موسم گرما کے پہناوے دھوپ میں رنگ کھلے

موسم گرما کے پہناوے دھوپ میں رنگ کھلے

ناصرہ عتیق

ایک طویل مدت کے بعد موسم اس بار اپنے معمول پر آیا ہے۔ مارچ میں خنکی کا احساس رہا اور اپریل کا آغاز معتدل شب و روز سے ہوا ہے۔ اب گرمی اپنا جوبن دِکھا رہی ہے۔ بہارکا پتہ ہی نہیں چلتا کہ کب آئی اور کب گئی۔ البتہ پھولوں کی نمائشوں کا انعقاد ہوتا ہے اور درختوں پر کھلی نئی کونپلیں نمو کا مژدہ دیتی ہیں۔ ماحول میں کبھی یاس اور کبھی خوشی کا احساس ملتا ہے جو طبیعتوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ آسمان کی وسعتوں میں چیلیں منڈلاتی رہتی ہیں اور گاہے بگاہے ان کی آواز آفتابی حدت سے بھرپور فضا میں ایک عجیب سا ردھم پیدا کرتی ہے۔ دن کی روشنی اس قدر خیرہ کُن ہوتی ہے کہ گہرے رنگ آنکھوں کو چبھتے ہیں اور ہلکے رنگوں میں عافیت محسوس ہوتی ہے۔ بس فیشن بھی رنگوں کے اُلٹ پھیر ہی سے ترتیب پاتا ہے اور خواتین کا انتخاب موسم سرما کے گہرے رنگوں سے موسم گرما کے ہلکے رنگوں کی جانب منتقل ہو جاتا ہے۔ لباس میں تراش خراش سے زیادہ اہمیت رنگوں کی ہے۔ رنگ دیکھنے والے کو ہی متاثر نہیں کرتے، بلکہ پہننے والے کی طبیعت پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دھیمے اور ہلکے رنگ احساسات پر گراں نہیں گزرتے اور روح کو فرحت اور شادمانی عطا کرتے ہیں۔

پہناووں کے مختلف برانڈ اپنے اپنے ڈیزائن لئے مارکیٹ میں آ رہے ہیں۔ الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا کے علاوہ ہورڈنگز اور بل بورڈز پر خاتون ماڈلوں نے دیدہ زیب ملبوسات کے ساتھ یلغار کر رکھی ہے۔ برانڈ والے ان تمام اصول و ضوابط سے مستفید ہوتے ہیں جو کارپوریٹ بزنس کے وضع کردہ ہیں۔ برانڈڈ ملبوسات کے بڑھتے ہوئے رجحان کے باوجود درزیوں کی اہمیت اور ضرورت میں کمی واقع نہیں ہوئی۔ یوں بھی ہماری خواتین میں لباس کے معاملے میں خاصی جمالیاتی حِس موجود ہے۔ لباس سے متعلق ان کی پسند ان سارے تقاضوں پر پورا اترتی ہے جو لباس کی دلکشی اور جاذبیت کے ضامن ہوتے ہیں۔خواتین کو بخوبی علم ہوتا ہے کہ انہوں نے کیا پہننا ہے۔ کپڑوں کے رنگ اور ڈیزائن سے لے کر اس کی تراش خراش اور حتمی صورت تک، یعنی تکمیل کے سبھی مراحل میں، وہ اپنی خداداد صلاحیتوں سے کام لیتی ہیں۔ درزی وہی ہنر مند مانے جاتے ہیں جو اپنے گاہکوں کی توقعات پر پورا اتریں اور لباس ان کی شخصیت کے عین مطابق تیار کریں۔ البتہ کام میں تاخیر ان کی پیشہ ورانہ عادت ہے۔ اپنے گاہکوں کو پھیرے ضرور لگواتے ہیں۔ لیکن ہمت ہے خواتین کی کہ وہ اپنے ملبوسات تقریبات کے انعقاد سے پہلے پہلے حاصل کر لیتی ہیں۔

