جنسی تشدد ، میانمار کی فوج کا نام اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ میں شامل

جنسی تشدد ، میانمار کی فوج کا نام اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ میں شامل

نیویارک(آئی این پی)اقوام متحدہ کی نئی رپورٹ میں میانمار کی افواج کو پہلی مرتبہ عالمی ادارے کی جانب سے حکومت اور جنگجو گروپوں کی بلیک لسٹ میں شامل کرلیا گیا جس کی وجہ تنازعات سے گہرے علاقے میں مبینہ طور پر ریپ اور دیگر جنسی استحصال کے واقعات ہیں۔امریکی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری انٹونیو گوٹیرز کی جانب سے سلامتی کونسل کو بھیجی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا کہ عالمی میڈیکل اسٹاف اور بنگلہ دیش میں رہنے والے تقریبا 7 لاکھ روہنگیا مسلمانوں نے نشاندہی کی ہے کہ بیشتر روہنگیا مسلمانوں کو بدترین جسمانی تشدد اور جنسی استحصال کا نشانہ بنایا گیا۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیرز کا کہنا تھا کہ یہ واقعات مبینہ طور پر میانمار فوج، جو ٹاٹمادا کے نام سے جانی جاتی ہے، ان کی جانب سے اکتوبر 2016سے اگست 2017 کے عرصے میں روہنگیا آبادی میں جنگجوں کے خلاف آپریشن کے دوران پیش آئے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ میانمار کی فواج نے مسلمانوں کے خلاف آپریشن میں جنسی حملوں، انتہا پسندی اور روہنگیا مسلمانوں کو اجتماعی سزا دینے کا طریقہ کار اپنایا جس کا مقصد تھا کہ وہ میانمار چھوڑ ہجرت کرنے پر مجبور ہوجائیں۔

بلیک لسٹ

مزید : علاقائی