کوئی بیرونی قوت ہمیں نہیں جھکا سکتی ، ڈاکٹر خالد مقبول

کوئی بیرونی قوت ہمیں نہیں جھکا سکتی ، ڈاکٹر خالد مقبول

کراچی (اسٹاف رپورٹر) متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی آج علی الصبح ہونے والی ہنگامی پریس کانفرنس میں ایم کیوایم کے ارکان سندھ اسمبلی نشاط ضیا اور جمال احمد نے جس جرات مندی کے ساتھ اپنے ساتھ ہونے والے واقعات اور دبا کا برملا اور بہادری سے اظہار کیا ہے اس پر پوری ایم کیوایم ان کو خراج تحسین پیش کرتی ہے ۔انہوں نے وزیراعظم پاکستان ، چیف جسٹس آف پاکستان ، آرمی چیف ، عدلیہ اور میڈیا سے اپیل کی کہ جس دردمندانہ طور پر جرات کے ساتھ ہمارے ایم پی ایز نے اپنی گفتگو کی ہے اس کا پاکستان میں مضبوط اور شراکتی جمہوریت کیلئے جائزہ لیاجائے اور شفاف تحقیقات کی جائے کہ کون سا ادارہ ہے ؟ از خود یا طے شدہ پرروگرام کے تحت یہ ہورہا ہے ، ڈرانے والے واقعات انفرادی ہیں یا اجتماعی اس کے جوابات ضروری ہے ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے اتوار کی شب ایم کیوایم پاکستان کے عارضی مرکز بہادرآباد میں منعقدہ پرہنگامی اور اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر رابطہ کمیٹی کے سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان ، ڈپٹی کنوینر ز کنور نوید جمیل ، وسیم اختر ، نسرین جلیل ، رابطہ کمیٹی کے اراکین امین الحق ، خواجہ اظہار الحسن ،فیصل سبزواری، ارشد حسن ، ابوبکر ، خالد سلطان ، زاہد منصوری ، ارشاد ظفیر ، عبد القادر خانزادہ ، محمد حسین ، شکیل احمد اور شاہد علی بھی موجود تھے ۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مشکل وقت میں بہادری کے ساتھ خود کو سامنے لانے کایہ عمل قیادت کی ذمہ داری ہے ، آج ہمارے ایم پی ایز نے جس طرح چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف آف آرمی اسٹاف سے اپیل کی ہم سمجھتے ہیں کہ ان کی آواز سے آواز ملانا آج ہماری ذمہ داری ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے دو ایم پی ایز نے متحدہ قومی موومنٹ کے تمام کارکنوں کو یہ حوصلہ اور پیغام دیا ہے کہ ہم مل کر جڑ کر آگے بڑھیں گے تو کوئی بیرونی قوت یا سیاسی جماعت ہمیں نہ جھکا سکتی ہے نہ ختم کرسکتی ہے ،میں سمجھتا ہوں کہ جراتوں کا یہ سلسلہ جاری رہے گا اور جاری رہا تو انشا اللہ جبر کا یہ سلسلہ ختم ہوجائے گا ۔انہوں نے حکومت ، اسٹبلشمنٹ مودبانہ درخواست کی کہ اس کی ضرور اور فوری تحقیقات کی ضرورت ہے کہ یہ عمل کون کررہا ہے ، خود کررہا ہے یا آپ کو بتائے بغیر کررہا ہے لیکن اس میں پاکستان کی جمہوریت ، حکومت اور اداروں کا نام استعمال ہورہاہے ۔ انہوں ںے کہا کہ ایم کیوایم کے تمام کارکنان کو مل کر ان حالات کا سامنا کرنا ہے ، خواں وہ بہادرآباد میں ہوں یا کہیں اور بیٹھے ہوں آپ سب اور ہم سب ایک دوسرے کی ذمہ داری اور طاقت ہیں ، ہمارا ساتھ رہنا ہی اس پوری جدوجہد کی فتح کیلئے اہم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم نے ہمیشہ اور 22اگست کے بعد خاص طور پر وضاحت کے ساتھ کہا ہے کہ عدم تشدد اور نفرت کی سیاست ہمارا طرز سیاست نہیں ہوگا ہم نہ جبر کی سیاست کریں گے نہ اس کو قبول کریں گے ،عدم تصادم اور عدم تشدد اس کے بغیر انشا اللہ تعالی کامیابی ہمارا انتظار کررہی ہے ، ہم سب کو آگے بڑھنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آج کی جو پریس کانفرنس ہوئی تھی اس میں بہت ساری انگلیاں ہماری طرف اٹھیں تھیں لیکن اس ماحول میں جواب دینا ضروری نہیں سمجھتے ہیں ہاں دوسری پریس کانفرنس میں جو الزامات اور گفتگو کی گئی اس کی صحت کے بارے میں ہمارا تبصرہ کرنا کوئی اتنا ضروری نہیں ہے بہت ساری ایسی باتیں ہیں جو جواب طلب اوروضاحت طلب ہیں ،میں سمجھتا ہوں کہ فاورق ستار بھائی اس کا جواب دیکر بہت سارے نئے اندیشوں کو جنم نہیں لینے دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ 22اگست سے پہلے اورمارچ 2016 کے کچھ عرصے بعد فاروق بھائی کی ملاقات ہوئی ہے ، کہاں ہوئی اس کی اجازت اس وقت نہیں تھی ، فاروق بھائی وضاحت سے بتائیں گے کہ یہ ملاقات تنظیم کو بتا کر یا علم میں لاکر کی گئی تھی یا نہیں ۔ ا نہو ں نے کہا کہ 8نومبر 2017 کے واقعات ہم سب نے دیکھیں ہیں ، لیکن آج 3نومبر کی ملاقات کا ذکر کیا گیا ہے اس سے بھی ایم کیوایم کی پوری تنظیم لاعلم تھی ۔ انہوں نے کہا کہ آج دوسری پریس کانفرنس میں جو باتیں کی گئی ہیں ان انکشافات میں کئی ایسی باتیں ہیں جن کا علم ہمیں تھا لیکن ہم نے کبھی ان کو الزامات کی شکل نہیں دی ، ہم اختلافات کو اس حد تک بڑھانا نہیں چاہتے تھے کہ پھر ملنا مشکل ہوجائے بحرحال یہ ہماری نہیں اب فاروق ستار بھائی کی ذمہ داری ہے کہ دوسری پریس کانفرنس میں جو کچھ کہا گیا ہے اس کی وضاحت قوم کے سامنے کریں گے کہ اس میں کتنی سچائی ہے ۔ انہوں نے کہ اکہ تمام کارکنان اور مہاجر عوام کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ الحمد اللہ ایم کیوایم پہلے کی طرح مضبوط ہے اگر کچھ کارکنان آج ا س جگہ نہیں ہیں کہیں اور بیٹھے ہیں تو ایم کیوایم کے عزائم میں کوئی کمی نہیں آئی ہے ہم پہلے بھی مشکل حالات کا سامنا کرتے آئے ہیں اور ان حالات سے نکلنے کے بعد پہلے سے زیادہ مضبوط تنظیم بنی ہے ۔ ہمارا اتحاد ہی ہماری سب سے بڑی ڈیفنس لائن ہے ، آپ کے لیڈران ،نام شخصیات آپ کو نہیں بچائے گابلکہ آپ کو اتحاد بچائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم میں سے کوئی ڈر جائے ، دبا میں آجائیں یا کسی اور جگہ کھڑے نظر آئیں تو مہاجر قوم ہماری مودبانہ درخواست پر غور کریں کہ اگر ہم ایم کیوایم کے علاوہ کہیں اور کھڑے ہوکر ووٹ مانگ رہے ہوں تو ووٹ کی خیرات ہمیں نہیں دیجئے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا وعدہ ہے کہ جو لوگ آج یہاں بیٹھے ہیں وہ قوم اور کارکنان کے ساتھ ہر مشکل وقت میں کھڑے رہیں گے ، کارکنان نے بہت قربانی دی ہے وہ قربانی جو پاکستان میں ایک درخشاں باب رکھتی ہے ، انشا اللہ تعالی یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائے گی اور نہ جانے دیں گے ۔ انہوں نے کہ اکہ سندھ کے شہری علاقوں کے عوام 35سال سے ایم کیوایم کے ساتھ کھڑے ہیں یہ ایم کیوایم پرقرض ہے اور یہ قرض چکانے کا وقت آرہا ہے ، ہم انشا اللہ تعالی اس قرض کو چکائیں گے ، مایوسی کی کوئی گنجائش ہماری صفوں میں نہیں ہے ، اس لئے بھی نہیں ہونی چاہئے کہ آپ سب نے بہت زیادہ کڑے وقت دیکھیں گے ۔ کارکنان اور سب کی حفاظت کی ذمہ داری ہماری ہے ہم انشا اللہ پورا کریں گے ، آپ پر کوئی دبا آئے آپ ہمارے ساتھ کھڑے ہو ں ہم آگے بڑھ کر اس دبا کا مقابلہ کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ آج دوسری پریس کانفرنس میں جو باتیں کی گئیں اس کی صحت کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہوں گا لیکن مختصر اتنی بات کرتا ہوں کہ واقعات کی وجودہات ہیں ہمارے اسٹینڈ کی بہت بڑی وجہ تھی ۔ ہم بہت سارے واقعات کو جانتے تھے لیکن ان الزامات کو کارکنان کے سامنے الزام لگا کر دہرایا نہیں ، یاد رکھئے کہ ایم کیوایم کو پہلے بھی اس کے نظریے ، طرز سیاست اور مقاصد اور قومی جذبے کے تحت مینڈیٹ ملتا رہا ہے آئندہ بھی ملے گا ، ایم کیوایم کی پتنگ ہمارا نشان ہے ، ایم کیوایم کا نام ہمارابرانڈ ہے ، ایم کیوایم کے کارکنان اور عوام نام اور نشان کے ساتھ کھڑے ہیں ، تو ایم کیوایم تقسیم نہیں ہوئی ہے ہاں تطہیر کے ایک مرحلے سے ضرور گزر ررہی ہے ۔ اختلافاتی باتوں کی گنجائش نہیں کرنا چاہتے ہیں ۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے لاہور میں سپریم کورٹ کے جسٹس جناب اعجاز الحسن کے گھر پر فائرنگ کے واقعہ کی شدید مذمت بھی کی ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں ںے کہاکہ ہماری ڈیڈ لائن کے بعد جو آئے گا اس کیلئے دروازے کھلے ہیں ، انشا اللہ یہ تنظیم جلد ہی تیزی سے جڑتی نظر آئے گی ۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ کوئی بھی اگر میئر کراچی کو ہٹانے کی سازش کررہا ہے تو وہ کراچی اورمہاجر عوام اور جمہوریت کے خلاف سازش کررہا ہے ، اگر ہمارا اپنا کررہاہے تو یہ ڈوب مرنے کا مقام ہے۔

مزید : کراچی صفحہ اول