جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر فائرنگ کا معاملہ ، تھانہ ماڈل ٹاؤن میں مقدمہ درج ، تفتیش کیلئے جے آئی ٹی تشکیل

جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر فائرنگ کا معاملہ ، تھانہ ماڈل ٹاؤن میں مقدمہ درج ، ...

لاہور( خبر نگار ،مانیٹرنگ ڈیسک ،نیوز ایجنسیاں )ماڈل ٹاؤن میں رہائش پذیر سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کے دو الگ الگ واقعات ۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثاراطلاع ملتے ہی جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پہنچ گئے۔واقعہ کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دے دی گئی۔جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر کی سیکورٹی رینجرزکے حوالے کردی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ماڈل ٹاؤن 112hمیں رہائش پذیر سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر کے صحن میں گذشتہ رات نائن ایم ایم پستل کا ایک خول پایا گیا ہے۔ گذشتہ صبح ساڑھے نو بجے بھی گھر کے صحن سے نائن ایم ایم کا ایک اور خول برامد کیاگیا۔ جس پر پولیس حرکت میں آگئی جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار واقعے کی اطلاع ملتے ہی موقع پر پہنچ گئے اور آئی جی پولیس اور سی سی پی او لاہورکو طلب کرلیا ۔ جس کے بعد حساس اداروں کی ٹیموں سمیت فرانزک لیب کی ٹیمیں بھی موقع پر پہنچ گئی اور شواہد اکٹھے کرنے لگ گئیں کئی گھنٹے تحقیقات کرنے کے باوجود مختلف تحقیقاتی اورتفتیشی ٹیمیں اس بات کا تعین نہ کر سکیں کہ فائرنگ کرنے والے ملزمان موٹرسائیکل پر سوار تھے یا کا یا پیدل تھے اور فائرنگ کرنے والوں کو کس نے دیکھا تفتیشی ٹیموں نے کلوز سرکٹ کیمروں اور دیگر شواہد سے تحقیقات کا سلسلہ جاری رکھا جبکہ فرانزک لیب نے ملنے والی گولیوں کے ملنے والے سکے(بلٹ) دروازے کے پرنٹس اور دیگر شواہد حاصل کرلیے ہیں۔جبکہ پولیس نے الگ الگ پیش آنے والے واقعات کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔جس میں پولیس نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن کے گن مین محمد آصف کی مدعیت میں درج کیا ہے جس میں پولیس نے دہشت گردی کی دفعہ 7ATAاور فائرنگ کی دفعہ 324اور فائرنگ سے ہونے والے نقصان کی دفعہ 427کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔اور مقدمہ میں فائرنگ ہونے کے دو الگ الگ واقعات کا ذکر کیا گیا ہے۔ واقعہ کا چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے نوٹس لے لیا ہے اور آئی جی پولیس سے 24گھنٹے کے اندر رپورٹ طلب کرلی ہے۔ جس پر آئی جی پولیس نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر فائرنگ کے واقعات کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دے دی ہے جس کا سربراہ ایڈیشنل آئی جی محمد طاہر کو مقرر کیا گیا ہے ۔یاد رہے کہ جسٹس اعجاز الاحسن پانامہ ریفرنسسز میں نگراں جج رہے اور پانامہ سمیت مختلف مقدمات کا حصہ بھی رہے دوسری جانب فائرنگ کے واقعات کے بعد سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الحسن کے گھر کے باہر رینجرز بھی تعینات کردی گئی۔جبکہ ماڈل ٹاؤن سپریم کورٹ کے جج کے گھرفائرنگ واقعہ کے بعد تفتیشی ٹیموں کوچاروں اطراف موبائل فون کا ڈیٹا حاصل کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے ۔ فائرنگ کا واقعہ ہفتہ اور اتوار کی رات دو مرتبہ پیش آیا،،، وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے بھی واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے ،عدالتی اعلامیے کے مطابق سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجازالاحسن کی لاہور میں واقع رہائش گاہ پر فائرنگ ہوئی ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار جسٹس اعجازالاحسن کی رہائش گاہ پہنچ گئے اور تمام صورتحال کی خود نگرانی کی ۔ علاوہ ازیں چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز کو بھی فوری طلب کر لیا جو دیگر پولیس افسران کے ہمراہ پر پہنچے اور موقع پر حالات کا جائزہ لیا ۔ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی سمیت دیگر تحقیقاتی اداروں کے افسران اوراہلکار بھی موقع پر پہنچ گئے جنہوں نے موقع سے شواہد اکٹھے کرنے کے بعد تحقیقات شروع کردی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائشگاہ کی سکیورٹی پر مامور اہلکاروں کے بیانات قلمبند کر لئے گئے ہیں جبکہ جیو فینسنگ بھی کرانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق جسٹس اعجاز الاحسن کے 112ایچ ماڈل ٹاؤن کے گھر پر ہفتے کے رات ایک بجے فائرنگ کی گئی، اس وقت فاضل جج کے گھر کے باہر صرف ایک سکیورٹی اہلکار بابر موجود تھا جس کے بعد صبح دوبارہ جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کی گئی پولیس نے اب تک جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر سے گولیوں کے دو خول برآمد کئے ہیں، ایک خول فاضل جج کے گھر کے کچن سے برآمد ہوا ہے جبکہ دوسرا خول مرکزی دروازے کے باہر سے ملا ہے، رہائش گاہ کے مرکزی دروازے کے باہر فاضل جج کی لگی ہوئی نیم پلیٹ پر گولی کا نشان موجود ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ گولیاں نائن ایم ایم پستول کی ہیں جس کی رینج 175گز ہوتی ہے سپریم کورٹ کے سکیورٹی ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائشگاہ کی گلی والے سرکاری کیمرے چند دن سے خراب ہیں، منگل 10اپریل کو 112ایچ والی گلی کی نگرانی کرنیوالے کیمرے فعال تھے، ذرائع کے مطابق جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائشگاہ کی طرف آنے والے راستوں ، ان کے گھر اور اطراف میں واقع گھر وں کے باہر لگے ہوئے سی سی ٹی وی کیمروں سے بھی ملزمان کی تلاش میں مدد لی جارہی ہے ۔فائرنگ کے واقعہ کی اطلاع کے بعد سپریم کورٹ اور لاہو رہائیکورٹ کے معزز ججز صاحبان بھی جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائشگاہ پر پہنچے اور تفصیلات سے آگاہی حاصل کی ۔ جسٹس اعجازالاحسن کی رہائشگاہ آنے والے ججز میں جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس عظمت سعید شیخ، جسٹس عمر عطا بندیال ،جسٹس منظور احمد ملک ،جسٹس انوار الحق، جسٹس فیصل زمان خان ،جسٹس مامون الرشید شیخ اور دیگر ججز صاحبان شامل ہیں۔مزید بتایا گیا ہے کہ واقعہ کے بعد جسٹس اعجاز الاحسن سمیت دیگر ججز کی رہائشگاہوں کی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے جبکہ کسی غیر متعلقہ شخص کو ان رہائشگاہوں کی طرف آنے کی اجازت نہیں جبکہ پیٹرولنگ کا عمل بھی بڑھا دیا گیا ہے ۔دوسری جانب وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائشگاہ پر فائرنگ کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے ۔وزیراعلی پنجاب نے ہدایت کی کہ ملزمان کو قانون کی گرفت میں لا کر فوری کارراوئی کی جائے۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ملزموں کی جلد از جلد گرفتاری کے احکامات جاری کر دئے ہیں۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے اپنے بیان میں کہا کہ جسٹس اعجازالاحسن کی رہائشگاہ پر فائرنگ قابل مذمت ہے، جمہوریت میں ججوں کو دھمکانے کے لیے سسیلین مافیا جیسے حربوں کی گنجائش نہیں۔عمران خان نے کہا کہ ہم پوری قوت سے عدلیہ اور قانون کی حکمرانی کے ساتھ کھڑے ہیں۔سابق صدر و پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کے چیئرمین آصف علی زرداری نے اپنے مذمتی بیان میں کہا کہ فائرنگ کے واقعے کی اعلیٰ عدالتی تحقیقات کرائی جائیں اور ملزمان کو گرفتار کرکے بے نقاب کیا جائے۔مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین، سینئر مرکزی رہنما چوہدری پرویز الٰہی نے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس کی جوڈیشل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ اس واقعہ سے عوام میں تشویش کی شدید لہر دوڑ گئی ہے،ملزمان کو گرفتار کر کے بے نقاب کیا جائے۔ پاکستان بار کونسل ،پنجاب بار کونسل ،لاہور ہائیکورٹ بار کونسل اور لاہور بار کونسل نے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائشگاہ پر فائرنگ کا واقعہ سپریم کورٹ پر حملہ ہے جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا ۔ وائس چیئرمین کامران مرتضیٰ نے کہا کہ وکلاء اس واقعے کیخلاف احتجاجاًصبح گیارہ سے پونے بارہ بجے تک عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے جبکہ بازؤں پرسیاہ پٹیاں باندھی جائیں گی ۔پنجاب بار کونسل نے واقعہ کے خلاف مکمل ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وکلاء واقعہ کے خلاف احتجاجاً عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے۔ عہدیداروں نے کہا کہ وکلاء تنظیمیں سپریم کورٹ کے ساتھ کھڑی ہیں اور قانون کی بالا دستی کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔جبکہ بعد ازاں چیف جسٹس کی اپیل پر وکلا ء تنظیموں نے ہڑتال کی اپیل واپس لے لی ۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہڑتالوں سے عدالتی کام متاثر نہیں ہونا چاہیے جسٹس اعجاز الحسن کے حوالے سے ججز کے ساتھ اظہار یکجہتی پر مشکور ہیں مشکل وقت میں وکلاء کی طرف سے ساتھ کھڑے ہونے پر شکریہ ادا کرتا ہوں ترجمان سپریم کورٹ کے مطابق ملک تمام بارکونسلوں نے ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے ہڑتال واپس لینے کی اپیل کی وکلا پیرکو(آج) انصاف کے حصول کے لئے ضرورپیش ہوں سائلین کے مقدمات مقررہوچکے ہیں۔ دریں اثنا وزیر مملکت اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے جسٹس اعجازالحسن کے گھر فائرنگ کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب نے نے وفاقی اور صوبائی سطح پر متعلقہ حکام کو ملزمان کو جلد از جلد قانون کی گرفت میں لانے کی ہدایت کی ہے،ایسے شرپسند عناصر کو جلد از جلد بے نقاب ہونا چاہیے۔اتوار کو لاہور میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجازالاحسن کی رہائش گاہ پر فائرنگ پر اپنے ایک بیان میں وزیر مملکت اطلاعات مریم اورنگزیب نے جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر فائرنگ کے واقعے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے وفاقی اور صوبائی سطح پر متعلقہ حکام کو ملزمان کو جلد از جلد قانون کی گرفت میں لانے کی ہدایت کی ہے،وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے صوبائی سطح پر ملزمان کی جلد از جلد گرفتاری کے لیے متعلقہ حکام کو ہدایات دی ہیں۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ ایسے شرپسند عناصر کو جلد از جلد بے نقاب ہونا چاہیے۔

فائرنگ واقعہ

لاہور( خبر نگار)ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق جسٹس اعجازالاحسن کے گھرپرفائرنگ کے واقعے کی تحقیقات کے لئے ایڈیشنل آئی جی محمد طاہر کی سربراہی میں جے آئی ٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجازالاحسن کے گھر پر فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات کے لئے پنجاب حکومت نے ایڈیشنل آئی جی محمد طاہر کی سربراہی میں جے آئی ٹی تشکیل دے دی ہے ،جس میں آئی ایس آئی،ایم آئی،آئی بی کے نمائند ے بھی شامل ہیں۔،ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سلطان چوہدر ی بھی جے آئی ٹی کا حصہ ہوں گے۔ واقعے کا مقدمہ تھانہ ماڈل ٹاون میں کانسٹیبل آصف کی مدعیت میں درج کیا گیا،پولیس کے مطابق مقدمہ نا معلوم حملہ آوروں کے خلاف درج کیا گیاجس میں دہشت گردی اور اقدام قتل کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

مزید : صفحہ اول