دریاؤں میں پانی کا بہاؤ خطرناک حدتک کم ‘ نیا توانائی بحران سر اٹھانے لگا

دریاؤں میں پانی کا بہاؤ خطرناک حدتک کم ‘ نیا توانائی بحران سر اٹھانے لگا

کوٹ ادو(تحصیل رپورٹر) دریائے سندھ اور جہلم میں پانی کے بہاؤ میں (بقیہ نمبر15صفحہ12پر )

خطرناک حد تک کمی ہوگئی ہے، جس کے بعد ملک میں پانی اور بجلی کے نئے بحران کا خدشہ بڑھ گیا جبکہ تربیلا ڈیم اور منگلا میں پانی کی سطح ڈیڈ لیول پر برقرار ہے،گرمی کی شدت میں اضافہ کے باوجود دریاؤں میں پانی کی آمد میں اضافہ نہیں ہوا،دوسری جانب تربیلا، منگلاڈیم میں پانی کی سطح میں مسلسل کمی سے ملک کے سب سے بڑے دریائے سندھ میں پانی ڈیڈ لیول تک پہنچ گیا ہے اور اس وقت دریائے سندھ میں صرف32ہزار کیوسک پانی کی آمد ہے، دریائے سندھ کے تونسہ بیراج سے نکلنے والی ششماہی مرکزی نہریں مظفر گڑھ و ڈی جی خان کینال جو کہ اکتوبر سے اپریل تک بند کر دی جاتی ہیں جو کہ پانی کی قلت کی وجہ سے تا حال نہ چلائی جا سکیں ہیں،مذکورہ مرکزی نہریں مظفر گڑھ و ڈی جی خان کینال جو کہ جنوبی پنجاب کے اہم ترین اضلاع مظفر گڑھ ‘ ڈیرہ غازیخان‘ راجن پور کے لاکھوں ایکڑ اراضی کو سیراب کرتی ہیں کی بندش کی بنیاد پر تحصیل کوٹ ادو کی درجنوں برانچز نہروں میں پانی کی فراہمی معطل ہے،صوبوں میں پانی کی تقسیم کرنے والے ادارے ارسا نے خبردار کیا ہے پانی کی موجودہ صورتحال برقراررہی توآئندہ فصلوں کوپانی کی کمی کاخدشہ ہے،آبی ماہرین کا کہنا ہے کہ گندم کی موجودہ فصل کو بھی پانی کی اشد ضرورت تھی،جو اسے نہیں ملا اور آئندہ فصلوں کی کاشت بھی متاثر ہوگی اور اگر ڈیمو ں میں پانی ختم ہو گیا تو بجلی کی پیداوار مزید کم ہو جائے گی،اس حوالے سے ایکسئین تونسہ بیراج چوہدری فیصل مشتاق نے بتایا کہ دریائے سندھ میں پانی16ہزار کیوسک سے بڑھ کر32ہزار کیوسک ہو گیا ہے جبکہ پانی کی کمی کی وجہ سے مظفر گڑھ و ڈی جی خان کینال میں پانی نہیں چھوڑا جاسکتا جبکہ ٹی پی لنک کنیال میں22سو کیوسک پانی چھوڑا جا رہا ہے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر