پاکستان کا اسٹیفن ہاکنگ ،ڈاکٹرلوزینہ شعیب

پاکستان کا اسٹیفن ہاکنگ ،ڈاکٹرلوزینہ شعیب
پاکستان کا اسٹیفن ہاکنگ ،ڈاکٹرلوزینہ شعیب

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

    پاکستان اور پاکستان کے باسیوں نے نا کردہ گناہوں کی ایسی سزا کاٹی ہے کہ جن کی تفصیل بہت ہولناک ہے۔ ہٹلر کے بعد دنیا جس طرح کی جنگ کا شکار ہوئی ، وہ طاقتور قوتوں کی ڈرپوک جنگ تھی، سرد جنگ۔ یہ جنگ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے روس اور اتحادیوں کے ساتھ ان غریب ملکوں میں لڑی کہ جن کا اس جنگ سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا۔ امریکہ روس کو افغانستان میں سبق سکھانا چاہتا تھا، وہ چاہتا تھا کہ افغانستان کو روس کی قبر بنادے اور وہ ایسا کرنے میں کامیاب بھی ہوگیا، مگر بعد میں تاریخ بدل گئی۔ امریکہ کے تیار کیے ہتھیار اسامہ بن لادن کی شکل میں امریکہ کے خلاف ہی چلنے لگ گئے، ان کو ختم کرنے کے لیے 9/11 کے بعد امریکہ نے افغانستان پر براہ راست حملہ کردیا۔

   روس کے خاتمے کی دہائی میں پاکستان امریکا کا اتحادی تھا، اور یوں وہ طاقتیں، جن میں جہادی شامل تھے، ان کو روس کے خلاف تیار کرنے میں پاکستان شریک تھا۔ یہ پاکستان کے ہر شہر میں آ کر بس چکے تھے اور ان کے یہاں مقامی لوگوں سے بہت گہرے تعلقات تھے۔ افغان مہاجر یں بھائی بھائی کے نعرے نے بھی کئی لاکھ افغانیوں کو پاکستان کی شہریت دے کر پاکستانی بنا دیاتھا۔

اسامہ کے بعد،امریکہ کے 180 ڈگری کے زاویے پر بدل جانے سے امریکہ کو براہ راست نقصان نہیں تھا، مگر پاکستان کو جہاں ایک طرف تورا بورا بنائے جانے کی دھمکی دی جارہی تھی، وہیں دوسری طرف اس کے لیے ان لوگوں سے جنگ تیار تھی ،جو گھر میں مہمان بن کر آئے تھے اور اب گھر کے پکے مکین تھے۔ ادھر امریکہ نے ان کے خلاف جنگ کی،ادھر آمر نے اپنے اقتدار کے دوام کے لیے پھر امریکہ کا ساتھ دیا او ر یوں پاکستان کی ہر گلی میں بارود پھٹنے لگا۔ یہ کہانی اس بارود کے پھٹنے کے بعد اوجھل ہوتے دھویں کے بعد کی ہے۔ یہ ڈاکٹر لوزینہ شعیب کی کہانی ہے۔ لوزینہ پیدائش سے Arthrogryposis نامی انتہائی پراسرار بیماری کا شکار ہے۔اس بیماری میں پیدائش سے ہی انسان کا ہر جوڑ مکمل طور پر جڑا ہوتا ہے، ہڈیاں جڑی ہوتی ہیں اور انسان ساکت ہوتا ہے ،وہ حرکت نہیں کر سکتا۔ ان میں دماغی طور پر ذہانت عام انسانوں سے زیادہ ہوتی ہے، مگر یہ حرکت کے قابل نہیں ہوتے۔ پوری دنیا میں اب تک اس کے بہت کم کیس رپورٹ ہوئے ہیں اور ان میں سے شاید کوئی بھی دس سال کی عمر سے زیادہ زندہ نہیں رہ پایا۔

خدا نے جب آپ کو کسی سے ملانا ہو تو راستے متعین ہوجاتے ہیں، راقم القلم کو اسلام آباد کے ایک نجی ہوٹل میں میڈیکل کی ایک کانفرنس کا دعوت نامہ موصول ہوا۔ ہسپتال سے واپسی پر ،شدید تھکاوٹ کے باوجود ،اس نیت سے کہ اپنے پروگرام کے لئے کسی بڑے ڈاکٹر کا انٹرویو ریکارڈ کرلوں گا،گاڑی کا رخ گھر سے ہوٹل کی جانب موڑ لیا۔ ڈاکٹر نازش عفان بھی اسی ہوٹل میں موجود تھیں۔ ہم دونوں کانفرنس کے بعد ہوٹل کی لابی میں ہائی ٹی کے لیے بیٹھ گئے تو کچھ دیر بعد معروف ہیومن ایکٹیوسٹ سعدیہ شکیل کو قریب آتے پایا۔ انہوں نے ہمیں ڈاکٹر لوزینہ سے ملوا یا۔ یہ میری زندگی کا پہلا انٹرویو تھا، جو میری آنکھوں میں آنسو لے آیا۔ لوزینہ کی کہانی سننے کے بعد، مجبور ہوگیا کہ اس باہمت لڑکی کو پاکستان کی Stephen Hawking کا خطاب دیا جائے۔

