں سب سے زیادہ صدر ڈویژن میں موبائل فون چھیننے کی وارداتوں میں ملوث ہیں جبکہ دوسرے نمبر پر سٹی ڈویژن اور تیسرے نمبر پر کینٹ ڈویژن میں مختلف سنگین واقعات میں ملوث ہونے پر یہ ملزمان پولیس کو مطلوب ہیں۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ سیف سٹی جیسے اہم ترین پروجیکٹ کے ذریعے خطرناک ملزمان کی شناخت اور ان تک رسائی کو ممکن بنایا گیا ہے ۔ اور اس میں کیمروں کی مکمل دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث اکثریتی کیمرے ابتدائی مراحل میں ہی خراب ہو چکے ہیں جس کے باعث شہر کے داخلی و خارجی راستوں سمیت اہم شاہراؤں ، سڑکوں اورچوراہوں پر ملزمان کی شناخت اور ان تک رسائی ناممکن بنتی جا رہی ہے جس سے خطرناک مجرموں کو فائدہ حاصل ہو رہا ہے اور اس میں گزشتہ تین ماہ کے دوران ’’ مجرم شناخت کیمروں‘‘ کی ایک بڑی تعداد ناکارہ ہونے کے باعث جرائم پیشہ عناصر کو فائدہ حاصل ہوا ہے جس سے شہر میں ڈکیتی راہزنی اور گاڑیاں چوری و چھیننے جیسے واقعات میں سو فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔اس حوالے سے ڈی آئی جی آپریشن ڈاکٹر حیدر اشرف کا کہنا ہے کہ شہر میں ڈولفن اور پیروسکواڈ کی گشت اور چیکنگ سے ڈکیتی اور رہزنی جیسے واقعات میں کئی گنا کمی واقع ہوئی ہے تاہم کیمروں کی بروقت دیکھ بھال نہ ہونے سے مسائل نے جنم لیا ہے اس کے لئے متعلقہ حکام اور پولیس کے شعبہ کمانڈ اینڈ کنٹرول کے ذمہ داروں کو الرٹ کر دیا گیا ہے اور شہر کے خراب ہونے والے کیمروں کی دیکھ بھال اورمرمت کے لئے احکامات جاری کردئیے گئے ہیں۔

مزید : علاقائی