کوئی بھی نجی یا انٹرنیشنل سکول باقاعدہ اجازت کے بغیر فیس نہیں بڑھاسکتا: محکمہ تعلیم

کوئی بھی نجی یا انٹرنیشنل سکول باقاعدہ اجازت کے بغیر فیس نہیں بڑھاسکتا: ...
کوئی بھی نجی یا انٹرنیشنل سکول باقاعدہ اجازت کے بغیر فیس نہیں بڑھاسکتا: محکمہ تعلیم

 جدہ (محمد اکرم اسد) سعودی دارلاخلافہ ریاض محکمہ تعلیم نے خبردار کیا ہے کہ کوئی بھی نجی یا انٹرنیشنل سکول یا کمیونٹی سکول باقاعدہ اجازت کے بغیر فیس نہیں بڑھا سکتا۔ محکمہ نے تمام سکولوں کے نام تحریری ہدایت میں توجہ دلائی ہے کہ فیس میں اضافے سے متعلق درخواست اور استغاثہ کی تاریخیں مقرر کردی گئی ہیں۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

محکمہ نے ویب سائٹ پر واضح کردیا ہے کہ جو نجی یا انٹرنیشنل یا غیر ملکی سکول تعلیمی فیس بڑھانے کا خواہاں ہو وہ محکمہ تعلیم کی ویب سائٹ پر درخواست پیش کردے۔ محکمہ کے افسران پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق ہر سکول کی درخواست کا جائزہ لیں گے۔ ایسی ہر درخواست مسترد کردی جائے گی جسے مطلوبہ طریقے سے پُر نہیں کیاگیا ہوگا۔ سکول ہی فیس میں اضافے کی درخواست پر فیصلے میں تاخیر یا درخواست کو نامکمل ہونے کے باعث مسترد ہونے کا ذمہ دار ہوگا۔ محکمہ نے توجہ دلائی ہے کہ فیس میں آن لائن اضافے کی درخواستوں کا اندراج 29 رجب 1439 ھ سے لے کر 20 شعبان 1439 ھ تک نجی ، انٹرنیشنل اور کمیونٹی سکولوں کے سرمایہ کاروں کے توسط سے ہوگا۔

محکمہ نے واضح کیا ہے کہ 29 شعبان 1439 ھ سے لے کر 9 رمضان 1439 ھ 10 روز تک سرمایہ کاروں سے داد رسی کی درخواستیں وصول کی جائیں گی۔ محکمہ تعلیم کی ذیلی کمیٹی ان درخواستوں کا جائزہ 29 شعبان سے 12 رمضان تک لے گی۔ محکمہ نے مزید بتایا ہے کہ جن نجی اور غیر ملکی سکولوں کو گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیمی فیس پروگرام میں اضافے کی اجازت دی جاچکی ہے۔

انہیں یہ بات معلوم ہونا چاہئے کہ اضافے کی نئی درخواستیں صرف ان سکولوں سے وصول کی جائیں گی جنہوں نے سبسڈی اور مشترکہ معاہدہ  ملازمت ختم ہوجانے کے بعد سعودی اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافے کا سلسلہ جاری رکھا ہوگا۔ محکمہ نے انتباہ دیا ہے کہ ا گر متعلقہ کمیٹی کی منظوری سے قبل کسی سکول نے تعلیمی فیس بڑھائی تو اسے کالعدم کردیا جائے گا۔ سکول کی انتظامیہ سے کہا گیا ہے کہ وہ وزارت کی منظوری کے بعد والدین کو تعلیمی سال ختم ہونے سے قبل اضافے سے مطلع کرے۔ اگر سکول اور طلبہ کے کسی سرپرست کے درمیان تعلیمی فیس کی وصولی پر اختلاف پیدا ہوا تو اس کا فیصلہ معاہدے کی بنیاد پر ہوگا۔ طالب علم یا طالبہ کو فریق نہیں بنایا جائے گا۔ 

مزید : عرب دنیا

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...