’یہ کام کرتے ہی مردوں پر جنسی درندگی سوار ہوجاتی ہے‘ سائنسدانوں نے لڑکیوں کو خبردار کردیا

’یہ کام کرتے ہی مردوں پر جنسی درندگی سوار ہوجاتی ہے‘ سائنسدانوں نے لڑکیوں ...
’یہ کام کرتے ہی مردوں پر جنسی درندگی سوار ہوجاتی ہے‘ سائنسدانوں نے لڑکیوں کو خبردار کردیا

  

لندن(نیوز ڈیسک) اکثر سننے میں آتا ہے کہ کسی اوباش نے شراب کے نشے میں دھت ہو کر کسی خاتون کو بے آبرو کر دیا۔ اس نوعیت کے جنسی جرائم اتنی کثرت سے سامنے آتے ہیں کہ یہ سوچنا فطری بات ہے کہ کہیں اس غلیظ مشروب کا جنسی درندگی کے ساتھ کوئی گہرا تعلق تو نہیں؟ سائنسدانوں نے اسی تعلق کے بارے میں جاننے کے لئے ایک تحقیق کی تو یہ بات ثابت ہوگئی کہ واقعی شراب نوشی کرنے والے مردوں کے دماغ پر جنسی جنون سوار ہو جاتا ہے اور وہ خواتین کو محض جنسی تفریح کا سامان سمجھنے لگتے ہیں۔ شراب نوشوں کی یہی شیطانی کیفیت انہیں خواتین کے خلاف جنسی جرائم پر آمادہ کرتی ہے۔ 

سائنسی جریدے ’سپرنگر‘ میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ شراب نوشی اور خواتین کو جنسی تفریح کا سامان تصور کرنے کے درمیاں گہرا تعلق ہے جسے پہلی بار تجرباتی تحقیق سے ثابت کیا گیا ہے۔اس تحقیق میں 20 سال سے زائد عمر کے 49 مردوں کو شامل کیا گیا، جن میں سے 29 کو پینے کے لئے شراب کے دو جام دئیے گئے جبکہ باقی کو ایک ایسا مشروب دیا گیا جو بظاہر دیکھنے میں تو شراب ہی نظر آتا تھا لیکن دراصل نشے سے پاک تھا۔ ان تمام مردوں کو مشروبات پلانے کے بعد نوجوان خواتین کی 80 تصاویر دکھائی گئیں جن میں وہ معمول کے لباس پہنے ہوئے تھیں۔ مردوں سے کہا گیا کہ وہ ان خواتین کے حلیے اور شخصیت کے متعلق اپنی رائے دیں۔ اس دوران ’آئی ٹریکنگ ٹیکنالوجی‘ کے ذریعے اس بات کو نوٹ کیا گیا کہ مرد ان تصویروں کو دیکھتے ہوئے خواتین کے جسم کے کس حصے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ 

تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جن مردوں کو شراب پینے کے لئے دی گئی تھی وہ خواتین کے چہرے کی بجائے جسم کے پوشیدہ حصوں کی جانب دیکھتے رہے۔ انہوں نے اپنی آراء میں خواتین کے چہرے، مسکراہٹ، لباس، اعتماد اور شخصیت جیسی باتوں کا ذکر کرنے کی بجائے صرف ان کی جنسی دلکشی کی بات کی۔ اس کے برعکس جن مردوں کو سادہ مشروب دیا گیا تھا ان کی زیادہ توجہ خواتین کے چہرے، لباس، مسکراہٹ اور اعتماد جیسی مثبت باتوں پر مرکوز رہی۔ انہوں نے اپنی آراء میں جنسی باتوں کا ذکر نہیں کیا یا بہت ہی کم کیا۔ 

تحقیق کی مصنف ابیگیل رائمر کا کہنا تھا کہ ’’شراب نوشی کے مردوں کی سوچ پر اثرات واضح طور پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ شراب نوشی کرکے وہ خواتین کی شخصیت کے دیگر پہلوؤں کی بجائے صرف جنسی پہلو کی جانب مائل ہوتے ہیں۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’شراب خانوں اور دیگر ایسی جگہوں پر خواتین کے ساتھ جنسی جرائم کی زیادہ شرح کے پیچھے بھی دراصل یہی وجہ ہے کہ شراب پی کر مردوں کے دماغ میں عورت کا تصور صرف جنسی تفریح کی چیز کے طور پر ابھرتا ہے۔‘

مزید : ڈیلی بائیٹس