پاکستان میں جمہوریت کی ناکامی کی وجوہ

پاکستان میں جمہوریت کی ناکامی کی وجوہ
 پاکستان میں جمہوریت کی ناکامی کی وجوہ

  



پاکستان بنیادی طور پر غیر جمہوری ملک ہے۔ گو کہ کبھی کبھار جمہوریت بھی ہنی مون کے دن گزارنے آجاتی ہے، لیکن وہ بھی زیادہ تر شخصی حکومت ہوتی ہے، کیونکہ کسی بھی سطح پر اجتماعی فیصلے ہوتے ہیں، نہ مشاورت کا کوئی طریقہ کار ہے۔ جماعت اسلامی کے سوا تمام سیاسی جماعتیں شخصیات کی مرہون منت ہیں۔ بھٹو کا نام ہٹا دیا جائے تو پیپلزپارٹی ختم، شریف خاندان مستقل طور پر جدہ یا لندن چلا جائے تو مسلم لیگ نون کی سیاست ٹھنڈی، ایم کیو ایم کے بانی کے خاموش ہونے سے 70% ایم کیو ایم فارغ، مولانا فضل الرحمن سیاست چھوڑ دیں تو جمعیت علماء اسلام کہیں نظر نہ آئے گی۔ عمران خان کے بغیر پی ٹی آئی لہو لہان ہو جائے گی۔

جمہوری نظام میں حکومت ایوانوں کے سامنے جوابدہ ہوتی ہے۔ وزیراعظم اور وزراء اسمبلی ممبران کے سامنے نوکروں کی طرح کھڑے ہو کر سوالوں کے جوابات دیتے ہیں۔ ہر وزیر اپنے محکمے کے ہر عمل کا جوابدہ ہوتا ہے، لیکن ہمارے ہاں اول تو وزیراعظم اور وزراء4 ایوانوں میں آنا ہی اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ اگر کبھی آ ہی جائیں تو سوالوں کے جوابات نہیں دیتے۔ پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے کچھ ہی عرصہ بعد جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ شروع ہو گیا تھا۔ آخر کیا وجہ ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کا پودا تناور درخت نہیں بن رہا، اس پودے کے جب بھی برگ و پھول نکلنے لگتے ہیں۔ نیچے سے اس کی جڑ کاٹ دی جاتی ہے۔ یا یوں سمجھ لیں کہ وقفے وقفے سے اس پودے کو اکھاڑ کر دیکھا جاتا ہے کہ اس کی جڑیں کہاں تک پہنچی ہیں۔

پاکستانی عوام کے مزاج ہی جمہوری نہیں ہیں۔ ایک طرف جسے دیکھو سیاست پر بھاشن دینے کی کوشش کر رہا ہوگا/ گی، لیکن دوسری طرف اس کے اندر ایک ڈکٹیٹر یا مفاد پرست سیاستدان ہوگا۔ پاکستان میں باقاعدہ سیاسی تربیت کا کوئی نظام ہے۔ نہ وہ جمہوری مزاج ہے، جس میں بامقصد سیاسی اور جمہوری مکالمہ ہو سکے، دوسروں کی رائے کا احترام کیا جائے، اپنے نقطہ نظر کو دلیل کے ساتھ پیش کیا جائے۔ ایک اور بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں یہ سوچ راسخ ہو گئی ہے کہ سیاست میں حصہ لینے کے لیے طاقتور ہونا اور سرمایہ یا جاگیردار ہونا لازمی ہے۔ چہ جائیکہ بندہ باصلاحیت ہو، سیاسی کارکن ہو اور دوراندیش ہو۔

ایک اور وجہ یہ کہ برصغیر کئی صدیوں سے بیرونی جارحیتوں کا شکار اور مفتوح علاقہ رہا ہے۔ اور اس خطے پر بادشاہت اور شخصی حکومتیں قائم رہی ہیں۔ جنہوں نے طاقت کا مرکز اپنے پاس رکھ کر بیوروکریسی کے ذریعے حکومت کی اور عوام میں سیاسی نظام اور جمہوری سوچ کو پروان نہیں چڑھنے دیا اور پھر پاکستان بنتے ہی جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے نرغے میں چلا گیا۔ اور عوام کا حکومتوں سے بتدریج اعتماد اٹھتا چلا گیا اور عوام بھی اپنے مفادات کے زیر اثر سیاسی فیصلے کرنے لگے۔

اب صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے۔ کہ سیاستدانوں کی اکثریت سیاست کو روزگار سمجھ کر سیاست کر رہی ہے۔ اور عوام کی بہت بڑی اکثریت صرف اپنے ذاتی اور وقتی فائدوں کے زیر اثر حمایت کرتے یا ووٹ دیتے ہیں۔ اب انتخابات میں حصہ لینے کے لیے کروڑوں روپیہ خرچ کرنا پڑتا ہے، کیونکہ انتخابات کا موسم آتے ہی مفاد پرست میدان میں آ جاتے ہیں۔ اب جسے دیکھو وہ سیاسی راہنماؤں کے سامنے اپنے ذاتی مفادات کی چادر پھیلائے بیٹھا ہوتا ہے۔ کوئی کسی راہنما کی صلاحیتوں کو دیکھتا ہے۔ نہ اس کی ایمانداری کو، ان کی سوچ کو دیکھتا ہے نہ سچائی کی قدر کرتا ہے۔ ہر کوئی یہی دیکھتا ہے کہ میرے مفادات کی گٹھڑی کا وزن کون بڑھائے گا۔ کوئی قومی مفاد دیکھتا ہے نہ قومی سوچ پیدا کرتا ہے۔

جمہوری ادوار مختصر ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ لوگ اپنے منتخب کردہ سیاسی نمائندوں اور حکومتوں کو وقت دینے اور صبر کرنے سے مکمل طور پر عاری ہو چکے ہیں۔ اور حکومتوں کے بنتے ہی ہتھیلی پر سرسوں جمانے کی خواہش کرتے ہیں۔ جو ناممکن ہوتا ہے، کیونکہ سرسوں پیدا کرنے کے لیے زمین کو ہموار کرنے، اس کو مناسب پانی لگانے اور فصل کو پکنے کے لیے مناسب وقت درکار ہوتا ہے۔

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ جمہوریت کی بقاء اور ملک کی مضبوطی کیلیے مشکل فیصلے لئے جائیں اور عوام کو اعتماد میں لیا جائے۔ عوام کے سامنے ایمانداری سے حقیقی صورتحال رکھی جائے، تاکہ عوام صبر کریں اور جمہوری حکومت کو وقت دیں۔ سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ جماعتوں کے اندر جمہوری سوچ کو پروان چڑھائیں اور اپنی جماعتوں کے اندر حقیقی معنوں میں انتخابات کروا کر سیاسی کارکنوں کی کھیپ پیدا کریں۔ جو آگے چل کر اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہوں۔

مزید : رائے /کالم


loading...