آئی ایم ایف سے ’’اصولی اتفاق‘‘

آئی ایم ایف سے ’’اصولی اتفاق‘‘

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات اصولی طور پر طے پاگئے ہیں۔ عالمی مالیاتی ادارے کا وفد ماہ رواں کے آخری ہفتے میں پاکستان آئے گا۔ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے فوراً بعد عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے فنڈ ملیں گے جس کے بعد زرمبادلہ کے ذخائر پر 2016ئسے جاری دباؤ کم ہو جائے گا اور ذخائر بھی بڑھیں گے۔ آئی ایم ایف پروگرام لینے کے بعد کیٹیل مارکیٹ کی حالت بہتر ہوگی اور معاشی استحکام نظر آئے گا۔ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں بریفننگ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف سے طے پانے والی شرائط سے عام آدمی متاثر نہیں ہوگا اور نہ ہی مہنگائی بڑھے گی۔ آئی ایم ایف کے ساتھ 6سے 8ارب ڈالر کا معاہدہ ہوگا۔ ساڑھے سات ارب ڈالر عالمی بینک سے آئیں گے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک سے آنے والی امداد اس کے علاوہ ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کا بجلی کی قیمتیں بڑھانے کا ارادہ نہیں ہے، سی پیک کے حوالے سے تفصیلات آئی ایم ایف کو اکتوبر میں دے چکے ہیں۔ گزشتہ حکومت کے چھوڑے ہوئے مالی خسارے کے باعث سخت اقدامات اٹھانا پڑ رہے ہیں، ملکی معیشت میں بہتری سے متعلق حکومتی اقدامات سے عوام پر بوجھ بڑھے گا۔ مسلم لیگ (ن) نے جن اشیا کی قیمتیں نہیں بڑھائیں وہ مہنگی کرنی پڑیں گی۔

وزیرخزانہ کی تازہ ترین بریفننگ سے اتنا اندازہ تو ضرور ہو جاتا ہے کہ آئی ایم ایف کے درِ دولت پر پاکستان نے جو دستک دی تھی اس کا جواب آنے والا ہے اور اسی ماہ کے آخری ہفتے میں جو وفد پاکستان میں قدم رنجہ فرمائے گا اس کے ساتھ معاملات بالآخر طے پا ہی جائیں گے۔ البتہ وزیرخزانہ نے پیکج کی رقم ابھی تک حتمی طور پر نہیں بتائی۔ بس اتنا فرمایا ہے کہ یہ پیکج 6 سے 8ارب روپے تک ہوسکتا ہے۔ جب سے آئی ایم ایف کے پاس جانے کی باتیں ہو رہی تھیں حکومت محتاط انداز میں آگے بڑھ رہی تھی اور بعض اقدامات بھی ’’رضاکارانہ طور پر‘‘ آئی ایم ایف کے مطالبے کے بغیر ہی اٹھا لئے تھے، ممکن ہے آئی ایم ایف ایسے ہی اقدامات کا مطالبہ کرتا جو ہم پہلے ہی پورے کر چکے ہیں۔ کیونکہ اس معاملے میں وزیراعظم کا ایک انتہائی سخت موقف راہ روکے کھڑا تھا۔ وہ کسی وقت ترنگ میں کہہ چکے تھے کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کی بجائے خودکشی کرلوں گا، لیکن تلخ معاشی حقائق نے انہیں شاید اس سلسلے میں بھی یوٹرن لینے پر مجبور کردیا ہے۔ ویسے تو لطف کی بات یہ بھی ہے کہ انہوں نے یوٹرن کے بارے میں یہ حکیمانہ اور مثالی موقف اختیار کرلیا ہے کہ وہ لیڈر ہی نہیں جو یوٹرن نہ لے۔ اس لئے اب وزیراعظم عمران خان کسی بھی معاملے میں جتنے بھی یوٹرن لیں یا جتنے بھی موقف تبدیل کریں لیڈر تو بہرحال وہ رہیں گے، اور کوئی ان کی اس حیثیت کو چیلنج کرنے کا نہیں سوچے گا۔

آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکج ملنے کے بعد زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ تو کم ہوگا اور حکومت کو غیر ملکی کرنسی میں جو ادائیگیاں کرنی ہیں اس کے لئے بھی زرمبادلہ کے ذخائر دستیاب ہوں گے، یہ بھی ممکن ہے کہ اس ضمن میں حکومت پیکج کے بعد وقتی طور پر سکھ کا سانس لے، لیکن اسد عمر نے جو یہ کہا ہے کہ اس معاہدے سے’’ عام آدمی‘‘ متاثر نہیں ہوگا۔ معلوم نہیں آنے والا وقت ان کی اس یقین دہانی کو کس شکل میں سامنے لاتا ہے لیکن اگر ماضی کا تجربہ کوئی دلیل ہے تو ہر (اچھی یا بری) حکومت ہمیشہ ایسی ہی باتیں کرتی رہی ہے۔ اس لئے اگر اب اسد عمر صاحب بھی عام آدمی کو پیکج کے اثرات سے محفوظ رکھنے یا رہنے کی بات کر رہے ہیں تو کوئی نئی بات نہیں کر رہے، ماضی کا آموختہ ہی دہرا رہے ہیں، ہر حکومت کے وزیرخزانہ نے قیمتیں بڑھاتے وقت ہمیشہ یہی کہا کہ اس سے عام آدمی متاثر نہیں ہوگا لیکن موجودہ حکومت کے عہد ہمایونی میں قیمتیں جس تیز رفتاری سے بڑھی ہیں اور عام آدمی جس بری طرح متاثر ہوا ہے اس کے اثرات اتنے بد یہی اور واضح ہیں کہ محاورے کے مطابق اندھوں کو بھی نظر آتے ہیں ۔

