نااہلی کی مدت کے معاملے کو پارلیمنٹ میں حل ہونا چاہیے تھا ،سید نوید قمر

نااہلی کی مدت کے معاملے کو پارلیمنٹ میں حل ہونا چاہیے تھا ،سید نوید قمر

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید نوید قمر نے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 62 (1) (ایف) کے تحت نااہلی کی مدت کی تشریح کے معاملے کو سپریم کورٹ کے بجائے پارلیمنٹ میں لے کر جانا چاہیے تھاتاکہ کوئی ٹھوس حل نکل سکتا۔ایک انٹرویومیں سید نوید قمر نے کہا کہ پارلیمنٹ کا کام قانون سازی کرنا ہے اور اسی کے ذریعے اراکین منتخب ہوتے ہیں لہذا ایسے مسائل کے حل کیلئے ایوان میں تمام سیاسی جماعتوں کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 62 (1) (ایف) ایک خاص شق ہے جسے سابق فوجی صدر جنرل ضیاء الحق نے 8ویں ترمیم کے ذریعے آئین میں شامل کیا تھا تاکہ سیاستدانوں کو اقتدار میں آنے نہ دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ جب پیپلز پارٹی 18ویں ترمیم کو لے کر آئی تو جہاں 58 (2) بی جیسے آرٹیکل کو ختم کیا گیا وہیں ایک شق 62 (1) (ایف) بھی تھی اور ہماری جماعت نے کافی کوشش کی کہ کسی طرح اسے بھی آئین سے باہر کردیا جائے تاہم اْس وقت مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علمائے اسلام (ف) نے بھرپور مخالفت کی۔پی پی رہنما نے کہاکہ خود مسلم لیگ (ن) نے اپنے دورِ اقتدار میں بھی آئین سے اس شق کے خاتمے کیلئے نہ تو کوششیں کیں اور نہ ہی دوسری جماعتوں کے ساتھ اس پر کسی طرح کی مشاورت کی اور آج مسلم لیگ (ن) خود اس کا شکار بن چکی ہے۔

مزید : صفحہ آخر