”جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر جانے والے راستوں پر دو جگہ۔۔۔“ جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر چلائی جانے والی گولی کہاں لگی اور ان کے گھر جانے والے راستوں میں دومختلف جگہوں پر کیا ہے؟ حامد میر نے تہلکہ خیز انکشاف کر دیا

”جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر جانے والے راستوں پر دو جگہ۔۔۔“ جسٹس اعجاز الاحسن ...

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) معروف سینئر صحافی و اینکر پرسن حامد میر نے جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کے واقعے کو سوچا سمجھا منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ گولی جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر میں لگے لکڑی کے دروازے میں پیوست ہوئی ہے اور کسی سی سی ٹی وی کیمرے میں کوئی فوٹیج بھی نہیں آئی۔ یہ ہماری سیکیورٹی ایجنسیز کیلئے بہت بڑا چیلنج ہے اور انہیں یہ بتانا چاہئے کہ یہ کس طرح ہوا، کس نے کیا اور کیوں کیا؟

یہ بھی پڑھیں۔۔۔”یہ لڑکا موٹر سائیکل چوری کرتا ہے اور۔۔۔“ کراچی میں اب تک کا انوکھا ترین چور پکڑا گیا، روز ایک ہی موٹر سائیکل چوری کر کے کیا کرتا تھا؟ حقیقت بتائی تو پکڑنے والوں کی بھی ہنسی چھوٹ گئی 

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے حامد میر کا کہنا تھا کہ ”میں تو سیدھی اور صاف بات کروں گا کہ مجھے تو یہ کوئی اتفاقیہ واقعہ نظر نہیں آتا اور نہ ہی یہ اندھی گولی ہے، یہ بہت سوچ سمجھ کر ایک دفعہ نہیں دو دفعہ گولی چلائی گئی ہے۔ وہ جگہ جہاں پر یہ واقعہ ہوا ہے میں اس جگہ کو جانتا ہوں، میرا بچپن بھی وہاں گزرا ہے اور جوانی بھی وہاں گزری ہے۔ ابھی بھی جب ہم شہباز شریف کو ملنے جاتے ہیں تو ان کے گھر سے کچھ دور ہی اعجاز الاحسن صاحب کا گھر ہے۔

ان کے گھر جانے کیلئے دو راستے ہیں۔ ایک فیروز پور روڈ کی طرف آتا ہے اور ایک ماڈل ٹاﺅن کی طرف سے جاتا ہے۔ ان دونوں راستوں پر صرف پنجاب پولیس نہیں بلکہ رینجرز کی بھی چیک پوسٹیں ہیں اور کیمرے بھی لگے ہوئے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ نائن ایم ایم کی گولی ایسے نہیں ہوتی کہ بہت دور سے چلائی اور گھومتی ہوئی یہاں آ گری، نائن ایم ایم کی گولی کی بہت زیادہ رینج نہیں ہوتی، وہ قریب سے چلانا پڑتی ہے۔ تو یہ گولی اوپر سے آئی یا نیچے سے آئی ہے، یہ قریب سے آئی ہے۔

یہ یقینی بات ہے کہ جج صاحب کے گھر کے سامنے رہنے وہالے لوگوں نے تو نہیں چلائی ہو گی، تو یہ کسی طریقے سے وقفے وقفے سے دو دفعہ گولی چلائی گئی ہے اور انہیں پیغام دیا گیا ہے۔ اتفاق کی بات ہے کہ کسی کیمرے میں کوئی فوٹیج نہیں آئی، یہی تو کمال ہوتا ہے کہ آپ کوئی ثبوت نہیں چھوڑتے، جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر چلائی جانے والی گولی ان کے گھر میں لگے لکڑی کے دروازے میں باقاعدہ پیوست ہوئی ہے، پولیس دعویٰ کر رہی ہے کہ کسی نے آواز نہیں سنی۔

میں یہ نہیں کہہ رہا کہ یہ کس نے کروایا ہے لیکن صاف نظر آ رہا ہے کہ یہ صرف جسٹس اعجاز الاحسن کیلئے نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے تمام ججز، ہائیکورٹ کے ججز اور نیب کورٹ کے جج بشیر صاحب کیلئے پیغام ہے۔ لاہور شہر میں یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ جسٹس باقر نجفی کیساتھ کیا ہوا، جسٹس باقر نجفی کو دھمکایا جاتا تھا کہ آپ اپنی رپورٹ میں خیال کریں، اس رپورٹ کو دبایا گیا، وہ بول نہیں سکتے ۔ بہرحال جسٹس باقر نجفی اس معاملے پر بولے نہیں لیکن وہ بہت مشکل دور سے گزرے ہیں اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس طرح کے نامعلوم افراد ہیں، خواہ وہ کسی بھی گروہ یا سٹیٹ ایکٹر یا نان سٹیٹ ایکٹر سے تعلق رکھتے ہوں، یہ صحافی پر حملہ کریں، یہ جج پر حملہ کریں یا کسی سیاستدان پر حملہ کریں، ان کا پتہ چلنا چاہئے۔

ایک مثال ہمارے پاس موجود ہے اس وقت سپریم کورٹ کے جج سجاد علی شاہ جب یہ سندھ ہائیکورٹ میں تھے تو ان کے بیٹے کو اغواءکیا گیا تھا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ٹانک سے اسے بازیاب کروایا تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ جسٹس اعجاز الاحسن صاحب کے گھر پر جو واقعہ ہوا ہے یہ کوئی اتفاقیہ نہیں ہوا، کوئی اندھی گولی نہیں ہے، اور ہماری قانون نافذ کرنے والی ایجنسیز اور سیکیورٹی ایجنسیز کیلئے بہت بڑا چیلنج ہے، ان کو بتانا چاہئے کہ یہ کس طرح ہوا، کس نے کیا او ر کیوں کیا اور جو لوگ کہہ رہے ہیں کہ اندھی گولی ہے وہ یہ بتائیں کہ یہ آئی کہاں سے ہے۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔مشہور کامیڈین ببو برال کی بیٹی کی تصاویر منظرعام پر آئیں تو پاکستانی نوجوان آنکھیں جھپکنا بھول گئے لیکن وہ آج کل کیا کر رہی ہیں؟ یہ جان کر کوئی بھی آنسوؤں پر قابو نہ رکھ پایا 

اس معاملے کو بالکل بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے، آئی ایس پی آر نے اور تمام سیاسی جماعتوں نے اس کی مذمت کی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ آئی ایس پی آر کا بیان بہت سادہ اور مختصر ہے لیکن بہت معنی خیز ہے، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے جو مذمت کی ہے وہ بھی بہت اہم ہے، اور ایسا لگتا ہے کہ کچھ لوگ پاکستان میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر کے ایسا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ جو اس وقت پاکستان میں عدالتوں میں مقدمات چل رہے ہیں اس سے توجہ ہٹ جائے۔“

۔۔۔ویڈیو دیکھیں۔۔۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /علاقائی /اسلام آباد /پنجاب /لاہور

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...