ابھی زیادہ دن نہیں گزرے دو وفاقی وزراء اور ایک مشیر یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے مہنگائی بڑھی ہے۔ اب کوئی جو بھی کہہ لے مہنگائی سے سب سے زیادہ متاثر تو ہوتے ہی غریب عوام ہیں جن کی آمدنی کے ذرائع پہلے ہی محدود ہوتے ہیں اگر وہ محدود تر ہو جائیں اور اشیا کی قیمتیں بڑھتی چلی جائیں تو غریب ہی زیادہ متاثر ہوں گے۔ امیروں کو تو زیادہ فرق نہیں پڑے گا اور جن کی آمدنیاں لامحدود ہیں یا جن کے پاس الہ دین کے ایسے چراغ ہیں جنہیں رگڑتے ہی وہ جن نمودار ہو جاتے ہیں جو چراغ کے مالک کے سامنے دولت کے ڈھیر لگا دیتے ہیں، قیمتیں جتنی بھی بڑھ جائیں انہیں تو زیادہ فرق نہیں پڑتا، فرق اگر پڑے گا تو اس شخص کو پڑے گا جس کی آمدنی محدود ہے اور روزگار بھی غیر یقینی ہے، دہاڑی دار مزدور تو اس سے بہت زیادہ متاثر ہوتا ہے جس کو یقین ہی نہیں ہوتا کہ اسے آج مزدوری ملے گی بھی یا نہیں۔ اگر مل جائے تو وہ اپنی محدود آمدنی سے روٹی پانی کا معمولی بندوبست کرسکتا ہے۔ اگر یہ بھی نہ ملے تو فاقوں کے سوا کیا چارہ رہ جاتا ہے، لیکن اسد عمر کی حکومت کا کمال اور اعزاز یہ ہے کہ اس نے غریبوں کو غریب تر تو کیا ہی ہے۔ اچھے اچھوں کو برُے وقت کا سامنا کرنے پر مجبور کر دیا ہے اور معقول آمدنی رکھنے والوں کی کمائی اس عہد میں اگر لٹ نہیں گئی تو مہنگائی کے طوفان میں بگولوں کی طرح اڑ ضرور گئی ہے اور انہیں جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھنے کے لئے اب پہلے سے زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ خطِ غربت سے لاکھوں لوگ نیچے لڑھک گئے ہیں اور مزید لڑھکتے چلے جارہے ہیں۔

بہت سے ماہرین معیشت جو حکومت کی ٹاسک فورس کا حصہ ہیں اب بھی کہہ رہے ہیں کہ حکومت کو بہت پہلے آئی ایم ایف کے پاس چلے جانا چاہئے تھا۔ تاخیر کے ساتھ ایسا فیصلہ کرنے کا حکومت کو نقصان ہوا ہے اور دوست ملکوں سے نسبتاً مہنگی شرح سود پر جو رقوم زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کے لئے حاصل کی گئی ہیں ان سے بھی متوقع نتائج نہیں نکلے۔ سعودی عرب اور چین سے تو وعدے کے مطابق رقوم مل گئی ہیں، یو اے ای نے 3ارب ڈالر تو دے دیئے البتہ ادھار تیل دینے سے معذرت کرلی ہے اور وجہ غالباً پاکستان کی وہ پالیسی بنی ہے جو اس نے بھارت کو او آئی سی کے اجلاس میں مدعو کرنے کے سلسلے میں اپنائی، اور جب وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا تو میزبان ملک نے غالباً اسے اپنی ہتک پر محمول کیا اور جواب میں ادھار تیل دینے سے انکار کردیا جس کا پہلے وعدہ کر لیا گیا تھا۔ اس پر پاکستان کی حکومت خاموش ہے اور معلوم نہیں آئندہ اگر بھارت کو او آئی سی کا رکن بنانے کے ضمن میں کوئی پیش رفت ہوتی ہے تو اس وقت پاکستان کیا پالیسی اپناتا ہے، لیکن اس سے یہ تو ثابت ہوگیا کہ کشکول اٹھانے والوں کے سامنے امکانات کی دنیا محدود ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت ناں ناں کرکے آئی ایم ایف کے دروازے پر جا پہنچی اور کوئی دن جاتا ہے اس معاملے کا باقاعدہ کریڈٹ لیا جائے گا کہ ہم نے آئی ایم ایف سے ’’اپنی شرائط‘‘ پر قرضہ حاصل کیاہے۔ اتنے پاپڑ بیلنے اور چھ ماہ کے انتظار کے بعد حکومت اگر اتنا بھی نہ کرے تو آخر کیا کرے؟

مزید : رائے /اداریہ