فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر405

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر405
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر405

خواجہ سلطان احمد نے یہ بھی بتایا کہ آصف نے اپنی فلم ’’مغل اعظم ‘‘کی موسیقی کیلیے خواجہ خورشید انور سے معاہدہ کیا تھا مگر یہ فلم سات سال میں بھی مکمل نہ ہو سکی ۔یہاں تک کے برصغیر تقسیم ہو گیا اور خواجہ صاحب پاکستان چلے آئے ۔

خواجہ خورشید انور کے بارے میں اس بات پر سب متفق ہیں کہ وہ موسیقار کے طور پر خداداد صلاحیتوں کے مالک تھے ۔یہی وجہ ہے کہ ان کی وفات کو سالہا سال گزرجانے کے با وجود ان کی موسیقی آج بھی دلوں کو متاثر کرتی ہے ۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر404 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

خواجہ خورشید انور کا تذ کرہ چھڑ گیا ہے۔تو کچھ اور دلچسپ باتیں بھی ہو جائیں ۔یہ ہم پہلے بھی بتا چکے ہیں کہ خواجہ صاحب اور فیض احمد فیض طالب علمی کے زمانے سے گہرے دوست تھے اور یہ دوستی آخردم تک قائم رہی ۔فیض احمد فیض تو انکے ایک طرھ سے دیوانے تھے کیونکہ انکی شاعری ان کے دل میں اتر جاتی تھی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس زمانے میں فیض صاحب کو موسیقی سے لگاؤ تھا اورخواجہ صاحب شاعری کرتے تھے ۔اس سلسلے میں فیض صاحب کی صاحب زادی سلیمہ ہاشمی کے مضمون کا ایک اقتباس سنئے۔وہ لکھتی ہیں ۔

’’خواجہ خورشید انور سے ابا کی دوستی گورنمنٹ کالج کے زمانے سے تھی ۔ابا (فیض احمد فیض)کہا کرتے تھے کہ خواجہ صاحب اس زمانے میں ان سے بہتر شاعر تھے ،جب ابا بیروت میں تھے تو خواجہ صاحب دنیا سے کنارہ کش ہو چکے تھے ۔ مجھے کہیں ملے اور کہا ۔۔۔’’فیض کو خط لکھو تو کہہ دینا کہ بیمار ضرور ہوں لیکن اسے ملے بغیر دنیا سے نہیں جاؤں گا۔اسے معلوم ہے کہ میں کتنا ڈھیٹ ہوں۔‘‘

ابا جی جب بالآخر گھر لوٹے تو خواجہ صاحب اسپتال میں داخل تھے ۔اباکے آتے ہی میں نے ذکر کیا تو بولے ’’کل چلیں گے ۔‘‘

دوسرے روز ہم اسپتال پہنچے تو دونوں ملے ۔خواجہ صاحب بہت اچھے موڈ میں تھے اور کوئی خاص کمزور بھی نظر نہیں آ رہے تھے ۔ابا کی صحت پہلے سے بہتر تھی ۔دونوں گلے ملے اور ان کی آنکھیں بھر آئیں ۔

میں نے دیکھا کہ معاملہ کچھ جذباتی ہو رہا ہے تو ڈانٹ کر کہا ’’خواجہ صاحب سردیاں آ رہی ہیں ۔اب آپ دونوں باغ میں بیٹھ کر اپنی آٹو بائیو گرافی شروع کر لیں ‘‘

خواجہ صاحب مسکرا دیے اور کہنے لگے ’’فیض تُو ںآگیا ایں ہُن بس میں ٹُر چلاں۔‘‘(فیض تُو آگیا ہے بس اب میں چلا)

ابا کی آنکھوں میں مجھے کچھ نظر آیا ۔جلدی سے بولے ’’ہاں ۔نال چلاں گے ۔‘‘

لیکن خواجہ صاحب اپنی بات کے پکے تھے ۔ہفتے بھر بعد دنیاچھوڑ گئے ۔فیض جو دوستی نبھانے کے قائل تھے بیس دن بعد وفات پا گئے۔

’’تان سین ‘‘کے گانوں کی ریکارڈنگ کے سلسلے میں نور جہاں اورخواجہ صاحب کے مابین کیا اختلاف پیدا ہو گئے تھے؟یہ بھی خواجہ سلطان احمد کی زبانی سنئے ۔

خواجہ صاحب نے جب میڈم نور جہاں کا گایا ہوا نغمہ سنا تو انہیں محسوس ہو ہوا اس میں ترانے کی ادائیگی حسب توقع نہیں ہے ۔انہوں نے نور جہاں سے کہا کہ یہ گانا دوبارہ ریکارڈ کرنا پڑے گا ۔

نور جہاں نے اس بات کو اپنی توہین سمجھا اور دوبارہ گانا گانے سے معذرت کر لی ۔خواجہ صاحب بھی اپنی ضد کے پکے تھے اور نور جہاں بھی۔خواجہ صاحب گانے سے مطمئن نہ تھے اور نور جہاں غلطی کی اصلاح کے لیے تیار نہیں تھیں ۔نتیجہ یہ نکلا کہ خواجہ صاحب نے یہ فلم بنانے کا ارادہ ہی ترک کر دیا ۔ان کے خیال میں ان گانوں کے ساتھ کوئی انصاف نہیں کر سکتا تھا۔خواجہ صاحب کو اسکا دکھ ہوا لیکن نورجہاں بھی کہا کرتی تھیں کہ خواجہ صاحب نے تو ان کا دل ہی توڑ دیا تھا اس لئے وہ ضد پر مجبور ہوگئیں۔

خواجہ خورشید انور نے ایک خوش حال ،تعلیم یافتہ اور معزز گھرانے میں جنم لیا تھا ۔اعلی تعلیم انتہائی اعزاز کے ساتھ حاصل کی تھی۔وہ چاہتے تو آئی سی ایس بن کر انگریزی سرکار میں اعلٰی عہدے حاصل کر سکتے تھے لیکن ان کا رجحان موسیقی میں تھا ۔انہوں نے دوسرے سارے پیشے چھوڑ کر موسیقی کو اپنانے کا فیصلہ کیا اور آخروم تک اس فیصلے پر قائم رہے ۔

فلمی دنیا سے خواجہ صاحب کی وابستگی بھی ایک حادثہ ہی تھا ۔سنہ 1939 سے 1940میں خواجہ صاحب آل انڈیا ریڈیو دہلی سے وابستہ ہو گئے تھے ۔یہاں انہوں نے بہت سے گانوں کی طرزیں بنائیں جو بہت مقبول تھیں۔کئی فلم سازوں اور ہدایت کاروں نے ان کی موسیقی سے متاثر ہو کر فلموں میں موسیقی بنانے کی دعوت دی ۔وہ اپنی پنجابی فلم ’’کڑمائی ‘‘کے لیے ان سے موسیقی بنوانا چاہتے تھے۔

اس طرح خواجہ خورشید انور سنہ 1941 میں موسیقار کی حیثیت سے فلمی دنیا سے متعارف ہوئے ۔اس فلم کے گانے اتنے مقبول ہوئے کہ ہر طرف خواجہ صاحب کی مانگ ہو گئی اور اگلے چند سالوں میں وہ ایک نامور اور قابل ذکر حیثیت سے پہنچانے گئے۔قیام پاکستان کے بعد خواجہ صاحب فلم سازوں کے روکنے کے باوجود پاکستان آ گئے اور اپنے اس فیصلے پر وہ کبھی پریشان نہیں ہوئے ۔(جاری ہے )

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر406 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...