80کروڑ غریب افراد کی حالت انتہائی خطرناک صورت اختیا ر کر گئی : اقوام متحدہ

80کروڑ غریب افراد کی حالت انتہائی خطرناک صورت اختیا ر کر گئی : اقوام متحدہ

اسلام آباد (این این آئی) ورلڈ بینک، آئی ایم ایف اور جی 20 کے اجلاس سے قبل اقوام متحدہ نے ایک رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ دنیا کے 80 کروڑ غریب افراد کی حالت انتہائی خطرناک صورت اختیار کرگئی ہے۔فنانسنگ فار ڈویلپمنٹ ٗپراگریس اینڈ پراسپیکٹس 2018 کی سالانہ رپورٹ معیشت سے متعلق عالمی ترقیاتی اہداف کے حوالے سے ہے جس کے مطابق عالمی معیشت اعتدال کی جانب جارہی ہے ٗپائیدار سرمایہ کاری کی رفتار بھی بڑھ رہی ہے، تاہم اکثر سرمایہ کاری مختصر مدت کیلئے ہے اور عالمی برادری کی جانب سے پائیدار معیشت قائم کرنے سے متعلق کیے گئے وعدے پورے نہیں ہوسکے۔سماجی طور پر ذمہ دارانہ سرمایہ کاری میں اضافہ ہورہا ہے تاہم یہ مالیاتی نظام میں وسیع پیمانے پر تبدیلی کا حل نہیں، موجودہ نظام سے سرمایہ کاروں اور منصوبوں کے مینیجرز کو فائدہ ہوتا ہے، جو مختصر مدت منافع کو ترجیح دیتے ہیں۔اسی طرح پالیسی بنانے والے بھی کم عرصے کی سرمایہ کاری ہی کو توجہ دے رہے ہیں، لیکن ایسی پالیسی کی بھی قیمت چکانا پڑسکتی ہے، انفرسٹرکچر منصوبوں کو بھی مختصر مدت کی ترجیحات میں شامل کیا جاتا ہے، خواتین اور چھوٹے کاروبار اس مالیاتی نظام کا حصہ نہیں۔اقوام متحدہ کے ادارے اقتصادی اور سماجی معاملات کے انڈر سیکریٹری لیو جینمن کے مطابق کچھ علاقوں میں اچھی سمجھی جانے والی خبر کہ غریب افراد پیچھے رہ گئے ہیں، معیشت کیلئے اصل خطرہ ہے، لاپرواہی کرنے والوں کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔ اگر ہم بنیادی انفراسٹرکچر کے منصوبوں، جیسے پْلوں، سڑکوں اور سیوریج نظام میں سرمایہ کاری نہیں کرتے اور اگر غریب افراد اور خواتین کو دیگر مالیاتی خدمات سے محروم رکھیں گے تو ہم اپنے عالمی اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بہت سے سرمایہ کاروں کی مختصر مدت کی ترجیحات کو دور کرنا مشکل، لیکن اہم مسئلہ ہے، متعدد ممالک، جہاں غربت کی شرح پہلے سے ہی زیادہ ہے، وہاں فی کس شرح نمو منفی یا غیر معمولی رہتی ہے۔رپورٹ کے مطابق پنشن فنڈز، انشورنس کمپنیاں اور دیگر سرمایہ کار ادارے تقریباً 80 کھرب ڈالر اثاثوں کے مالک ہیں جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں وسائل کا زیادہ استعمال فوری طور پر قابل تبدیل اثاثوں یا بانڈز کی سرمایہ کاری میں کیا جاتا ہے۔رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری، پنشن فنڈز کی 3 فیصد کی شرح سے بھی کم ہے جبکہ ترقی پذیر ممالک میں اچھی سرمایہ کی شرح اس سے بھی کم ہے اس کے علاوہ طویل مدت کیلئے کی جانے والی سرمایہ کاری کی کمی کے باعث بڑے خطرات، جیسے موسمیاتی تبدیلی، کو فیصلوں میں شامل نہیں کیا جاتا۔ ان مسائل کا حل کثیر مقاصد کے حوالے سے ترجیحات میں ہے، جس میں ادائیگی کے طریقوں میں تبدیلی اور شفافیت اہم ہیں کیونکہ اکثر معاشی مشیروں اور مینیجرز کا معاوضہ مختصر مدت کی سرمایہ کاری کے نتائج سے منسلک ہوتا ہے.اس کے علاوہ مزید شفافیت کی بھی ضرورت ہے۔مختصر مدت کی پالیسی، اکثر ممالک میں فوری مالی ضروریات کو پورا نہیں کرپاتیں، اس کے ساتھ ہی آفتوں سے متاثرہ ممالک کی فوری مدد نہیں ہوپاتی، اس مسئلے کے حل کے لیے جدید طریقہ کار موجود ہیں جو فنڈز تک فوری رسائی فراہم کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ رپورٹ

مزید : علاقائی

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...