متنازع انتخابات کی طرف ۔۔

متنازع انتخابات کی طرف ۔۔

ہم ایک اور متنازع انتخابات کی طرف بڑھ رہے ہیں جن کے نتائج کوتسلیم نہیں کیا جائے گا۔ عین ممکن ہے ان انتخابات کے بعد میثاق جمہوریت مکمل طور پر دفن ہوجائے جو اس وقت کفن اوڑھے لیٹا ہوا ہے۔ کیا آئندہ عام انتخابات کے نتائج مان لئے جائیں گے۔ اس سوال کا بہت سادہ اور آسان جواب یہ ہے کہ جس پارٹی کی جیت کا اعلان ہو گا وہ نتائج تسلیم کر لے گی۔ ہمارے پاس حق کی صرف ایک دلیل ہے کہ اسے ہمارے حق میں ہونا چاہیے۔ اس کی بہترین مثال گذشتہ انتخابات تھے۔مسلم لیگ نون نے وفاق اور پنجاب میں کامیابی حاصل کی تھی لہذا پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے نزدیک قومی کے ساتھ ساتھ پنجاب کی صوبائی اسمبلی میں بھی دھاندلی ہوئی تھی۔ اسی دھاندلی کے خلاف انہوں نے دھرنا دیا تھا اور اس معاملے کو وہ میاں محمد نواز شریف کی مدد اور تعاون کے ساتھ سپریم کورٹ آف پاکستان میں لے گئے تھے مگر سوال یہ ہے کہ ان دونوں جماعتوں کا بالترتیب سندھ اورخیبرپختونخوا کے انتخابات کے بارے کیا کہنا تھا، جی جناب، پیپلزپارٹی کے مطابق سندھ میں اور پی ٹی آئی کے مطابق خیبرپختونخوا میں شفاف انتخابات ہوئے تھے۔ یہ میٹھا ہپ ہپ اورکڑوا تھو تھو والا اصول تھا۔

یہ قومی امور پر تحقیقی ادارے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف نیشنل افئیرز کے زیر اہتمام آئندہ انتخابات کے شفاف ہونے پر ایک فکری نشست تھی جس میں جناب الطاف حسن قریشی کی دعوت پر بیرسٹر ظفر اللہ، جناب شاہد حامد،جناب مجیب الرحمان شامی، جناب سجاد میر، جناب احمد بلال اور دیگر بہت سارے شامل تھے۔ بتایا تو گیا تھا کہ یہ ایک گول میز کانفرنس ہوگی جس میں سب کو اظہار خیال کا موقع ملے گا مگر عملی طور پر یہ کچھ شرکاء کے لیکچر تھے۔ مجھے اس وقت واقعی افسوس ہوتا ہے جب میڈیا میں رپورٹ نہ ہونے والے سیمیناروں میں بھی سیاسی جماعتوں کے گھسے پٹے موقف دہرائے جاتے ہیں اور غور و فکر کے لئے کوئی غیر جانبدارانہ علمی اور تحقیقی موادمیسر نہیں ہوپاتا۔ اس نشست میں بھی کچھ ایسی ہی صورتحال رہی۔ مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ ہم میں سے بہت ساروں کی ایک سوچی سمجھی پوزیشن بن چکی ہے اور آپ ذہن کا تھوڑا سا استعمال کرتے ہوئے شخصیت کے بولنے سے پہلے اس کی رائے کا اندازہ لگا سکتے ہیں، بہرحال، بیرسٹر ظفر اللہ حکومتی ذمے دار ہونے کی حیثیت سے بتا رہے تھے کہ تمام سیاسی جماعتوں نے مل کر انتخابی قوانین کو بہتر ہی نہیں بلکہ بہترین بنا دیا ہے مگر انہیں الیکشن کمیشن کی طرف سے نوکریوں پر پابندی لگانے کے اعلان پر تحفظات تھے جو کسی بھی حکومتی شخصیت کی سوچی سمجھی پوزیشن ہو سکتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ اگر بیرسٹر ظفر اللہ اپوزیشن میں ہوتے تو وہ اس پر تالیاں بجا رہے ہوتے، اسے حکمرانوں کی طرف سے پری پول الیکشن کی راہ میں ایک بند قرار دے رہے ہوتے۔