وطن عزیز میں دیگر ملکوں کی طرح فیشن شو اور ریمپ واک مقبولیت حاصل کر رہے ہیں۔ ڈیزائنر مغربی اور مشرقی لباس کے امتزاج سے پہناووں کے ایسے ڈیزائن تخلیق کرتے ہیں جنہیں وہ جدت اور اپنی ذہنی بالیدگی قرار دیتے ہیں۔ اگرچہ یہ بات وہ بخوبی جانتے ہیں کہ فیشن شو میں حصہ لینے والے ماڈل جن ملبوسات کی نمائش کرتے ہیں، عام زندگی میں انہیں پہن کر بازاروں میں یا سڑکوں پر نکلا نہیں جا سکتا۔ افسوس اس بات کا ہے کہ فیشن ڈیزائنر ملکی و سماجی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہیں نہ اپنے لوگوں کی پسند و ناپسند کا خیال رکھتے ہیں۔ دیکھا جائے تو فیشن شو کو زمینی حقائق سے ہم آہنگ ہونے میں ابھی وقت لگے گا۔

ہماری خواتین موسم کے بدلتے ہی اپنے ملبوسات میں تبدیلی لے آتی ہیں۔ موسم بہار کے فوری بعد گرمیاں شروع ہو جاتی ہیں اس لئے گرمیوں کے پہناووں کی تیاریاں، سردیاں ختم ہوتے ہی شروع ہو جاتی ہیں۔ شلوار قمیض کے ساتھ ساتھ اب ایسے ملبوسات بھی پہنے جا رہے ہیں جو اگرچہ اجنبی دکھائی دیتے ہیں لیکن آرام دہ، سُبک اور کام کاج میں آسانیاں پیدا کرنے والے ہیں۔ اب پہناوا جگ بھاتا نہیں بلکہ من بھاتا ہے، پہننے والا اپنی سہولت اور آسودگی دیکھتا ہے۔

بہرحال لباس کچھ بھی ہو، عورت کی زیب و زینت ہے۔ لہٰذا اسے ان اصول و ضوابط ہی کے تابع رہنا چاہیے جو ہمارا نظریہ ء حیات ہمیں سکھلاتا ہے۔ لباس ایسا ہونا چاہیے کہ جس سے شخصیت کو چار چاند لگیں۔ ایسا نہیں کہ شخصیت پر حرف آئے اور لباس اور اس کا پہننے والا دونوں مذاق بن جائیں۔

اگلے ماہ گرمیوں کے موسم ہی میں رمضان المبارک کی آمد ہے۔ موسم کی سنگینی کے پیش نظر جس طرح پانی کا استعمال ضروری ہے، اسی طرح آرام دہ، ہوا دار اور ہلکے رنگوں والے ملبوسات کا استعمال بھی ضروری ہے۔ جن خواتین اور لڑکیوں نے کام کاج کی غرض سے بازار کے لئے نکلنا ہے ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ ایسے کپڑوں کو ترجیح دیں جو موسم کی سختی کا سامنا کر سکیں اور کسی قسم کے تردّد اور کوفت کا باعث نہ بنیں۔ ہر موسم کا اگرچہ اپنا رنگ اور مزاج ہے مگر گرمیوں کا موسم ایسا ہے کہ کپڑوں کے انتخاب میں تنوع مل جاتا ہے اور تنوع ہی سے نہ صرف ذات بہتری محسوس کرتی ہے ، بلکہ پورا ماحول دھنک رنگ ہو جاتا ہے۔ دھیمے رنگوں کے دلکش پہناوے ہر سو اپنی آن دکھاتے اور نگاہوں کو بھاتے ہیں۔ موسم کی حدت اور تپش کا احساس قدرے کم ہو جاتا ہے۔ موسم کی تبدیلی گو فطرت کی ایک ناگزیر تبدیلی ہے، تاہم اس کے تقاضوں کی تابع رہیں گے تو بہت سی پریشانیوں سے محفوظ رہیں گے۔

مزید : ایڈیشن 1