مر جاؤں گا مگر پی ایس پی میں شامل نہیں ہوں گا:فاروق ستار

مر جاؤں گا مگر پی ایس پی میں شامل نہیں ہوں گا:فاروق ستار

کراچی(اسٹاف رپورٹر )متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے لوگوں کی زبردستی وفاداریاں تبدیل کرانے کا عمل بہت شدت کے ساتھ شروع کیا گیا ہے اور دن رات پی ایس پی کے لوگ فون پر دھمکیاں دیتے ہیں اور بلاوا بھیجتے ہیں۔ میں مرجاؤں گا لیکن پی ایس پی یا کسی اور سیاسی جماعت میں نہیں جاؤں گا ایم کیو ایم کے لئے ہی جیوں اور مروں گا۔ چیف جسٹس اور آرمی چیف سے اپیل ہے کہ موجودہ صورتحال کا نوٹس لیں اور اس حوالے سے وہ خود دونوں اداروں سے رابطہ بھی کریں گے۔ اتوار کی صبح اپنی رہائش گاہ پی آئی بی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ وفاداریاں تبدیل کرنے کا عمل بہت شدت کے ساتھ شروع کیاگیا ہے۔ دن رات پی ایس پی کے لوگ فون پر دھمکیاں ب دیتے ہیں اور کسی نہ کسی کے ذریعے بلاوا بھیجتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تاثر دیا جارہا ہے کہ ایم کیو ایم کے اندرونی اختلاف کی وجہ سے لوگ جا رہے ہیں جب کہ شبیر قائم خانی کے جاتے ہی بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے۔ ایم کیو ایم کو انتخابی عمل سے باہر اور چھینا جھپٹی کی جارہی ہے، زبردستی سیاست سے دور کر کے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ پتنگ تو کٹ چکی ہے مستقبل کسی اور کا ہے۔زبردستی ایم کیو ایم کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے اراکین کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں اور وفاداریاں تبدیل کی جارہی ہیں۔، غیرمتنازع سیاسی جدوجہدکے باوجودہم اذیت میں مبتلاہیں، تاثردیاجارہاہے کہ پارٹی کے تنازع کی وجہ سے لوگ پارٹی چھوڑکرجارہے ہیں، کیامیں بھی ایم پی اے کے گھروں پرجاکر نظریے، مہاجرشہدا کا واسطہ دوں۔ 38،38سال سیاسی جدوجہد کرنیوالوں کی وفاداریاں تبدیل کرائی جارہی ہیں،اب اس طرح کام نہیں چلے گا، نشاط ضیا کانام چل گیا تھا کہ وہ دوپہر ڈھائی بجے پی ایس پی جوائن کررہے ہیں، مگر وہ ابھی میرے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں شفاف انتخابات کادعوی غلط ہے، مرجائیں گے لیکن پی ایس پی یا کسی اور جماعت میں نہیں جائیں گے۔ایم کیو ایم کو انتخابات کی دوڑ سے باہر کیا جارہا ہے۔ڈاکٹر فاروق ستار نے چیف جسٹس اور آرمی چیف سے مطالبہ کیا کہ موجودہ صورتحال کا نوٹس لیں اور اس حوالے سے وہ خود دونوں اداروں سے رابطہ بھی کریں گے۔ اور اپنا موقف پیش کئے بغیر سپریم کورٹ اور جی ایچ کیو سے واپس نہیں آں گا۔

مزید : کراچی صفحہ اول