کیا ستم ہے کہ ہر تھوڑے عرصے کے بعد ایک نئی کنگز پارٹی سامنے آتی ہے اور وہ اداروں کی عزت اور حرمت کا باجا بجانے لگتی ہے۔ جو پارٹی مقتدر حلقوں کی طرف سے دھتکار دی جاتی ہے وہ عوامی حاکمیت کا راگ الاپنے لگتی ہے۔ حقیقی جمہوریت کی بانسری ہمیشہ ریاستی اداروں کی بغل میں دبی یا گود میں اپنی پیٹھ سہلواتی جماعت ہی بجاتی ہے اور وہ تمام منتخب ادارے اور شخصیات جعلی جمہوریت کی پیداوار قرار پاتی ہیں جن کی چاہے برسوں ہی نہیں، عشروں اور نسلوں کی جدوجہد ہو۔ بھٹو مرحوم خود سکندر مرزا اور ایوب خان کے دور میں آٹھ ، نو برس تک حکومتی عہدوں کے جھولے کو جھولتے رہے اور پھر ان کی اپنی جمہوری حکومت قائم ہو گئی۔ جب ذوالفقار علی بھٹو کو شہید کیا گیا تو پیپلزپارٹی جمہوریت کی اس وقت تک ٹھیکیدار رہی جب تک خود محترمہ نے این آر او نہیں کر لیا۔ ابھی کچھ عرصہ قبل ہی آصف زرداری صاحب نے اداروں کی اینٹ سے اینٹ بجانے کااعلان کیا تھا مگر ا س وقت وہ انہی اینٹوں سے لپٹے ان کی طرف آنے والے وار اپنے سینے پر سہہ رہے ہیں۔تحریک انصاف کی آج تک ایک ہی پوزیشن ہے وہ جمہوریت کوغصب کرنے والی قوتوں می آلہ کار بن کے جمہوریت قائم کرنا چاہتی ہے۔

اس سیمینار میں بتایا گیا کہ ہمارے انتخابی قوانین دنیا کے بہترین قوانین ہیں اور یہ بھی کہ ہمارے الیکشن کمیشن کے پاس وہ اختیارات موجود ہیں جو بھارت کے الیکشن کمیشن کے پاس بھی نہیں ہیں۔ میرے خیال میں یہ دونوں باتیں درست ہیں مگراس کے باوجود میراگمان ہے کہ ہم ایک اور متنازع انتخابات کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ مسئلہ ہمارے اداروں اور قوانین میں نہیں بلکہ ہماری نیتوں، رویوّ ں اور روایات میں ہے۔ مسلم لیگ نون کے تاحیات قائد محمد نواز شریف اس وقت ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگا رہے ہیں مگر جب وہ خود اقتدار میں تھے تو ان کے قومی اسمبلی کی نسبت بیرون ملک دوروں کی تعداد کہیں زیادہ رہی۔ کبھی نہیں سنا گیا کہ انہوں نے اپنی جماعت کی ورکنگ کمیٹی یا جنرل کونسل کا اجلاس بلایا ہو اور حکومتی کارکردگی پر بحث کی ہو ۔یہ اس کے باوجود تھا کہ ہماری سیاسی جماعتوں کی ورکنگ کمیٹیوں اور جنرل کونسلوں میں نامزدگیاں ہی ہوتی ہیں اور نامزدگی کا میرٹ خوشامد ہے۔ مجھے کہنا ہے کہ ہم دنیا کے بہترین قوانین بھی بنا لیں گے تو جب تک ہماری نیتوں میں فتور اور قو ل وفعل میں تضاد رہے گا تب تک ہم اچھی سیاسی ثقافت اور مستحکم جمہوری نظام کی بنیاد نہیں رکھ سکیں گے۔ وہ تمام جماعتیں جواپنے اپنے تئیں جمہوریت کی ٹھیکیدار سمجھی جا تی ہیں انتخابات پر لوٹوں کی تجارت میں مصروف ہیں ۔ میڈیا کبھی ایک طرف کے لوٹے کے دوسری طر ف جانے پر مخالف کی وکٹ اڑا دی کے نعرے لگاتا ہوا تالیاں بجاتا ہے تو کبھی دوسری طرف کی وکٹ اڑنے پر بھنگڑے ڈالتا ہے۔ اس وقت لوٹوں کی تجارت میں صرف جماعت اسلامی جیسی جماعتیں ہی مصروف نہیں کیونکہ سب کو علم ہے کہ ان کے جیتنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں ورنہ سراج الحق صاحب لوٹوں کی تجارت کو بھی اسلام اور کفر کی جنگ بنا کے پیش کر دیتے۔

ہم دنیا کی واحد ریاست ہیں جو انتخابات کروانے کے لئے آئینی طور پر ایک نگران حکومت قائم کرتے ہیں جبکہ بنگلہ دیشی عوام تک ایک دوسرے پر عدم اعتماد کے اس بدترین روئیے سے نجات حاصل کر چکے ہیں۔یہ ہمارے ایک دوسرے پر عدم اعتماد کی انتہا ہے۔ یہ با ت سو فیصد درست ہے کہ ہم قوانین اور ادارے تو مینو فیکچر کر سکتے ہیں مگر اپنے دل اور دماغ نہیں بدل سکتے جن میں موقع پرستی کا زہر بھرا ہوا ہے۔ ہمارے سیاستدان جو خود کو اتنا بڑا سپورٹس مین سمجھتے ہیں کہ اڑتے ہوئے جوتے کو قابو کرنے اور واپس تھرو کے دعوے کرتے ہیں وہ بھی شکست تسلیم کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ کیا ستم ہے کہ شکست تسلیم نہ کرنے کی گندی عادت کو اس قول میں کیمو فلاج کیا جاتا ہے کہ ہارتا وہ ہے جو ہار تسلیم کرتا ہے۔گمان ہے کہ اس مرتبہ میثاق جمہوریت قبر میں دفن ہو گا اورمسلم لیگ نون بھی اپنی انجینئرڈ شکست کو تسلیم نہیں کرے گی۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...