سکہ گولی فائر ہوئی ، جسٹس اعجاز الاحسن فائرنگ سے 6 منٹ پہلے گھر پہنچے، ابتدائی رپورٹ

سکہ گولی فائر ہوئی ، جسٹس اعجاز الاحسن فائرنگ سے 6 منٹ پہلے گھر پہنچے، ...
سکہ گولی فائر ہوئی ، جسٹس اعجاز الاحسن فائرنگ سے 6 منٹ پہلے گھر پہنچے، ابتدائی رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائش گاہ پر فائرنگ کے واقعہ کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق ہفتہ کی رات جسٹس اعجاز الاحسن 10 بجکر 35 منٹ پر اپنی مصروفیات ختم کرکے اپنے گھر میں داخل ہوئے، تقریباً 6 منٹ بعد 10 بجکر 41 منٹ پر رینجرز کا جوان سمیع اللہ جووردی میں گیٹ پر موجود تھا، نے بتایا کہ ایک سکہ گولی مین گیٹ سے ٹکرا کر سڑک پر تقریباً 7/8 گز کے فاصلے پر گری ہے۔ یہ واقعہ اس نے اندر رہائش گاہ پر موجود کانسٹیبل بابر جاوید کو بتایا جو اس نے گارڈ روم میں موجود ملازمین کو بتایا اور انہیں الرٹ کیا گیا۔

گلی کے باہر ناکہ پر سکیورٹی ڈویژن کے اے ایس آئی کو اطلاع دی گئی اور اندر جج صاحب کو بھی واقعہ کی اطلاع دی گئی، جج صاحب نے تمام نفری کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی جس کے بعد ڈی آئی جی آپریشنز لاہور ڈاکٹر حیدر اشرف، ایس ایس پی آپریشن لاہور منتظر مہدی موقع پر پہنچ گئے اور فرانزک لیب ٹیم نے بھی موقع پر آکر سکہ گولی سڑک سے قبضہ میں لی۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

روزنامہ ایکسپریس کے مطابق اتوارکو تقریباً ایک سکہ گولی گھر کے اندر باورچی خانہ کے دروازے کے ساتھ گری جو باہر گیلری میں کھلتا ہے، جالی سے ناشتہ تیار کرنے والی ملازمہ نے سکہ گولی گرنے کی آواز سن کر بتایا، کانسٹیبل بابر نے کوٹھی کے اندر جج صاحب کو اطلاع دی، اس پر سی پی او لاہور کیپٹن (ر) محمد امین وینس، ڈی آئی جی آپریشن لاہور ڈاکٹر حیدر اشرف سمیت دیگر افراد موقع پر پہنچ گئے، اس دوران چیف جسٹس بھی موقع پر آئے اور انہوں نے آئی جی پنجاب کو موقع پر طلب کیا، فرانزک لیب ٹیم نے دوبارہ موقع پر آکر سکہ گولی کو قبضہ میں لیا۔

رپورٹ میں مزید بتایاگیا ہے کہ جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائش گاہ کو جانے والی گلی میں داخلے کیلئے سکیورٹی کا بنایا ہوا بیریئر روزانہ 9:30 بجے بند ہوجاتا ہے، اس بیریئر پر سکیورٹی ڈویژن کے ملازمین مختلف شفٹوں میں ڈیوٹی کرتے ہیں، اس سڑک پر وزیراعلیٰ پنجاب کی رہائش گاہ بھی ہے اور سپیشل برانچ، ایلیٹ فورس کی گاڑیاں بمعہ ٹیم اور سکیورٹی ڈویژن کے جوان شفٹوں میں 8/8 گھنٹے ڈیوٹی کرتے ہیں، چیف جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائشگاہ پر رینجرز کے ایک نائیک کمانڈر اور تین اہلکار جبکہ پنجاب کانسٹیبلری کے پانچ اہلکار ڈیوٹی سرانجام دیتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق آئی جی نے موقع پر پہنچ کر متعلقہ افسران اور فرانزک لیب ٹیم کو حکم دیا کہ فائر کی قسم اور سمت کا تعین کرکے تفتیش کو آگے بڑھایا جائے۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...