لوزینہ پیدا ہوئی ،تو والد میجر شعیب نے کان میں ایک لفظ پھونک دیا، تم میری Damaged Doll ہو۔یعنی وہ گڑیا، جو تھوڑی خراب ہے، مگر میری گڑیا ہے۔ لوزینہ میجر شعیب اور فوزیہ شعیب کی اکلوتی اولاد ہیں اور اکڑے جسم کہ جس میں صرف دو ہاتھ اور سر معمولی حرکت کر سکتا ہے، لوزینہ اپنی زندگی کے بہترین دن گزار رہی تھیں۔لوزینہ کی خاطر والد نے فوج سے جلد ریٹائرمنٹ لے لی،لوزینہ کے22 آپریشن ہوئے ، مگر لوزینہ اپنی زندگی سے خوش تھیں۔ وہ روزانہ اپنے والد کے بازو پر سوتی تھیں۔ لوزینہ نے زندگی کی تلخ حقیقت کو باپ کی شفقت اور ماں کے پیار میں دفن کردیا تھا۔ لوزینہ نے شاید اس معاشرے کی ان ہزاروں لڑکیوں سے اچھی زندگی گزاری ،کہ جن کو بے شعور معاشرے میں لاتعداد پیدا کیا جاتاہے،جسم پالے جاتے ہیں، مگر ذہن قتل کردیے جاتے ہیں۔ لوزینہ نے ویل چیئر پر محدود حرکت کرتے ہاتھوں کی مدد سے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں پی ایچ ڈی کر ڈالی۔اس لڑکی کی ہمت کو سلام کے طور پر، بہت سے افراد نے شادی کی پیش کش بھی کی، مگر لوزینہ کو یہ بات معلوم تھی کہ وہ سپیشل ہے اور اس کی زندگی کا مقصد کچھ اور ہے۔

لوزینہ کو اس مقصد کا ادراک تب ہوا، جب بارود سے پھیلے دھویں کے بادل چھٹنے لگے۔4 دسمبر ،2009 ءکو راولپنڈی میں فوج کے افسران کی پریڈ لین میں واقع رہائشی کالونی کی مسجد پر پانچ خود کش دہشت گردوں نے حملہ کردیا۔ ایک بڑے دھماکے کی آواز آئی، بہت سے گرنیڈ پھینکے گئے اور پھر کلانشکوف گولیوں کی آوازیں۔ یہ سب تھما ،تو لوزینہ کی زندگی تھم گئی۔ لوزینہ کے والد میجر شعیب شہید ہوچکے تھے ۔ اس حملے میں کئی بچوں سمیت ، فوج کے بڑے افسران شہید ہوئے۔ لوزینہ کا وہ بازو کہ جس پر اس کے ساکت جسم کو ، حرکت محسوس ہوتی تھی،اسے زندگی کا احساس ہوتا تھا، وہ ایک ایسی جنگ کا شکار ہوگیا تھا کہ جس کی قیمت نجانے اس دیس کو کیوں چکانا پڑی۔ لوزینہ کے ایمان کی پختگی کا عالم، دیدنی تھا۔ ” میرا ایما ن ہے، میں اپنے پاپا سے ملوں گی، پھر ان کے بازوں پر اسی طرح پیار سے سویا کروں گی۔ شہید ہمیشہ زندہ رہتے ہیں، کاش میں بیٹا ہوتی، میں پاپا کے ساتھ چلی جاتی، مگر کوئی بات نہیں، مجھے پتہ ہے کہ مجھے ان سے ملنا ہے۔ “

لوزینہ نے اسی سبب ہمت سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری ملک کی بہترین یونیورسٹی سے حاصل کی ،اور آج اس مقصد سے جی رہی ہے کہ وہ اپنے پاپا کی Damaged Doll ہے، وہ گڑیا ،جو تھوڑی خراب بن گئی ہے، مگر ہے پاپا کی گڑیا ۔

لوزینہ کی آزمائشیں ابھی تھمی نہیں، لوزینہ کی والد ہ فوزیہ شعیب ، اب سرطان کی تیسری سٹیج سے لڑ رہی ہیں۔ یہ ان لوگوں کی کہانی ہے کہ جن کے حوصلوں کے سامنے کئی کلو کا بارود بھی اپنا اثر کھو دیتا ہے۔جب جب دھواں تحلیل ہوتا ہے، وہ ایک نئے عزم ، نئے ارادے سے سامنے آتے ہیں۔ اپنی اپنی آرام دہ زندگیوں میں چھوٹی چھوٹی مشکلات سے لڑتے ،مایوس ہونے والے ہم، زندگی کی اصل تلخیاں بھول جاتے ہیں۔ایسے بھی لوگ ہیں، انسان تو ہر جگہ پیدا ہوتے ہیں، مگر زندگی کی تلخ حقیقتوں سے لڑتی انسانیت کہیں کہیں جنم لیتی ہے۔ آخر بس اس جواب پر،لوزینہ ،آپ کو پاپا یاد آتے ہیں؟

بڑا دشوار ہوتا ہے،کسی کو یوں بھلا دینا

کہ جب وہ جذب ہوجائے ، رگوں میں خون کی مانند۔۔

۔۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